English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ذلفی بخاری کے دورہ اسرائیل کی تصدیق

وزیراعظم عمران خان کے سابق مشیر سید ذوالفقار بخاری کے دورہ اسرائیل کی تصدیق ہوگئی ہے۔
ذلفی بخاری نے وزیراعظم عمران خان کی ہدایت پر دورہ اسرائیل کیا۔
اسرائیلی فوج کے سینسر بورڈ نے اب ذلفی بخاری کے دورہ اسرائیل کی خبر نشر کرنے کی اجازت دے دی
نومبر میں ذلفی بخاری نے اسرائیل کا دورہ کیا تھا۔
اس دورے کے دوران انہوں نے اسرائیلی خفیہ ایجنسی موساد کے چیف سے ملاقات کی تھی۔

اسرائیلی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ذلفی نے یہ دورہ یواےای کے پریشر اور عمران خان کی ہدایت پر کیا۔
تاہم ذلفی بخاری دورہ اسرائیل سے انکار کرچکے ہیں۔

پاکستان متحدہ عرب امارات کی اسرائیلی آرمی کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقیں

یاد رہے کہ یہ پاکستان اور اسرائیل کے پس پردہ تعلقات کے بارے میں کو کوئی چہ گوئی نہیں۔
گزشتہ سال یہ بھی خبریں سرگرم تھیں کہ اسرائیلی خصوصی طیارہ اسلام آباد ایئرپورٹ پر لینڈ کیا ہے۔
اس سے قبل نوازشریف دور حکومت میں سابق ڈی جی آئی ایس آئی جنرل شاع پاشا کی اسرائیلی خفیہ
ایجنسی موساد کے اس وقت کے چیف کے چیف کے ساتھ امریکا میں ملاقات کی افواہیں سرگرم رہیں تھیں۔

ماضی میں برطانوی اخباروں میں ایسی خبریں دیکھنے میں آئی ہیں جن میں بتایا گیا کہ پاکستان بلواسطہ
طور اسرائیل سے دفاعی ساز و سامان اور جنگی طیاروں کے انجن خریدتا رہا ہے۔
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کا وجود ایک حقیقت ہے۔ دنیا کی دو ریاستوں کے درمیان
کسی نہ کسی حد تک تعلقات ضرور ہوتے ہیں۔
پاکستان اور اسرائیل کا کوئی براہ راست تنازع بھی نہیں۔ اس لیے اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ دونوں
ممالک کے کسی نہ کسی حد تک تعلقات موجود ہیں۔
اس کی تازہ ترین مثال دنیا کی بین البراعظمی جنگی مشقیں ہیں۔
پاک فوج اسرائیلی فوج کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں میں حصہ لے رہی ہے۔
جنگی مشقوں میں پاکستان کی بحریہ شرکت کریں گے۔
پاکستان اور اسرائیلی فوج کے درمیان جنگی مشقیں 28 جون سے 10 جولائی تک جاری رہیں گی۔
یہ مشقیں “بلیک سی” میں ہوں گی۔ ان بحری مشقوں میں پاکستان اور اسرائیل کے علاوہ دنیا کے چھ
براعظموں سے 32 ممالک کی افواج شرکت کریں گی۔

بلیک سی میں ہونے والی یہ بحری مشقیں اپنی طرز کی سب سے بڑی مشقیں ہیں۔
امریکا نے نے اعلان کیا ہے کہ بلیک سی میں ہونے والے ان مشقوں میں اس کا سسکتھ فلیٹ US Sixth Fleet بھی شرکت کرے گا۔
ان مشقوں میں آسٹریلیا، برازیل، بلجیریا، کینیڈا، جاپان، اٹلی، پولینڈ، جنوبی کوریا، برطانیہ، متحدہ عرب امارات اور ترکی سمیت دیگر ممالک شرکت کر رہے ہیں۔
بلیک سی میں ہونے والی ان مشقوں کو خاصی اہمیت دی جارہی ہے کیوں کہ وہی علاقہ ہے جہاں روس اور یوکرائن آمنے سامنے ہیں۔ دونوں ممالک ان سمندری حدود پر اپنے حق کا دعوی کرتے ہیں۔
یوکرائن کی وجہ سے روس اور امریکا میں تعلقات کشیدہ ہیں۔
یاد رہے کہ یوکرائن کو طویل عرصے سے اندرونی بغاوت اور خانہ جنگی کی سی صورتحال کا سامنا ہے۔
یوکرائن اور امریکا کا کہنا ہے کہ یوکرائن میں بے یقینی کی کیفیت اور باغیوں کی حمایت کے پیچھے روس کا ہاتھ ہے۔
اس تمام صورت حال کے بعد وزیراعظم کے سابق مشیر ذلفی بخاری نے ایک بار پھر ٹویٹ میں اسرائیل کے دورے کا انکار کیا ہے جس پر اسرائیلی اخبار کے ایڈیٹر نے تبصرہ کیا ہے کہ اس وقت اسرائیلی فوج نے اس خبر کو نشر کرنے سے منع کیا تھا اس لیے یہ خبر ذرائع سے سامنے آئی تھی۔
تاہم اب اسرائیلی فوج کی اجازت سے یہ خبر نشر کی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے