پاکستان نے افغانستان اور خطے میں امن و استحکام کے لیے اسلام آباد، کابل اور بیجنگ کے درمیان قریبی سہ فریقی تعاون کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
چین، افغانستان، پاکستان سہ ملکی وزرائے خارجہ کے چوتھے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ‘اس لیے ہمیں اس طرف غور کرنا چاہیے کہ کس طرح تینوں پڑوسی ممالک اس بدلتی ہوئی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے مؤثر طریقے سے مل کر کام کر سکتے ہیں اور افغانستان اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کا مشترکہ مقصد حاصل کر سکتے ہیں’۔
افغانستان اور خطے میں امن و استحکام، سیکیورٹی اور انسداد دہشت گردی میں تعاون کے فروغ، اور معنی خیز منصوبوں کے ذریعے علاقائی روابط بڑھانے و باہمی اقتصادی ترقی کے لیے مشترکہ کوششوں پر تبادلہ خیال کے لیے یہ سہ ملکی فورم تقریباً 4 سال قبل قائم کیا گیا تھا۔
شاہ محمود قریشی کے علاوہ چین کے وزیر خارجہ وانگ ژی اور افغانستان کے وزیر خارجہ محمد حنیف اتمر نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا سے ‘سنگین سیکیورٹی چیلنجز’ درپیش ہیں، لیکن یہ افغانستان میں امن و مفاہمت اور داخلی تنازعات کے خاتمے کا نادر موقع فراہم کرتے ہیں۔
امریکی سینٹ کام کے مطابق صدر جو بائیڈن کی جانب سے اپریل میں رواں سال 11 ستمبر تک انخلا مکمل کرنے کے اعلان کے بعد 44 فیصد انخلا مکمل ہو چکا ہے۔
تاہم جیسے جیسے انخلا کا عمل آگے بڑھ رہا ہے افغان فورسز کو حوصلہ افزائی کی کمی، گولہ بارود کی قلت اور ہتھیاروں کے کمتر معیار کی وجہ سے سیکیورٹی کے معاملات سنبھالنے میں مشکلات کا سامنا ہے۔
طالبان کئی اضلاع اور ملٹری بیسز پر قبضہ کر چکے ہیں۔
پاکستان کو خدشہ ہے کہ افغانستان میں غیر منظم مقامات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہشت گرد انہیں حملوں میں شدت لانے کے لیے استعمال کر سکتے ہیں، دوسرا خدشہ یہ ہے کہ کشیدگی بڑھنے کی صورت میں بڑی تعداد میں مہاجرین پاکستان آسکتے ہیں۔
پاکستان تمام فریقین پر مسلسل سیاسی تصفیے کے لیے زور دے رہا ہے تاکہ تنازع کا خاتمہ ممکن ہو، لیکن کابل اور طالبان دونوں مذاکرات کے ذریعے ایسے تصفیے پر رضامند نظر نہیں آتے۔
شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں ایسا سازگار ماحول پیدا ہوگا جو خطے کو باہم ملانے اور معاشی تعاون کو گہرا کرکے اس کی حقیقی صلاحیت کو پروان چڑھانے کا موجب بنے گا، جدت اور ٹیکنالوجی کی پیشرفت کے ذریعے ایک دوسرے پر انحصار فروغ پائے گا۔
دفتر خارجہ کے ترجمان زاہد حفیظ چوہدری نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران افغانستان سے منظم انداز میں ذمہ دارانہ انخلا کے پاکستان کے مطالبے پر زور دیا، تاکہ سیکیورٹی کا کوئی ایسا خلا باقی نہ رہے جس کا دہشت گرد فائدہ اٹھا سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ‘اس کے علاوہ امریکی افواج کے انخلا کا عمل، امن کے عمل میں حاصل ہونے والی مجموعی پیشرفت کے ساتھ ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں ہم تمام متعلقہ فریقین سے رابطے میں ہیں’۔
افغان مشیر قومی سلامتی کے غیر ذمہ دارانہ بیانات تکلیف دہ ہیں، وزیر خارجہ
