ویب ڈیسک —
جاپان میں شدید طوفانی بارشوں کے بعد مٹی کے تودے پھسلنے کے ایک بڑے حادثے کے بعد امدادی کارکن لاپتا ہونے والے افراد کی تلاش کا کام جاری رکھے ہوئے ہیں۔ لینڈسلائیڈ کے اس واقعہ میں جاپان کے ایک ساحلی علاقے میں کم از کم چار افراد ہلاک اور ایک سو سے زیادہ لاپتا ہو گئے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈپریس نےجاپان کے علاقے شیزوکا کے قدرتی سانحات سے نمٹنے کے دفتر کی ایک عہدے دار تاکامی چی سوگی یاما کے حوالے سے بتایا ہے کہ مٹی کے تودے پھسلنے کے دو روز بعد ابھی تک 80 افراد کا سراغ نہیں مل سکا ہے۔
عہدےدار اس توقع پر لاپتا ہونے والے افراد کے ناموں کا اعلان کرنے کا سوچ رہے ہیں کہ ممکن ہے کہ وہ لینڈسلائیڈ کے وقت اس علاقے سے باہر ہوں اور زندہ بچ گئے ہوں۔

ابتدا میں یہ بتایا گیا تھا کہ 147 افراد کا سراغ نہیں مل رہا۔ لیکن بعد ازاں عہدے داروں نے یہ تصدیق کرنے کے بعد کہ بعض افراد کو بحفاظت متاثرہ علاقے سے نکال لیا گیا ہے یا وہ اپنے گھروں سے باہر تھے، نظرثانی کی فہرست میں یہ تعداد گھٹا دی تھی۔
عہدے داروں نے بتایا ہے کہ اب تک متاثرہ علاقے سے 25 لوگوں کو نکالا جا چکا ہے جن میں سے تین زخمی ہیں۔

لینڈسلائیڈ کا یہ واقعہ کئی دنوں تک مسلسل جاری رہنے والی شدید بارش کے بعد ہفتے کو علی الصبح اتامی نامی قصبے میں پیش آیا تھا۔
جاپان کا یہ قصبہ پہاڑی علاقے کی ایک ڈھلوان میں واقع ہے۔ اس کی آبادی 37 ہزار نفوس کے لگ بھگ ہے اور یہ اپنی خانقاہوں اور شاپنگ کے مراکز کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے۔ ٹوکیو سے اس کا فاصلہ تقریباً 60 میل ہے۔
شیزوکا کے گورنرہیتا کاواکا تسو نے پیر کے روز متاثرہ علاقے کے معائنے کے بعد بتایا ہے کہ شدید بارشوں کے نتیجے میں زیر تعمیر تنصیبات کی بنیادوں سے مٹی کھسک گئٰ جس سے وہ ڈھلوان کی جانب لڑھک گئیں۔

عہدے دار اس واقعےکی تحقیقات کر رہے ہیں۔
ایک سال قبل جاپان کے شمالی علاقے کیوشو میں شدید بارشوں کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 80 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔
سن 2018 میں ہیروشما کا ایک گنجان آباد رہائشی علاقہ مٹی کے تودے پھسلنے کا نشانہ بن گیا جس سے 20 افراد ہلاک ہوئے۔ اسی طرح سن 2017 میں کیوشو کے علاقے میں لینڈسلائیڈ اور سیلابوں سے 40 افراد موت کے منہ میں چلے گئے تھے۔
