موزمبیق کی اخباری رپورٹس کے مطابق یہ نکتہ انتہائی اہم ہے۔ ایک مشہور اخبار کے ایڈییٹر جوزف ہنلن نے اس امکان پر توجہ مرکوز کی ہے کہ فرانس شمالی موزمبین میں اپنی موجودگی کو بڑھا رہا ہے تاکہ وہ اس علاقے میں بڑھتی ہوئی دراندازی کے باجود اپنی آف شور سرمایہ داری کا تحفظ کر سکے۔اور اس کے لیے اس کا طریقہ کاریہ ہوگا کہ فرانس اور ٹوٹل یہ مطالبہ کریں گے کہ فرانس کی نیوی کیبو ڈیلگاڈو کے ساحلی پانیوں کا قبضہ انہیں دیاجائے اور پھر مستقبل میں شاید موزمبیق، جنوبی افریقن اور بھارتی نیوی مشترکہ پیٹرولز کے ذریعے اس علاقے کی نگرانی کریں گی۔
اگر ان دونوں ممالک کو یعنی بھارت کی موجودہ نگرانی کو فرانس اور جنوبی افریقہ کی مشترکہ نگرانی اور شمالی اگالیگا خطے میں بھارتی چھاؤنیوں کی توسیع کو سامنے رکھا جائے تو ہنلن کی پیشن گوئی درست ثابت ہوسکتی ہے۔ بھارت کو سنجیدہ طورپر فرانس کے ساتھ ملک کر سہ رخی میری ٹائم مشن کا حصہ بننا چاہیے اور خاص طور پر شمالی موزمبیق میں۔ اس خطے میں حالیہ دراندازی جسے امریکہ نے آئی ایس آئی ایس سے جوڑا ہے ، کچھ عرصے سے مزید تیز ہوگئی ہے۔ اس لیے بھارت کو اپنی چھاؤنی کی توسیع کے عمل کو روک کر پہلے اس خطے میں بڑھتی دراندازی پر غور کرے۔ تاہم یہ بات تو طے ہے کہ شمالی اگالیگا کی چھاؤنی یقینا کسی فوجی مقصد کے لیے ہے نہ کہ محض کسی شان و شوکت کے لیے۔ لوی انسٹیٹیوٹ کی رپورٹ میں یہ دعوٰی کیا گیا ہے کہ ماریشس میں یہ سہولت بھارت کے نئے بحری بیٹرے پی 8 کے یے بہت اہمیت کی حامل ہے جس نے حال میں فرانس کے ساتھ مل کر مشترکہ پیٹرولنگ کی ہے۔ یہاں اس بات کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ اس رستے کے ذریعے بھارت جنوبی افریقہ کی آبی گزرگاہوں پر بھی نظر رکھ سکے گا جو کہ چین کی توانی کی برآمدات کے اہم رستے ہیں۔ اور یہ بھارت کو جاسوسی کےلیے بہترین مقام فراہم کرے گی۔
اس طرح بھارت کی اگالیگا میں فوجی موجودگی اسے نہ صرف فرانس کی فوجی نقل و حرکت سے آگاہ رکھے گی بلکہ سرحدی علاقے میں چین کی نیول سرگرمیوں سے بھی بھارت کو آگاہی ملتی رہے گی۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی طے ہے کہ بھارت افریقہ کہ اس خطے میں خفیہ معلومات کے عمل کو دوگنا بڑھانا چاہتا ہے اور اس کا بڑا اور واضح مقصد چین پر نظر رکھنا ہے جس کی بڑی وجہ چین کے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبے کی وسعت ہے۔ اگرچہ یہ بات بھی اہم ہے کہ اس سے قبل بھارت نے اس خطے میں جاپان کے ساتھ مل کر 2016 میں ایشیا افریقہ گروتھ کوریڈور کی بنیاد رکھی تھی لہذا چین پر فوجی مقاصد کے لیے نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ بھارت کا ایک مقصد اس خطے میں چین کی معاشی سرگرمیوں کو زک پہنچانا بھا تھا۔ اگرچہ یہ پروجیکٹ تاحال آگے نہیں بڑھ سکا اور چین کا بیلٹ اینڈ روڈ منصوبہ کواڈ ممبرز کی نااہلی کی وجہ سے آگے بڑھ چکا ہے مگر پھربھی جاپان اور بھارت نے افریقہ کے انفراسٹرکچر سیکٹر میں اپنی موجودگی کا اظہا کر دیا ہے۔
لداخ تنازعے کے بعد بھارت یہ سوچنے پر مجبور ہوگیا ہے کہ اسے چین کا رستہ مختلف جگہوں سے روکنا ہوگا ۔ چونکہ بھارت اپنے بین الاقوامی مسائل کا سہ رخی حل چاہتاہے اس لیے وہ ممکنہ طور پر چین کے خلاف یہ کوششیں فرانس ، امریکہ اور ممکنہ طور پر عرب امارات کے ساتھ مل کر کرے۔ تمام تجزیات سے یہی بات ثابت ہوتی ہے کہ شمالی اگالیگا میں بھارت کی چھاؤنی کا پہلا اور اولین مقصد اس خطے میں چین کی سرگرمیوں پر نظر رکھنا ہے اور چین کے خلاف تمام ممکن خفیہ معلومات کو اکٹھا کرنا ہے۔ اس لیے اس بات کا قوی امکان ہے کہ بھارت اس مقصد کے لیے امریکہ، عرب امارات اور فرانس کے ساتھ مل کر اس خطے میں جاپان کی مدد سے اقتصادی سرگرمیوں کے علاوہ فوجی سرگرمیاں جاری رکے گا۔
پیر، 31 مئی 2021
شفقنا اردو
