چین کی پولیس کا کہنا ہے کہ کالج کے ہزاروں مشتعل طلبہ نے اپنی ڈگریوں کے بارے میں خدشات کے باعث پرنسپل کوکئی گھنٹوں تک یرغمال بنائے رکھا۔
خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ چین میں بڑے پیمانے پر احتجاج غیرمعمولی ہوتے ہیں جہاں کمیونسٹ پارٹی بڑی تحریکوں کو قابو کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مشرقی صوبے جیانگسو میں نانجنگ نورمل یونیورسٹی کے ژونگ بی کالج میں اس وقت اشتعال پھیل گیا جب کالج کو دوسری ووکیشنل کالج سے ملانے کا منصوبہ بنایا گیا۔
طلبہ کو خدشہ تھا کہ اس الحاق سے ان کی ڈگر کی اہمیت کم ہوجائے گی کیونکہ وہ چین کی گنجان آباد مارکیٹ میں روزگار کیلئے مسابقت میں پیچھے رہ جائیں گے۔
ڈینیانگ سٹی پولیس نے بیان میں کہا کہ طلبہ نے پرنسپل کو کالج میں 30 گھنٹوں سے زائد وقت تک یرغمال رکھا۔
بیان میں کہا گیا کہ چند طلبہ نے افسران کو بھی گھیرے میں لیا اور ان کے خلاف بدزبانی اور فرائض کی انجام دہی سے روک لیا۔
6月7日晚,江苏省镇江市南京师范大学中北学院大批学生广场集会,火速派出防暴警察! pic.twitter.com/oEDG1Vtd68
— 今日中国 (@Today__China) June 8, 2021
