پولیس نے لاہور کے مدرسہ میں بچے سے زیادتی کرنے والے مفتی عزیز الرحمن کو گرفتار کر لیا ہے۔ مقدمہ
درج ہونے کے بعد ملزم میانوالی فرار ہو گیا تھا لیکن پولیس نے نشاندہی پر پکڑ لیا۔
مفتی عزیز الرحمن کی نازیبا ویڈیو کی بنیاد پر پولیس نے طالب علم صابر شاہ کی درخواست پر مفتی
عزیز الرحمن کے خلاف مقدمہ درج کیا تھا۔
عبدالعزیز جامعہ منظور اسلامیہ صدر لاہور مدرسہ کے نگران تھے جہاں 2013 میں صابر شاہ نے داخلہ
لیا۔ ایف آئی آر کے مطابق مفتی نے طالب علم کے ساتھ غیر اخلاقی تعلقات قائم کر کے امتحانات میں بحالی
کا کہا۔ مفتی عزیز الرحمن اور ان کے تینوں بیٹوں نے جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دیں۔
سیاسی جماعتوں کی طرح جمعیت علما اسلام نے بھی اپنے اوپر سوالات اٹھنے کے پیش نظر عزیز عزیزالرحمن
سے لاتعلقی کا اعلان کر دیا اور سزا کی سفارش بھی کی ہے۔
خیال رہے پاکستان بھر میں مدارس کا جال پھیلا ہوا ہے ان میں سے بیشتر مدارس میں دینی تعلیم درست
سمت میں دی جاتی ہے لیکن مفتی عزیز الحمن جیسے بھیڑیے دین اسلام کی تبلیغ اور بچوںکی تعلیم و تربیت
کے ان مدارس کو بدنام کرنے کا باعث بن رہے ہیں۔
ماضی میں بھی اسی طرح کے کئی کیسز سامنے آچکے ہیں لیکن مدارس کی تنظیموں کی جانب سے
موثر اقدامات نہ اٹھائے جانے پر اس قسم کے واقعات معمول بنتے جارہے ہیں۔
اسی طرح مدارس کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کے الزامات بھی سامنے آتے رہے ہیں
