English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

صدر بائیڈن کا غیر ملکی دورہ، یورپی رہنماؤں سمیت صدر پوٹن سے ملاقات

صدر جو بائیڈن اپنا عہدہ سنبھالنے کے بعد سمندر پار پہلے طویل دورے میں اپنے یورپی اتحادیوں کو یہ یقین دلائیں گے کہ امریکہ ان کے ساتھ کھڑا ہے اور ان کی انتظامیہ اپنے شراکت داروں کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کا عزم رکھتی ہے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑے گی۔

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عہد میں امریکہ کے اپنے یورپی اور دیگر اتحادیوں کے ساتھ تعلقات میں گرمجوشی میں کمی آئی تھی، جب کہ بائیڈن امریکہ کو عالمی منظرنامے پر قائدانہ کردار کے طور پر سامنے لانے کی خواہش رکھتے ہیں۔ ان کا یہ آٹھ روزہ دورہ اس جانب سفر کی سمت کا تعین کرے گا۔

دورے کے اہداف

صدر بائیڈن کے واضح اہداف میں چین کے بڑھتے ہوئے اقتصادی اور سفارتی اثر و رسوخ کے مقابلے کے لیے مغرب کو تیار کرنا، روس کو یورپی سرحدوں کے اندر مداخلت اور انٹرنیٹ پر ہیکنگ سے باز رکھنا، اور جمہوریتوں کے فروغ کے ساتھ آمریتوں کا مقابلہ کرنا شامل ہیں۔

یورپ روانگی کے لیے ایئر فورس ون طیارے پر سوار ہونے سے قبل بائیڈن نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا دورہ چین اور روس کے رہنماؤں پر یہ واضح کرنے کے لیے ہے کہ امریکہ اور یورپ متحد ہیں۔

قومی سلامتی کے مشیر سولیون وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو صدر بائیڈن کے یورپی دورے کے متعلق بریفنگ دے رہے ہیں۔

قومی سلامتی کے مشیر سولیون وائٹ ہاؤس میں صحافیوں کو صدر بائیڈن کے یورپی دورے کے متعلق بریفنگ دے رہے ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر بائیڈن کا یہ دورہ مخصوص اقدامات یا معاہدوں کی نسبت دنیا کو یہ پیغام دینا ہے کہ ان کی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی سمت سابقہ انتظامیہ سے مختلف ہے۔ اور وہ اپنے اتحادیوں کے ساتھ چلنا چاہتی ہے۔

قومی سلامتی کے مشیر جیک سولیون کہتے ہیں کہ یہ دورہ صدر بائیڈن کی خارجہ پالیسی کے اس بنیادی مقصد کو آگے بڑھائے گا کہ اس دور کے سب سے بڑے چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے دنیا کی جمہوریتوں پر بھروسا کرنا ہو گا۔

یورپی دورے میں کیا ہو گا

امریکی صدر کے اس دورے کی پہلی منزل برطانیہ ہے جہاں وہ گروپ سیون کے سربراہ اجلاس میں عالمی لیڈورں سے ملیں گے۔ اس کے بعد وہ برسلز میں نیٹو کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں اور یورپی یونین کے سربراہوں سے ملاقات کریں گے۔

صدر اپنے دورے میں پہلے روز برطانیہ میں تعنیات امریکی فوجیوں سے خطاب کریں گے۔ اور اگلے روز وہ برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن سے ملاقات کریں۔ اس سے ایک دن کے بعد جی سیون سربراہ کانفرنس ہو گی۔

وسطی اور مشرقی یورپ کی یہ شدید خواہش ہے کہ امریکہ ان کی سیکیورٹی پر زیادہ توجہ دے۔ جرمنی یہ چاہتا ہے کہ ان کے ملک میں امریکی فورسز کی موجودگی برقرار رہے۔ جب کہ فرانس کی سوچ مختلف ہے۔ وہ یہ چاہتا ہے کہ یورپی یونین کے ممالک دفاعی نوعیت کی اپنی حکمت عملی کی جانب آگے بڑھیں کیونکہ اب امریکہ پر پہلے کی طرح اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

صدر بائیڈن کی اپنے یورپی دورے میں پہلی ملاقات برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن سے ہو گی۔

