اسرائیل میں مستقبل ہے اور یمینہ سیاسی جماعتوں کی قیادت میں قائم ہونے والی مخلوط حکومت کی جانب سے اعتماد کا ووٹ ملنے پر 12 برسوں سے جاری وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو کا دور اپنے انجام کو پہنچا ہے۔
رائے دہی کے نتیجے میں 120 رکنی پارلیمنٹ میں 60 ممبران کی حمایت سے مخلوط حکومت اعتماد کا ووٹ لینے میں کامیاب ہو گئی۔ نتن یاہو مارچ 2009 سے بر سر اقتدار تھے۔
رائے دہی کے بعد نئے وزیر اعظم نفتالی بیننٹ اور مخلوط حکومت کے وزرا نے حلف اٹھایا ۔
بیننٹ دو برسوں تک وزارت عظمی کے عہدے پر فائز رہیں گے تو بعد میں اقتدار کی حصہ دار’’ مستقبل ہے‘‘ پارٹی کے لیڈر لاپیڈ اس عہدے کو سنبھالیں گے۔
اقتدار کی سیاسی جماعتوں میں بعض نظریاتی تضادات کے باعث مخلوط حکومت کے کب تک اپنا کام جاری رکھ سکنے پر بھی بحث ہو رہی ہے۔
دریں اثنا امریکی صدر جو بائڈن نے نومنتخب اسرائیلی وزیر اعظم بیننٹ کو ٹیلی فون پر مبارکباد پیش کی ہے۔
وائٹ ہاؤس سے جاری کردہ بیان کے مطابق بائڈن نے امریکہ اور اسرائیل کے تعلقات اور اسرائیل کے تحفظ کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ لہذا نئی حکومت کے ساتھ بھی باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کو جاری رکھا جائیگا۔
