English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیپیٹل حملہ کیس میں مزید گرفتاریاں مگر ٹرمپ سے تحقیقات پر ایف بی آئی خاموش

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پانچ سو کے قریب ایسے حامیوں پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے اور گرفتاریوں میں اضافہ ہو رہا ہے جو چھ جنوری کو کیپیٹل ہل پر حملے میں ملوث ہیں۔ یہ بات امریکی وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف بی آئی) کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے جمعرات کو بتائی ہے۔ تاہم انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کے اراکین کی جانب سے ان الزامات کو مسترد کیا کہ ایف بی آئی یہ پیشگی جاننے میں ناکام رہی کہ کیپیٹل ہل پر حملہ ہونے جا رہا ہے۔

کرسٹوفر رے نے اس موقع پر اس بارے میں کچھ بھی کہنے سے گریز کیا کہ آیا ایف بی آئی سابق صدر ٹرمپ اور ان کے ساتھیوں سے، کیپیٹل ہل پر حملے کے لیے مظاہرین کو مبینہ طور پر اکسانے پر پوچھ گچھ کر رہی ہے یا نہیں۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا تھا جب کیپٹل ہل میں نومبر کے انتخابات میں جو بائیڈن کی فتح کی توثیق کے لیے اجلاس جاری تھا۔

یو ایس کیپیٹل پولیس چھ جنوری کو مظاہرین کو کیپیٹل ہل میں داخل ہونے سے روک رہی ہے (اے پی فوٹو)

یو ایس کیپیٹل پولیس چھ جنوری کو مظاہرین کو کیپیٹل ہل میں داخل ہونے سے روک رہی ہے (اے پی فوٹو)

ڈونلڈ ٹرمپ کا ،اس سال کے شروع میں دوسری مرتبہ مواخذہ ہوا تھا۔ ان پر اپنے حامیوں کو کیپیٹل ہل پر حملے کے لیے اکسانے کے لیے ایک اشتعال انگیز تقریر کا الزام ہے جس میں انہوں نے ’ فائٹ لائک ہل‘ یعنی پوری قوت سے لڑنے کی اصطلاح استعمال کی تھی

اگرچہ سینیٹ نے ڈونلڈ ٹرمپ کو 13 فروی کو ان الزامات سے بری کر دیا تھا لیکن ڈیموکریٹس کا طویل عرصے سے مطالبہ رہا ہے کہ محکمہ انصاف مسٹر ٹرمپ کے رویے کے بارے میں تحقیقات کرائے جس میں ہو سکتا ہے کہ مجرمانہ خلاف ورزی کی گئی ہو۔

کیپیٹل ہل ہر حملے کے بعد ہاؤس کی جیوڈیشری کمیٹی کے سامنے اپنی پہلی پیشی میں ایف بی آئی کے ڈائریکٹر کرسٹوفر رے نے 6 جنوری ہو ہونے والی جھڑپوں کی مذمت کی اور اس کو ’ مقامی دہشت گردی کا اقدام‘ قرارد دیا تاہم اس کے لیے لفظ ’بغاوت‘ کا استعمال کرنے سے انکار کر دیا جیسا کہ بہت سے ڈیموکریٹ کہتے ہیں۔ کرسٹوفر رے نے مارچ میں سینیٹ کی جیوڈشری کمیٹی کے سامنے پیش ہوتے ہوئے بھی اس طرح کا بیان دیا تھا۔

جمعرات کو مزید گرفتاریاں

6 جنوری کو سابق صدر ٹرمپ کے تقریباً 8 سو کے قریب حامیوں نے امریکی کانگریس کی عمارت کیپیٹل ہل پر حملہ کر دیا تھا۔ اس حملے میں یو ایس کیپیٹل پولیس کے 5 آفیسروں سمیت 6 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے تھے۔

کرسٹوفر رے نے بتایا ہے کہ حملہ کرنے والوں کی تعداد یقینی طور پر بڑھتی جائے گی۔

گزشتہ روز دیر گئے امریکی محکمہ انصاف نے بتایا کہ کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے 6 افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے جن میں سے 4 کی شناخت دائیں بازو کے گروپ ’’ تھری پرسینٹرز‘‘ کے طور پر کی گئی ہے۔

ان افراد کو کیپیٹل ہل پرحملے اور عمارت کے اندر غیر قانونی طور پر گھسنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

کیا امریکی کانگریس پر چڑھائی انتہا پسندی کی علامت ہے؟





please wait



No media source currently available

کرسٹوفر رے نے بتایا ہے کہ جن افراد کو گرفتار کیا گیا ہے ان میں سے کوئی ایک بھی اس سے قبل زیرتفتیش نہیں تھا۔ انہوں نے ان الزامات کو مسترد کیا کہ ایف بی آئی ان افراد کو واشنگٹن کا سفر کرنے سے روکنے میں ناکام رہی۔

زیادہ تر بلوائیوں کو جن کو اب تک گرفتار کیا گیا ہے، املاک کو نقصان پہنچانے اور دیگر معمولی نوعیت کے الزامات کا سامنا ہے۔

لیکن انتہائی دائیں بازو کے دو گروپوں ’ اوتھ کیپرز‘ اور ’ پراوڈ بوائز‘ کے درجنوں کا اراکین کو سازش اور دیگر جرائم کے مرتکب ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔ کرسٹوفر رے نے بتایا ہے کہ ایف بی آئی مزید سنگین نوعیت کے الزامات سامنے لا رہی ہے۔

خطرات کا پتا نہیں چلا یا ان کو کم اہمیت دی گئی؟

ڈیموکریٹ رہنماء جیرالڈ نیڈلر نے، جو جیوڈیشری کمیٹی کے سربراہ ہیں، ایف بی آئی کی سرزنش کی کہ وہ کیپیٹل ہل ہر کئی گھنٹوں پر محیط خونی حملے کا پیشگی پتا لگانے میں ناکام رہی۔ ان کا کہنا تھا:

’’ عوام کی نظر میں یہ حملہ پہلے سے سوچا سمجھا تھا‘‘

ان کے بقول ٹرمپ ے حامی کھلے عام کیپیٹل ہل کے اندر سرنگوں کا نقشہ ایک دوسرے کو فراہم کر رہے تھے اور عمارت کے اندر گھس جانے کی دعوت دے رہے تھے۔

نیڈلر نے کہا کہ یہ بتانا بہت مشکل ہے کہ آیا ایف بی آئی ہیڈکوارٹز شواہد اکٹھے کرنے میں ناکام رہی یا بیورو کو اطلاعات تو ملیں لیکن وہ اس خطرے کو کم اہمیت دیتے رہے اور بروقت کارروائی کرنے میں ناکام رہے۔‘‘

کرسٹوفر رے نے کہا کہ وہ اس بارے میں ان کے بقول ’ باخبر نہیں ہیں‘‘ کہ آیا ایف بی آئی اس بارے میں تحقیقات کر رہی ہے یا نہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات نے کیپیٹل ہل پر حملے میں کوئی کردار ادا کیا یا نہیں یا پھر یہ کہ ٹرمپ اور ان کے عہدیداروں نے کس طرح ان حملوں کا جواب دیا۔

ہاؤس کی جیوڈیشری کمیٹی کے ڈیموکریٹک رکن سٹیو کوہن کے اس سوال پر آیا ایف بی آئی سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے بھی6 جنوری کے حملوں کے بارے میں پوچھ گچھ کر رہی ہے، کرسٹو فر رے نے کہا

’ میرا خیال کہ میرے لیے یہ کہنا مناسب نہیں ہے کہ ہم کسی مخصوص شخص کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں یا نہیں کر رہے‘‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے