English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

امریکا نے پاکستان پر ایک اور تلوار لٹکا دی، افغانستان کے لیے ائیر بیس کا دباؤ

القمر

امریکا نےپہلی بار اکستان اور ترکی کو کم عمر سپاہی بھرتی کرنے والے ممالک کی فہرست میں شامل کر لیا ہے۔ فہرست میں شامل ممالک کی فوجی امداد اور امن مشن کے پروگرام میں شرکت پر پابندیاں عائد ہوسکتی ہیں۔ پاکستان انسانی سمگلنگ والے ملکوں کی واچ لسٹ میں بھی شامل ہے۔

امریکا نے پاکستان اور ترکی کو چائلڈ سولجرز پری وینشن ایکٹ کی فہرست میں شامل کرلیا۔ اس فہرست میں شامل ممالک کی فوجی امداد اور امن مشن کے پروگرام میں شرکت پر سخت پابندیاں عائد ہوسکتی ہیں۔امریکی محکمہ خارجہ کی طرف سے جاری کردہ انسانی سمگنلگ 2021 کی سالانہ رپورٹ میں پاکستان کا نام انسانی سمگلنگ والے ملکوں کی واچ لسٹ میں بھی شامل ہے۔رپورٹ میں انسانی اسمگلنگ کو روکنے کی کوششوں کے حساب سے ممالک کو مختلف درجہ بندی کی جاتی ہے۔
امریکا کی چائلڈ سولجرز پری وینشن ایکٹ کی فہرست میں ان ملکوں کو شامل کیا گیا ہے جہاں گزشتہ برس یکم اپریل 2020 سے 31 مارچ 2021 تک 18 سال سے کم عمر فوجیوں کو بھرتی یا استعمال کیا ہو۔2021 کی اس لسٹ میں 15 ملک افغانستان، برما، جمہوریہ کانگو، ایران، عراق لیبیا، مالی، نائیجیریا، پاکستان، صومالیہ، جنوبی سوڈان، شام، ترکی، وینزویلا اور یمن کی حکومتیں شامل ہیں۔۔ رپورٹ کے مطابق 18 سال سے کم عمر کوئی بھی شخص جس کو ریاست کی مسلح افواج یا دوسری مختلف فورسز میں بھرتی یا دشمنی میں استعمال کیا گیا ہو اسے چائلڈ سولجر سمجھا جاتا ہے،، فورسز میں معاونت کے کردار،، باورچی، قلی، قاصد، نرس، گارڈ یا سیکس غلام کے طور پر کام کرنے والے بھی چائلڈ سولجر ہی شمار ہوتے ہیں۔رپورٹ کے مطابق طالبان پاکستانی مدرسوں سے بچوں کو بھرتی کر کے فوجی ٹریننگ دیتے ہیں۔سی ایس پی اے فہرست میں شامل ممالک امریکا کے انٹرنیشنل ملٹی ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ، فارن ملٹی فنانسنگ، اور پیس کیپنگ آپریشنز میں شامل نہیں ہو سکتے۔یکم اکتوبر 2021 سے شروع ہونے والی پابندیاں فہرست میں شامل ممالک پر پورے مالی سال 2022 میں جاری رہیں گی تاہم صدارتی استثنیٰ، ملنے والے ملک ان پابندیوں سے مستثنیٰ ہوں گے۔
انسانی سمگلنگ کے حوالے سے رپورٹ کے مطابق انسانی سمگلنگ میں پاکستان کا ایک بڑا مسئلہ جبری مشقت بھی ہے،، سیاسی اثر و رسوخ اور سرکاری حکام کی مدد سےسندھ میں زراعت کے شعبے اور پنجاب اور سندھ میں اینٹوں کے بھٹوں پر جبری مشقت کا سلسلہ جاری ہے۔بھیک مانگوانے کے لیے بھی بچوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے۔ بچوں سے جبری مشقت لینے والی فیکٹریوں کی طرف سے انسپکشن سے بچنے کے لیے محکمہ محنت کے اہلکاروں کو رشوت دی جاتی ہے۔رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان کوشش تو کر رہی ہے۔ تاہم ابھی پاکستان انسنی سمگلنگ کے خاتمے کے لئے کم سے کم معیارات پر پورا نہیں اترتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے