English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کچے کا پکا سسٹم اور ہماری پولیس

تحریر سالک شاہ

یہ بات سال 2014 کی ہے کراچی کے سینٹرل ہولیس آفس میں ایس ایس پی چوہدری اسلم کی شہادت کے بعد سندھ پولیس کا اعلی سطح ہنگامی اجلاس بلایا گیا تھا۔ چوہدری اسلم کی شہادت کے فوراً بعد ہونے والے اس اجلاس کا ماحول انتہائی سوگوار تھا چوہدری اسلم دہشت گردوں کے خلاف فرنٹ لائن پر لڑنے والی سندھ پولیس کی شناخت بن چکے تھے۔
دن رات چوہدری اسلم کو مختلف انٹرنیشنل نمبروں سے دھمکیاں دی جاتی تھیں لیکن چوہدری اسلم ان دھکمیوں سے کبھی مرعوب ہوئے اور نا جھکے۔ ان کی شہادت سندھ پولیس کے لئے بہت بڑا دھچکا تھی۔ اس حملے کی ذمہ داری تحریک طالبان پاکستان نے قبول کی۔ اجلاس میں دہشت گردوں کو انہی کی زبان میں جواب دینے کی بات کی گئی۔

اس وقت کے سی سی پی او کراچی شاہد حیات نے اجلاس کے شرکاء کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہم نے ان دہشت گردوں کو چوہدری اسلم کی تدفین اور کل کا سورج طلوع ہونے سے پہلے شہادت کا جواب دینا ہے ۔ایک تو چوہدری اسلم کی شہادت کا غم تھا تو دوسری جانب ایک انجانا سا خوف بھی پولیس کے اعلیٰ افسران نے پایا جارہا تھا۔ کوئی بھی پولیس افسر دہشتگردوں کی ہٹ لسٹ میں نہیں آنا چاہ رہا تھا۔
ایڈیشنل آئی جی کراچی شاہد حیات نے اس وقت وہاں موجود تمام افسران کو غیرت دلاتے ہوئے کہا کہ ہمارا ایک بہادر افسر ان دہشت گردوں نے شہید کردیا ہے اور افسوس یہ ہے کہ اب ان دہشتگردوں کو للکارنے والا چوہدری اسلم کے بعد کوئی نہیں رہا۔ جس کے بعد میٹنگ میں شریک اس وقت کے ایس ایس پی ملیر ناصر آفتاب نے ایڈیشنل آئی جی کراچی سے کہا دہشت گردوں کو جواب دینے کے لیے آپ مجھے حکم کریں کیا کرنا ہے؟ ۔۔ جس کے بعد چوہدری اسلم کی تدفین سے پہلے دہشتگردوں کےتین ساتھیوں کو ایک مبینہ مقابلے میں ناصر آفتاب کی ٹیم نے” پار” لگاکر خوف کے اس بت کو توڑا جو دہشتگرد چوہدری اسلم کی شہادت کے بعد پولیس پر قائم کرچکے تھے۔ یہ ساری بات مجھے گزشتہ دنوں ڈی آئی جی لاڑکانہ ناصر آفتاب کی سربراہی میں شکار پور کے کچے کے پکے ڈاکوؤں کے خلاف جاری آپریشن کے تیسرے ہی روز تبادلے پر یاد آئی۔ اس وقت دہشتگردوں کو جواب دینے کا معاملہ تھا تو سندھ حکومت پولیس کی پشت پر موجود تھی لیکن آج اندرون سندھ کی سیاسی و مالی مفادات کی وجہ سے پولیس “تنہا اور بے بس ” ہوگئی ہے۔

ناصر آفتاب اپنے اہلکاروں کی شہادت کا بدلہ لینا چاہتے تھے. جس کا اعلان انہوں نے شہید اہلکاروں کے جنازے کے سرہانے کھڑے ہوکر کیا تھا۔ اس کے لئے انہوں نے آئی جی سندھ کو بھی بتادیا تھا کہ وہ اپنے اہلکاروں کی شہادت کابدلہ لیں گے ۔اس آپریشن میں کسی کی مداخلت تسلیم نہیں کریں گے۔ پولیس اہلکاروں کی شہادت کی رات سے ہی کچے میں کمانڈوز کو بھیجنے کی تیاری شروع ہوچکی تھی اور شکار پور کی اہم سیاسی شخصیت کو پیغام پہنچا دیا گیا تھا کہ پولیس اہلکاروں کو شہید کرنے والے گینگ کے سرغنہ اور ڈاکووں کو نہیں چھوڑا جائے گا جس کے بعد شکار پور کی اہم سیاسی شخصیت نے وزیراعلیٰ ہاؤس کو اس تمام صورتحال سے آگاہ کیا جس کے بعد اسی سیاسی شخصیت کے گھر پر مزاکرات اور اس شرط پر تیغو خان تیغانی اس کے بیٹوں اور قابل اعتماد ساتھیوں کو لاڑکانہ پولیس کے حوالے کیا گیا کہ وہ انہیں مقابلے میں “پار “نہیں لگائے گی۔

