English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بائیڈن نے ‘جونٹینتھ ڈے ایکٹ‘ پر دستخط کر دیے، یہ قانون ہے کیا؟

امریکہ کے صدر جو بائیڈن ایک نئے قومی دن ’ جونٹینتھ نیشنل انڈی پینڈینس ڈے ‘ کے بل پر دستخط کرتے ہوئے اسے قانون کا حصہ بنا دیا ہے جس کے بعد انیس جون کا دن پورے ملک میں عام تعطیل کا دن ہو گا۔ ’ جونٹینتھ نیشنل انڈی پینڈینس ڈے ‘ سے موسوم یہ قومی دن ہر سال 19 جون کو منایا جائے گا اور اس کا مقصد ملک سے غلامی کے خاتمے کی یاد منانا ہے۔

صدر بائیڈن جمعرات کو اس بل پر دستخط کیے اور اس کو قانون کا حصہ بنا دیا۔ صدر نے وائٹ ہاوس کے ایسٹ روم میں بل پر دستخطوں کے بعد قلم ایوان نمائندگان کی ڈیموکریٹ رکن باربرا لی کے حوالے کر دیا۔ اس موقع پر نائب صدر کاملا ہیرس، ہاوس میں اکثریتی راہنما جیمز کلائی برن، ٹیکساس سے ری پبلکن سینیٹر جان کارنن، ڈیموکریٹ شیلا جیکسن لی، ٹینا سمتھ، سینیٹر رافائل وارناک اور دیگر راہنما بھی موجود تھے۔

یہ قومی تعطیل 19 جون 1865 کے اس دن کی یاد میں ہو گی جب یونین سولجرز نے گیلوسٹن، ٹیکساس میں سیاہ فام قیدیوں کے ایک گروپ کو مطلع کیا تھا کہ اب وہ آزاد ہیں۔ یہ پیش رفت صدر ابراہم لنکن کی جانب سے ’ ایمنسٹی پروکلیمیشن‘ یعنی آزادی کے پروانے پر دستخط کرنے کے اڑھائی سال بعد ہوئی تھی۔

امریکہ کی کئی ریاستوں میں پہلے ہی جونٹینتھ کی مقامی سطح پر عام تعطیل ہوتی ہے۔

1983 میں مارٹن لوتھر کنگ جونئیر ڈے کی عام قومی تعطیل کی منظوری کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ ایک اور دن قومی تعطیلات میں شامل کیا گیا ہے۔ اس سے قبل قومی سطح پر سال میں دس عام تعطیلات منائی جاتی ہیں۔



مارٹن لوتھر کنگ اگست 1963 میں واشنگٹن ڈی سی میں ریلی سے خطاب کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

صدر بائیڈن کو بھجوائے جانے سے پہلے سینیٹ نے منگل کو اس بل کی متفقہ طور پر منظوری دی تھی اور اس کے بعد بدھ کو ایوان نمائندگان نے بھی 14 کے مقابلے میں 415 ووٹوں کے ساتھ اس قومی تعطیل کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

جونٹینتھ کی عام تعطیل کے حق میں مظاہرے (فوٹو: اے پی)

جونٹینتھ کی عام تعطیل کے حق میں مظاہرے (فوٹو: اے پی)

کانگریس کے بلیک کاکس کے کئی اراکین نے ایوان میں اس بل کے حق میں تقاریر کیں۔ ریاست نیو جرسی سے ڈیموکریٹ رکن بونی واٹسن نے کہا کہ وہ جونٹینٹھ کو ایک جشن کے بجائے یادگار کے طور پر دیکتھی ہیں۔

اس بل کو سینیٹر ایڈورڈ مارکی نے 60 ڈیموکریٹ ’ کو سپانسرز‘ کے دستخطوں کے ساتھ پیش کیا تھا اور بہت تیزی سے دونوں ایوانوں سے منظور ہونے کے بعد اب یہ صدر کی میز پر موجود ہے۔

بعض ری پبلکن رہنماؤں نے اس بل کی مخالفت کی ہے۔ ایوان نمائندگان کے ری پبلکن رکن میٹ روزنڈیل نے کہا ہے کہ جونٹینتھ کی قومی تعطیل ’ شناخت کی سیاست‘‘ کی ایک کوشش ہے۔

امریکہ میں دور غلامی اور جونٹینتھ کا پس منظر

ویب سائٹ ہسٹری ڈاٹ کام اور دیگر آن لائن انسائیکلو پیڈیاز کے مطابق امریکہ میں سترھویں اور اٹھارہویں صدی میں براعظم افریقہ سے لوگوں کو اغوا کر کے امریکی کالونیوں میں لایا جاتا تھا۔ ان سے صنعت یا زراعت کے شعبے بالخصوص تمباکو اور کپاس کے کھیتوں میں زبردستی کام لیا جاتا۔ انیسویں صدی کے وسط میں امریکہ میں ’ویسٹ وارڈ ایکسپینشن‘ یعنی علاقائی توسیع اور غلامی کے خاتمے کی تحریک نے غلامی سے متعلق ایک بڑی بحث کو جنم دیا جو بعد ازاں ملک کے اندر ایک خانہ جنگی کا سبب بنی۔ اور یوں تقریبا چار ملین یعنی چالیس لاکھ غلاموں کو آزاد کر دیا گیا۔

وائس آف امریکہ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکہ نے غلامی کے خاتمے کے لیے طویل جنگ لڑی اور جیتی ہے۔

لیکن یہ آزادی سیاہ فام غلاموں تک بہت سست رفتاری سے پہنچی ہے۔

صدر براہم لنکن نے دور غلامی کے خاتمے کے حکم پر 1862ء میں دستخط کیے تھے لیکن 19 جون 1865 تک، جنگ کے خاتمے کے کئی ماہ بعد، گیلویسٹن ٹیکساس میں غلاموں تک آزادی کا یہ حکم پہنچا تھا.

یہاں قید سیاہ فام غلام شاید آزادی کا پروانہ سننے والا آخری گروپ تھا۔ آزادی کا یہ پیغام ان تک یہ حکم فوج کے جنرل میجر جنرل گورڈن گرینجر نے پہنچایا تھا۔

انیس جون افریقی امریکی کمیونیٹی میں بڑی اہمیت کا حامل دن ہے اور ہر سال اس دن کو یاد کیا جاتا ہے اور اس کو جونٹینتھ کا نام دیا جاتا ہے۔

غلامی کے خاتمے کا مسودہ قانون جس پر صدر ابراہم لنکن نے دستخط کیے۔ (فوٹو ایسوسی ایٹڈ پریس)

غلامی کے خاتمے کا مسودہ قانون جس پر صدر ابراہم لنکن نے دستخط کیے۔ (فوٹو ایسوسی ایٹڈ پریس)

اس دن سیاہ فام اپنا بہترین لباس زیب تن کرتے ہیں۔ پریڈز میں شرکت کرتے ہیں اور کمیونیٹی کے اجتماعات اور خاندان کے اکٹھ میں شریک ہوتے ہیں۔ تقاریر سنتے ہیں اور آزادی اور کامیابیوں کا جشن مناتے ہیں۔ امریکہ کی پچاس میں سے سنتالیس ریاستیں پہلے ہی ’جونٹینتھ‘ کو تسلیم کرتی ہیں۔

اس دن کو جوبلی ڈے، ایمینسیپیشن ڈے، دا بلیک فورتھ آف جولائی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے