`گزشتہ ایک دہائی یعنی 2011 سے سیاسی تجزیہ نگارمصر کو مشرق وسطٰی کے سیاسی کینوس سے باہر دیکھتے ہیں۔ وہی مصر جو کسی وقت عرب ممالک کی خارجہ پالیسی میں اہمیت کا حامل تھا اب بلکل ہی غیر متعلقہ ہوگیا ہے۔ عرب دنیا کی سب سبے زیادہ آبادی والا ملک مصر کا کردار مشرق وسطٰی کی سیاست میں سکڑ کر رہ گیا ہے کیونکہ اس وقت مصر کو پر طرف سے سرحدوں پر مسائل درپیش ہیں۔ تاہم گزشتہ چھ ماہ میں مصر کی جانب سے بعض میدانوں میں تیزی سے حرکت سے لگتا ہے کہ سفارتی سطح پر مصر ایک بڑی تبدیلی لانے والا ہے۔ لبیا سے لے کر سوڈان، غزہ، عراق، ترکی ، قطر اور امریکہ تک مصر کی خارجہ پالیسی میں کافی تبدیلیاں نظر آرہی ہیں۔ اس وقت مصر کی خارجہ پالیسی عرب امارات اور سعودی اتحاد کے نقش قدم پر چل رہی ہے ۔ چار عرب ممالک کی اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحالی کے سلسلےکے بعد بہت سارے تجزیہ نگاروں کا خیال تھا کہ مصر اب امن کے اس عمل میں زیادہ متعلقہ نہیں رہے گا کیونکہ کیمپ ڈیود معاہدے کے بعد مصر نے اپنی مغرب طاقتوں کے سامنے ہتھیار ڈال دیے تھے۔
گزشتہ ہفتے مصر نے کامیابی سے غزہ امن سیز فائر کی بنیاد رکھ کہ دنیا کی توجہ ایک مرتبہ پھر اپنی طرف مرکوزکر لی ہے۔ غزہ اسرائیل تنازع میں درحقیقت مصر ہی حقیقی فاتح بن کر سامنے آٰیا ہے۔ یہ دعوٰی کہ 42 سالہ معاہدہ مصر کا سب سے طاقتور اثاثہ ہے ہرگز درست نہیں ہے کیونکہ اول تو اس اسرائیل فلسطین تنازعے میں یہ مصر کی مضبوط موجودگی اور اعلی درجے کی سفارتی کووآرڈینیشن تھی جس کی وجہ سے خطے میں تناؤ میں کمی آئی اور دوسرا مصر کا اس تنازعے کے خاتمے میں کردار بہت اہم تھا جس کی وجہ سے امریکی صدر نے اقتدار میں آنے کے بعد سب سے پہلے اس تنازع کے لیے مصری صدری السسی کو فون کال کر کے تنازعے کے حل کی درخواست کی۔ امریکی صدر نے ایک ہفتے میں دو مرتبہ السیسی سے ٹیلی پر بات چیت کی اور بہت سارے تجزیہ نگاروں کے لیے یہ حیران کن بات تھی۔
دی گرینڈ ایتھوپین ری انسائینس ڈیم پر جاری کشیدگی اور اس کے خطرے کے پیش نظر، مصر نے اپنے پڑوسی ملک سوڈان کے ساتھ اپنے تاریخی تعلقات کا اعادہ کیا ہے ۔ سوڈان بھی اس ڈیم کی وجہ سے بری طرح متاثر ہوگا۔ حال ہی میں مصر اور سوڈان نے حال ہی میں گارڈین آف نیل کے نام سے مشترکہ فوجی مشقتیں کی ہیں جن کا مقصد دونوں ممالک کو درپیش خطرات کا مل کر مقابلہ کرنا ہے۔ اسی طرح عراق میں بھی اپنی موجودگی کو نمایاں کر رہے اور ملک کی تعمیر میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ جب کہ لیبیا میں اپنے طویل اتحادی عرب امارات کی نسبت مصر نے ایک مختلف پوزیشن اختیار کی ہے۔ فروری 2021 میں مصر نے لبییا کے قائم مقام صدر دبیبا کو اپنے ملک کی دعوت دی اور اسی سال اپریل میں مصری صدر 11 وزرا کے وفد کے ساتھ لیبیا کے دورے پر بھی روانہ ہوئے اور عرب بہار 2011 کے بعد یہ ان کا پہلا دور لیبیا تھا۔
دوطرفہ دوروں کے بعد لیبیا نے تریپولی میں مصر کو اپنا سفارت خانہ کھولنے کی اجازت دی اور اس کے ساتھ دونوں ممالک کے مابین براہ راست پروازوں کا عمل بھی شروع ہوگیا۔ مزید برآں مصر کے کارکنان بھی دوبار لیبیا کام پر لوٹ گئے اور دونوں ممالک نے باہمی یادداشت کے گیارہ منصوبوں پر بھی دستخط کیے جن میں انفراسٹرکچر، آئی ٹی، توانائی اور ٹرانسپورٹیشن کے منصوبے قابل ذکر ہیں۔ اس کے علاوہ السیسی نے اپنے خطی مخالفین ترکی اور قطر کے ساتھ بھی بعض سیاسی معاملات میں اپنی برتری ثابت ہے۔ 2013 میں مصری صدر محمد مرسی کی اقتدار سے بے دخلی کے بعد سے قطر اور ترکی کے مابین تعلقات انتہائی سرد رہے ہیں۔ ترکی نے اخوان المسلمین کے رہنماؤن کے پناہ دینے کے علاو ، السیسی کے خلاف مہم کے لیے السیسی کے مخالفین کو لانچنگ پیڈ بھی فراہم کیا۔ تاہم اب دونوں ممالک کئی سال کے تنازعے کو دفن کر کے مصرکے ساتھ تجدید تعلقات چاہتے ہیں۔
تین ہفتے قبل ، ایک ترکی وف نے مصر کے وزارت خارجہ کے حکام سے بات چیت کی ہے۔ جب کہ 26 مئی کو قطر کا ایک سفارتی وفد بھی قاہرہ پہنچا ہے جس نے مصری صدر عبدالفتح السیسی سے ملاقات کی۔ ایک دن بعد امریکی سیکرٹری خارجہ بلنکن نے بھی مشرق وسطیٰ کے دورے کے حصے کے طور پر قاہرہ کا دورہ کیا اور مصری صدر سے ملاقات کی۔ ان واقعات سے اندازہ ہوت اہے کہ مصر ایک مرتبہ خطے میں قیادت پسندانہ کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
اتوار، 30 مئی 2021
شفقنا اردو
ur.shafaqna.com