واقفان حال بتاتے ہیں کہ شکار پور کچے کے علاقے میں آپریشن شروع ہونے کے بعد اہم سیاسی شخصیت جس کی سیاست اور حیثیت ان کچے کے ڈاکوؤں کے مرہون منت ہے اس نے وزیر اعلی سندھ کے دورہ شکار پور کے دوران پولیس کے رویے کی شکایت کی کہ “پولیس بے رحمی سے ڈاکوؤں کو مار رہی ہے اور ان کے گھر مسمار کررہی ہے” اور ڈی آئی جی لاڑکانہ اور ایس ایس پی شکار پور میری بات نہیں سن رہے۔ بس یہ سن کر وڈے وزیر کو “پولیس کے ظلم و بربریت” پر غصہ آگیا اور چیف سیکریٹری کو حکم دیا کہ دونوں افسران کو فی الفور عہدوں سے ہٹا کر ایسے افسر کو لگایا جائے جو آپریشن کے ساتھ سیاسی مفادات کا تحفظ بھی کرے۔
شکار پور اور اس کے اطراف کی سیاست سیاسی ورکروں کے بجائے کچے کے ان پکے ڈاکوؤں کے مرہون منت ہے۔ سیاسی آشیر باد کی وجہ سے دن کے اوقات میں کچے کے ڈاکو شہر میں دندناتے پھرتے ہیں اور جسے چاہیں لوٹ لیں ، اغوا کریں یا جان سے ماردیں۔۔ اگر غلطی سے کسی بھی پولیس اہلکار کے دل میں یہ خیال آجائے کہ سیاست اور کچے کے ڈاکو کا گٹھ جوڑ عام شہریوں کو روند رہا ہے۔ وہ اہلکار یا افسر چند روز بعد مقابلے میں “شہید” ہوجاتا ہے۔


بدقسمتی سے شکارپور کی پولیس میں ایک ایسا نظام رائج ہے کہ جو شخص بھی سسٹم سے ہٹ کر چلے گا وہ مارا جائے گا ۔۔سال 2019 کے اگست کے مہینے میں اندرون سندھ کے مشہور گلوکار جگر جلال چانڈیو کے مبینہ اغوا کا کیس کسے یاد نہیں ۔۔جگر جلال کو ناپر کوٹ تھانے کی حدود سے سکھیو تیغانی اغوا کر کے خانپور کی تحصیل گڑھی تیغو لے گیا ۔۔ اس کیس کی حقیقت اور سچائی آپ جان جائیں تو شکار پور پولیس اور کچے کے ڈاکوؤں کا سسٹم آپ باآسانی سمجھ جائیں گے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جگر جلال چانڈیو اور اس کے ساتھیوں کو منصوبہ بندی کے تحت اغوا کیا گیا تھا ۔۔ جس کا مقصد “سسٹم” سے ہٹ کر چلنے والے ایک پولیس افسر کا کام لگانا تھا.. اور جگر جلال اور ان کے ساتھیوں کی بازیابی کے دوران ہونے والے “مبینہ مقابلے ” میں پولیس افسر کی “شہادت” کے بعد یہ منصوبہ کامیاب ہوگیا۔
کچے کے آپریشن کے دوران کمان کی تبدیلی نے لاڑکانہ پولیس کو یہ سبق ضرور سکھا دیا ہے کہ اگر زندہ رہنا ہے تو سسٹم میں رہنا ہوگا ۔ وڈیرہ شاہی، بیوروکریسی اور کچے کےڈاکوؤں کے خلاف جانے کی قیمت صرف ” شہادت کا رتبہ” یا تبادلہ ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے