پاکستان میں انتخابات کا عمل شفاف طریقے سے انجام دینے کی ایک بار پھر سے بحث چھڑ چکی ہے۔
شفاف انتخابات کے لئے تحریک انصاف کی حکومت کی جانب سے مقامی طور پر تیار کردہ الیکٹرانک
ووٹنگ مشین پیش کی گئی ہے۔
بھارت، برازیل، بھوٹان ، وینزویلا سمیت دنیا کے 20 سے زائد ملک الیکٹرانک ووٹنگ مشین استعمال
کررہے ہیں۔ پاکستان میں بھی حکومت الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے ذریعے انتخابات کران اچاہتی ہے۔
نیشنل انسٹیٹیوٹ آف الیکٹرونکس میں تیار کی گئی الیکٹرانک ووٹنگ مشین 2 بڑے حصوں پر مشتمل
ہے جس میں ووٹ ڈالنے کے لئے پریزائیڈنگ افسر خفیہ کوڈ کے ذریعے ان کرے گا۔
پہلے حصے میں موجود پیڈ ، چھوٹی اسکرین ، شناختی کارڈ ڈالنے کی جگہ اور انگوٹھا اسکیں کرنے کے لئے
سینسر موجود ہے۔ ووٹر کا کارڈ مشین میں ڈالا جائے گا تصدیق کے بعد ٹک کا نشان اسکرین پر نمودار ہوگا
جس کے بعد ووٹر انگوٹھا لگاکر بائیو میٹرک تصدیق کرے گا مشین کے اس حصے کو شناختی یونٹ
کا نام دیا گیا ہے۔
تصدیق کے بعد ووٹر مشین کے دوسرے حصے میں چلا جائے گا۔ پریزائیڈنگ افسر کی جانب سے ووٹ
ڈالنے کی اجازت ملنے پر سبز رنگ کی لائٹ آن ہوگی۔ ای وی ایم کے اس حصے کو کنٹرول یونٹ کا
نام دیا ہے۔ ووٹر اپنی پسند کے امیدوار کے انتخابی نشان کو دبائے گا اور اس کی منتخب کردہ پرچی یا
بیلٹ پیپر میں گر جائے گا اس دوران ووٹر بیلٹ پیپر پر اپنے منتخب کردہ نشان کی شناخت بھی کرسکے گا۔
ای وی ایم کے ذریعے نتائج کا عمل چند منٹوں میں مکمل ہوجائے گا پریزائیڈنگ افسر کمانڈ کے ذریعے
فارم 45 مکمل کرسکے گا۔ مشین کے ذریعے ایک منٹ میں 2سے 3 ووٹ پول کئے جاسکیں گے اگر ملک
بھر میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات بیک وقت منعقد ہوں 85 ہزار پولنگ اسٹیشن اور
ساڑھے 3 لاکھ سے زائد پولنگ بوتھ بنانا ہوں گے جس کے لئے بڑی تعداد میں مشین درکار ہوں گی۔
وفاقی وزیر سائنس اینڈ ٹیکنالوجی شبلی فراز کہتے ہیں اگلے مہینے پروٹائپ مشین پر کام مکمل کرلیا
جائے گا حکومت کا اصل مقصد شفاف الیکشن ہیں اس کے لئے مقامی طور پر مشین تیار کی جارہی ہیں
بیرون ملک سے مشین لینے کا آپشن بھی موجود ہے۔
دوسری جانب الیکشن کمیشن آف پاکستان الیکٹرانک ووٹنگ کے لئے سیاسی جماعتوں سے مشاورت کررہا
ہے۔ وزارت سائنس اور اسپین کی کنسلٹینسی نے الیکشن کمیشن کو ای ووٹنگ پر بریففگ دے چکی ہے۔
اپوزیشن اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے ای وی ایم کو یکسر مسترد کرتی ہے۔ اس کے برعکس
سابق سیکریٹری الیکشن کمیشن کنور دلشاد کا کہنا ہے ای وی ایم مشین کو ہیک نہیں کیا جاسکتا
کیونکہ یہ انٹر نیٹ ، وائے فائی یا بلیو ٹوتھ سے منسلک نہیں ہوگی۔ پاکستان نے جو ماڈل بنایا ہے وہ
باقی دنیا سے منفرد ہے اس میں پرچی یا بیلٹ پیپر بھی ساتھ ہے جس سے ووٹ کی تصدیق بھی کی جاسکتی ہے۔
2008 الیکشن میں 1.8 ارب ، 2013 میں 4.7 ارب روپے اور الیکشن 2018 کے لئے 21 ارب روپے مختص
کئے گئے تھے۔ اگر بیرون ملک سے مشینیں لی جائیں تو ایک مشین کی قیمیت 3 ہزار ڈالر ہے۔ اس طرح اندازہ لگایا
جاسکتا ہے کہ کتنی رقم اس مشینری کے لیے درکار ہو گی۔
تجزیہ کاروںکے مطابق انتخابات 2023 میں ہونے ہیں اور ہمارے پاس اب نہیں بچا کہ مشینیں ملک میں
ہی بنائی جا سکیں اگر باہر سے منگوانی ہیںتو پھر اتنے بڑے پیمانے پر مشینری برآمد کی جانی عقلمندی
کا سودا کسی صورت نہیں ہو سکتا۔ لیکن اگر کسی نے دیہاڑی لگانی ہے تو بات الگ ہے۔
