English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارت: ٹوئٹر کو متنازع نقشوں کی اشاعت پر ایک اور امتحان کا سامنا

بھارت کے ایک ہندو گروپ نے سماجی رابطوں کے پلیٹ فارم ‘ٹوئٹر’ کے مقامی سربراہ کے خلاف پولیس میں ایک شکایت درج کرائی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ادارے کی ویب سائٹ پر دکھائے گئے بھارت کے نقشے میں کچھ علاقوں کو ملکی حدود سے باہر دکھایا گیا ہے۔

پولیس میں یہ درخواست بھارتی ریاست اترپردیش میں بجرنگ دل کے رہنما پراوین بھٹی نے درج کرائی ہے۔ اگر اس درخواست پر تفتیش کا آغاز ہوتا ہے تو یہ معاملہ امریکی ٹیکنالوجی کمپنی کے لیے ایک نیا درد سر ثابت ہو سکتا ہے۔

ٹوئٹر نے اپنے کریئر پیج پر اس نقشے میں جموں و کشمیر کے خطے کو دکھایا تھا جس پر بھارت اور پاکستان دونوں دعوے دار ہیں جب کہ بودھوں کے علاقے لداخ کو بھی بھارت سے الگ دکھایا گیا تھا۔

تھانے میں درج ہونے والی شکایت میں بھارت میں ٹوئٹر کے سربراہ منیش مہیشوری اور کمپنی کے ایک اور منتظم پر انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ضابطوں کی خلاف ورزی کا الزام لگایا گیا ہے۔

ٹوئٹر کے مقامی ذمہ داروں پر مختلف ذات پات کے گروہوں کے درمیان عداوت اور نفرت میں کمی لانے کے لیے وضع کردہ ضابطوں کی خلاف ورزی کا بھی الزام ہے۔

بھارت کے انفارمیشن ٹیکنالوجی کے نئے قوائد و ضوابط پر عمل درآمد کے معاملے پر بھارت اور ٹوئٹر کے تعلقات پہلے ہی کشیدگی کا شکار ہیں اور اب نقشہ جاری ہونے کا معاملہ سرگرم ہے۔

خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق لکھنؤ سے ان کے نامہ نگار سوراب شرما کے مطابق ٹوئٹر کے شائع کردہ نقشوں کے معاملے پر سوشل میڈیا میں شور مچا ہوا ہے۔

پولیس میں درج ہونے والی شکایت کی نقل رائٹرز نے حاصل کرلی ہے جس میں پراوین بھٹی نے کہا ہے کہ بھارت کے علاقوں کو نقشے سے ہٹائے جانے کے معاملے پر ان کے علاوہ بھارت کے عوام کے جذبات کو ٹھیس پہنچی ہے۔

پراوین نے نقشے کی اشاعت کے اقدام کو غداری کے مترادف قرار دیا ہے۔



پارلیمنٹ کی انفارمیشن ٹیکنالوجی سے متعلق اسٹینڈنگ کمیٹی نے ٹوئٹر کے اہلکاروں کو جمعہ کے روز طلب کیا۔ رپورٹس کے مطابق اس میٹنگ میں ان سے سخت سوالات کیے گئے۔ (فائل فوٹو)

‘رائٹرز’ کے مطابق ٹوئٹر کا ردِ عمل جاننے کے لیے رابطے کی کوشش کی گئی لیکن فوری طور پر ادارے کا بیان سامنے نہیں آیا۔ تاہم منگل کو ٹوئٹر کی ویب سائٹ پر یہ نقشہ موجود نہیں تھا۔

یاد رہے کہ اتر پردیش کی پولیس نے رواں ماہ ہی ٹوئٹر کے مقامی سربراہ منیش مہیشوری کو پیشی کا نوٹس دیا تھا۔ مہیش پر الزام ہے کہ وہ مذہبی اختلاف کے معاملے کو ہوا دینے والی مبینہ ویڈیو کی تشہیر کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس کیس میں مہیش نے عدالت کے ذریعے ضمانت حاصل کر رکھی ہے۔

دریں اثنا بھارت کے ٹیکنالوجی کے وزیر شری شنکر پرساد نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ تک رسائی نہ دیے جانے کی شکایت پر ٹوئٹر کو ہدفِ تنقید بنایا ہوا ہے۔ ان کے بقول ٹوئٹر بھارتی قوائد و ضوابط کی پابندی کرنے میں ناکام ہو چکا ہے۔

گزشتہ برس بھارتی پارلیمانی پینل کے سربراہ نے الزام عائد کیا تھا کہ ٹوئٹر بھارت کی خودمختاری کا احترام نہیں کر رہا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایک نقشے میں ٹوئٹر نے بھارتی زیرِ انتظام علاقے کو چین کا حصہ ظاہر کیا تھا، جس کے بارے میں سماجی میڈیا کے ادارے نے دعویٰ کیا تھا کہ اس غلطی کو فوری طور پر درست کر دیا گیا تھا۔

اس خبر میں شامل معلومات خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ سے لی گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے