معروف صحافی حامد میرکا پابندی لگائے جانے کے بعد پہلا بیان سامنے آگیا ہے۔
سینئر صحافی حامد میر کا کہنا ہے کہ میرے لئے کوئی نئی بات نہیں۔ ماضی میں دو بار مجھ پر پابندی عائد کی گئی ۔ مجھے دو دفعہ نوکری سے نکالا گیا، مجھ پہ قاتلانہ حملے ہوئے مگر کوئی مجھے آئین میں دیئے گئے حقوق کے لئے آواز اٹھانے سے نہیں روک سکتا۔
حامد میر نے کہا کہ اس وقت میں کسی بھی نتائج کے لئے تیار ہوں اور کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہوں کیونکہ وہ میرے اہل خانہ کو دھمکیاں دی جارہی ہیں۔
Nothing new for me.I was banned twice in the past.Lost jobs twice.Survived assassination attempts but cannot stop raising voice for the rights given in the constitution.This time I m ready for any consequences and ready to go at any extent because they are threatening my family. https://t.co/82y1WdrP5S
— Hamid Mir (@HamidMirPAK) May 31, 2021
چند لمحے قبل حامد میر نے ایک ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا تھا کہ ’مولانا ظفر علی خان اور شورش کاشمیری بننا بہت مشکل ہے لیکن مولانا زاہد الراشدی کے الفاظ کا شکریہ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کی ہمت عطا فرمائے آمین‘
مولانا ظفر علی خان اور شورش کاشمیری بننا بہت مشکل ہے لیکن مولانا زاہد الراشدی کے الفاظ کا شکریہ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں ظلم کے خلاف کھڑا ہونے کی ہمت عطا فرمائے آمین https://t.co/uqCnAFmUyc
— Hamid Mir (@HamidMirPAK) May 31, 2021
سینئر صحافی منیزے جہانگیر کا کہنا ہے کہ حامد میر پر پابندی ان تمام لوگوں کے منہ پر طمانچہ ہے جو کہتے ہیں کہ پاکستان میں میڈیا آزاد ہے، انہوں نے مزید لکھا کہ وہ پاکستان کے بہت بڑے اینکر اور صحافی ہیں اور انہیں صحافیوں پر ہونے والے تشدد کے خلاف آواز اٹھانے پر نشانہ بنایا جارہا ہے۔ انہوں نے افسوس کا اظہار کیا جیو نیوز ہار مان گیا۔
The ban on @HamidMirPAK is a slap on those who profess to have a free media in Pakistan.Mir is undoubtedly the most popular tv anchor of Pak he is being punished for speaking out against attacks on journalists.Sad that @geonews_urdu succumbed. #JournalismIsNotACrime #hamidmir
— Munizae Jahangir (@MunizaeJahangir) May 31, 2021
صحافی عاصمہ شیرازی کا کہنا تھا کہ حامد میر کو سکرین سے ہٹا کر اور ان کا پروگرام بند کر کے طاقتور اسٹیبلشمنٹ اور حکومت پر انگلیاں اٹھیں گی جو الفاظ حامد میر نے کہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام صحافی حامد میر کے ساتھ کھڑے ہیں، جیو نیوز کو اس ضمن میں اپنی پوزیشن واضح کرنا ہوگی۔
If @HamidMirPAK is taken off air or banned from doing program on #GeoNews, more fingers will point towards the powerful establishment the government while resounding the “words that he said”. Journalists of Pak stand with #HamidMir #Geo management must clarify its position.
— Asma Shirazi (@asmashirazi) May 31, 2021
سینئر صحافی غریدہ فارقی نے لکھ کہ تا حال جیوانتظامیہ نےکوئی وجہ نہیں بتائی۔ جیوانتظامیہ کوواضح کرناہوگاکہ حامدمیرپرپابندی کیوں لگائی گئی ہے،کیاکوئی دباؤتھا،اگرہاں توکس کیطرف سے؟؟؟ کھل کربتائیے۔ عوام کوجاننے کاحق ہے۔ جان کرجیو!! جیوسےمنسلک صحافیوں کوبھی یہ سوال اٹھاناچاہئیے۔اندھی پابندی آخر کیوں؟؟ جان کر جیو!!
تاحال جیوانتظامیہ نےکوئی وجہ نہیں بتائی۔ جیوانتظامیہ کوواضح کرناہوگاکہ حامدمیرپرپابندی کیوں لگائی گئی ہے،کیاکوئی دباؤتھا،اگرہاں توکس کیطرف سے؟؟؟ کھل کربتائیے۔ عوام کوجاننے کاحق ہے۔ جان کرجیو!!
جیوسےمنسلک صحافیوں کوبھی یہ سوال اٹھاناچاہئیے۔اندھی پابندی آخر کیوں؟؟ جان کر جیو!!— Gharidah Farooqi (@GFarooqi) May 31, 2021