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ افغانستان کے حوالے سے ایک طرف پاکستان کا کردار انتہائی مثبت اور تعمیری ہے تو دوسری طرف ان کے قومی سلامتی کے مشیر کے غیر ذمہ دارانہ بیانات تکلیف دہ ہیں۔
دفتر خارجہ سے جاری بیان کے مطابق افغانستان کے تناظر میں منعقدہ سہ ملکی اجلاس اور خطے کی صورتحال پر بیان میں وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا کا عمل شروع ہو چکا ہے اور ملک اس وقت بہت نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ 44 فیصد امریکی و اتحادی افواج افغانستان سے نکل چکی ہیں، مکمل انخلا کے لیے 11 ستمبر کی تاریخ کا اعلان ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ‘کل سہ فریقی اجلاس میں میری افغانستان اور چین کے وزرائے خارجہ کے ساتھ اس حوالے سے تفصیلی گفتگو ہوئی، میں نے افغان وزیر خارجہ کو دعوت دی ہے کہ وہ پاکستان تشریف لائیں تاکہ ہم افغان امن عمل، دوحہ میں جاری مذاکرات اور مستقبل کی حکمت عملی کے حوالے سے مزید تبادلہ خیال کر سکیں۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ ایک طرف پاکستان کا کردار انتہائی مثبت اور تعمیری ہے، دوسری طرف افغانستان کے قومی سلامتی کے مشیر کے غیر ذمہ دارانہ بیانات تکلیف دہ ہیں، انہیں علم ہونا چاہیے کہ یہ منفی بیانات سپلائرز کا کردار ادا کرنے والوں کے ہاتھ میں چلے جاتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مقاصد بہت واضح ہیں، ہم خطے میں امن و استحکام کا قیام چاہتے ہیں، ہمارا مقصد اس خطے کا معاشی استحکام اور روزگار کے مواقع کی فراہمی ہے، یہ بیانیہ ہمارے جغرافیائی اقتصادی ایجنڈے کے عین مطابق ہے اور ہم ‘اقتصادی سفارت کاری’ پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ اس وقت ہمیں غربت، مہنگائی اور بیروزگاری جیسے چیلنجز کا سامنا ہے، ان چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں معاشی انضمام، سرمایہ کاری اور تجارت کے حجم میں اضافے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس لیے وزیر اعظم عمران خان کے ویژن کی روشنی میں ‘جیو اکنامکس’ ہماری خارجہ پالیسی کی اولین ترجیحات میں شامل ہے، ہم عارضی نہیں طویل مدتی اقتصادی ترقی کے ایجنڈے پر عمل پیرا ہیں۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز چین، افغانستان، پاکستان سہ ملکی وزرائے خارجہ کے چوتھے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا تھا کہ ‘ہمیں اس طرف غور کرنا چاہیے کہ کس طرح تینوں پڑوسی ممالک اس بدلتی ہوئی صورتحال کا سامنا کرنے کے لیے مؤثر طریقے سے مل کر کام کر سکتے ہیں اور افغانستان اور خطے میں دیرپا امن و استحکام کا مشترکہ مقصد حاصل کر سکتے ہیں’۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ افغانستان سے غیر ملکی افواج کے انخلا سے ‘سنگین سیکیورٹی چیلنجز’ درپیش ہیں، لیکن یہ افغانستان میں امن و مفاہمت اور داخلی تنازعات کے خاتمے کا نادر موقع فراہم کرتے ہیں۔
شاہ محمود قریشی نے افغانستان میں امن و استحکام کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کے نتیجے میں ایسا سازگار ماحول پیدا ہوگا جو خطے کو باہم ملانے اور معاشی تعاون کو گہرا کرکے اس کی حقیقی صلاحیت کو پروان چڑھانے کا موجب بنے گا، جدت اور ٹیکنالوجی کی پیشرفت کے ذریعے ایک دوسرے پر انحصار فروغ پائے گا۔
منبع: ڈان نیوز