صدر بائیڈن کی اپنے یورپی دورے میں پہلی ملاقات برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن سے ہو گی۔

صدر بائیڈن جنیوا میں یورپی لیڈروں کے ساتھ بالمشافہ بات چیت میں صدر پوٹن پر اشتعال انگیز کارروائیاں روکنے پر زور دیں گے، جن میں امریکی کاروباروں پر روس میں موجود ہیکرز کے سائبر حملے، حزب اختلاف کے لیڈر الیکسی نوالنی کی جیل اور کریملن کی جانب سے امریکی انتخابات میں مداخلت کی کوششیں شامل ہیں۔

صدر بائیڈن عالمی وبا کرونا وائرس کے مقابلے کے لیے اپنے یورپی اتحادیوں کی کوششوں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے ان پر زور دیں گے کہ وہ چین کی جانب سے ابھرتے ہوئے اقتصادی اور سلامتی کے چیلنجز کے مقابلے کے لیے متحدہ حکمت عملی تیار کریں۔

صدر بائیڈن اپنے یورپی اتحادیوں بشمول آسٹریلیا سے یہ بھی کہیں گے کہ وہ گلوبل وارمنگ کے بڑھتے ہوئے خطرے کا زیادہ قوت سے مقابلہ کرنے کا وعدہ کریں۔

ترکی کے صدر رجب طیب اردوان سے ملاقات

یورپی لیڈروں کے علاوہ صدر بائیڈن کی ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے ساتھ بھی بالمشافہ ملاقات طے ہے۔ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب کہ بعض امور پر دونوں ملکوں میں اختلافات پائے جاتے ہیں، جس میں خاص طور پر آرمینیا کے باشندوں کی 20 ویں صدی میں خلافت عثمانیہ کے فوجیوں کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر ہلاکتیں شامل ہیں، امریکہ اب اسے نسل کشی قرار دے رہا ہے۔

اس کے علاوہ ترکی کی جانب سے نیٹو اتحادی ہونے کے باوجود جدید روسی ہتھیاروں کی خرید بھی اختلاف کا ایک سبب ہے۔

صدر بائیڈن اپنے اس دورے میں ترکی کے صدر رجب طیب اروان سے ملاقات میں مختلف امور پر بات چیت کریں گے۔

صدر بائیڈن اپنے اس دورے میں ترکی کے صدر رجب طیب اروان سے ملاقات میں مختلف امور پر بات چیت کریں گے۔

صدر بائیڈن نے واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے اپنے ایک مضمون میں اپنے غیرملکی دورے کے متعلق لکھا ہے کہ عالمی بے یقینی کے اس لمحے میں، جب کہ دنیا اس صدی میں رونما ہونے والی وبا کا مقابلہ کر رہی ہے، اس دورے کا مقصد اپنے اتحادیوں ،شراکت داروں اور جمہوریتوں کو امریکہ کے اس عزم کا اعادہ کرانا ہے کہ ہم اس نئے دور کے چیلنجز اور خطرات، دونوں کا مقابلہ کریں گے۔

روسی صدر ولادی میر پوٹن سے ملاقات

صدر بائیڈن اپنے آٹھ روزہ یورپی دورے کا اختتام روسی صدر ولادی میر پوٹن سے ملاقات کے ساتھ کریں گے۔ جس دوران امریکی اداروں اور کاروباروں پر روس کے اندر سے سائبر حملے، امریکی انتخابات میں روسی مداخلت کے الزامات، یورپ کی مشرقی سرحدوں پر روسی دباؤ اور روس کے اندر سیاسی مخالفین کو کچلنے کے امور زیر بحث آ سکتے ہیں۔

صدر بائیڈن کے یورپی دورے کا اختتام روس کے صدر ولادی میر پوٹن سے ملاقات پر ہو گا۔

صدر بائیڈن کے یورپی دورے کا اختتام روس کے صدر ولادی میر پوٹن سے ملاقات پر ہو گا۔

توقع ہے کہ صدر بائیڈن اپنے روسی ہم منصب پر زور دیں گے کہ وہ عالمی سطح پر مختلف انداز کی مداخلتوں سے باز رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے