ویب ڈیسک —
کینیڈا کے صوبے البرٹا میں جمعے کو ایک گھر میں آتش زدگی کے واقعے میں پاکستانی نژاد خاندان کے سات افرادہلاک ہو گئے۔ مرنے والوں میں چار بچے بھی شامل ہیں۔
مقامی اخبار ’دی اسٹار‘ سے بات کرتے ہوئے امام مسجد سید سہروردی نے بتایا کہ اس گھر میں دو خاندانوں کی رہائش تھی جن میں سے ایک حال ہی میں یہاں منتقل ہوا تھا۔
’دی اسٹار‘ کے مطابق مقامی امام سید سہروردی نے آتش زدہ گھر کا دورہ بھی کیا۔
انہوں نے بتایا کہ یہاں دو بھائیوں کے خاندان آباد تھے۔ اس واقعے سے مقامی مسلم کمیونٹی سکتے میں آ گئی ہے۔
امام مسجد کا کہنا تھا کہ آگ لگنے کے دوران گھر کا مالک اپنے دو بچوں اور اپنے بھائیوں کے بچوں کو بچانے میں کامیاب رہا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ مرنے والوں میں ایک چار برس کا بچہ، ایک آٹھ برس کی بچی، 12 برس کے لڑکی اور لڑکا، ایک 35 برس کی خاتون، 38 برس کا ایک مرد اور خاتون شامل ہیں۔
پولیس کے مطابق بچ جانے والوں کو ابتدائی طبی امداد کے لیے فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔
مقامی اخبار ’گلوبل نیوز‘ کے مطابق علاقے کے مئیر مارشل چالمر نے اس واقعے پر انتہائی دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے ذہن اس المیے اور ہونے والے نقصان کا اندازہ نہیں کر سکتے۔
ان کے مطابق اس واقعے سے پورا علاقہ دکھ میں مبتلا ہے۔
یاد رہے گزشتہ ماہ کینیڈا کے صوبے اونٹاریو کے شہر لندن میں ایک شخص نے فٹ پاتھ پر ٹرک چڑھا کر مسلم خاندان کے چار افراد کو ہلاک جب کہ ایک کو شدید زخمی کر دیا تھا۔


No media source currently available
حملہ آور کی شناخت بیس برس کے نتھانیل ویلٹمن کے نام سے کی گئی تھی۔
پولیس نے نتھانیل ویلٹمن پر قتل عمد کے چار الزامات عائد کیے ہیں۔
واقعے کے فوری بعد پولیس نے نتھانیل کو قریبی پارکنگ لاٹ سے گرفتار کر لیا تھا۔
واقعے کی رپورٹ میں پولیس نے کہا ہے کہ گرفتار ملزم ہلاک ہونے والوں کے ناموں سے واقف نہیں تھا۔ البتہ ملزم نے اقرار کیا ہے کہ اس نے متاثرہ خاندان کو مسلمان ہونے کی وجہ سے ہی نشانہ بنایا تھا۔

