English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جموں و کشمیر: انسدادِ بغاوت آپریشنز کے لیے مقامی لوگوں کو تربیت دی جانے لگی

سرینگر(ساوتھ ایشین وائر)بھارتی کی پولیس نے کشمیر میں انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرنے اور انسداد بغاوت آپریشنز کے لیے مقامی افراد کو تربیت دینا شروع کر دیا ہے۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کے لیے تیار کیے جانے والے یہ مقامی لوگ پولیس میں نچلا عہدہ رکھنے والے ‘اسپیشل پولیس آفیسرز’ کہلائیں گے۔ان افراد کو بنیادی طور پر انٹیلی جنس معلومات اکٹھا کرنے اور انسداد بغاوت آپریشنز کے لیے بھرتی کیا جارہا ہے۔

ان افراد کو پولیس بارڈر پوسٹس پر بھیجا جائے گا۔
ساوتھ ایشین وائر کے مطابق حالیہ برسوں میں فورسزکی جانب سے سرحدی علاقوں میں بھی مدد فراہم کی گئی ہے، جس کی وجہ مقامی لوگوں کی علاقے سے واقفیت اور ہنگامی صورتِ حال میں پولیس اور بارڈر گارڈز کی مدد کی صلاحیت ہے۔

ریتا دیوی تین ماہ کی تربیت حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔
ریتا دیوی تین ماہ کی تربیت حاصل کرنے والوں میں شامل ہیں۔ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وہ ان 73 دیگر مرد و خواتین میں سے ایک ہیں جو کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں پہاڑیوں پر مشتمل درجنوں گاوں میں قانون نافذ کرنے والے افسران کی مدد کے لیے ‘اسپیشل پولیس افسر’ بننے کی کوشش کر رہی ہیں۔
ان کے دن کا آغاز جسمانی تربیت سے ہوتا ہے جس کے بعد وہ بارڈر مینجمنٹ اور بھارت اور پاکستان کے درمیان سرحد پر تصادم کے دوران پولیس اور بارڈر گارڈز کے ساتھ تعاون سے متعلق کلاسز لیتی ہیں۔
بعد ازاں، شام کے وقت میں وہ ہتھیاروں کے استعمال اور امن و امان سے متعلق تربیت حاصل کرتی ہیں۔
‘اے پی’ کے مطابق ریتا دیوی کہتی ہیں کہ وہ ہمیشہ پولیس میں شامل ہونا چاہتی تھیں۔ ان کے بقول، یہ پوزیشن انہیں لوگوں کی مدد کرنے کی اجازت دے گی۔
کٹھوعہ کے پولیس چیف رمیش کوٹ وال کا کہنا ہے کہ ہم نے یہ بیچ خاص طور پر بارڈر مینجمنٹ کے لیے بھرتی کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم ان لوگوں کو تربیت دے رہے ہیں، تاکہ انہیں سرحد پار شیلنگ جیسے معاملات سے نمٹنے میں مزید مہارت دی جائے۔


بھرتی ہونے والے افراد اپنی تربیت کے آخری مراحل میں ہیں جس کے بعد انہیں کٹھوعہ کے دور دراز علاقوں میں پولیس بارڈر پوسٹس پر بھیجا جائے گا۔کشمیر کے دونوں حصوں کو الگ کرنے والی لائن آف کنٹرول پر بھارت اور پاکستان دونوں کی افواج موجود ہیں۔
اس سرحدی حصے پر خاردار تاریں، نگرانی کے لیے ٹاورز اور بنکرز موجود ہیں جب کہ دونوں ممالک کے درمیان سرحد پار فائرنگ کے واقعات بھی رونما ہوتے رہتے ہیں۔
البتہ، فروری 2021 سے دونوں ممالک کے درمیان لائن آف کنٹرول پر خاموشی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے