English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارتی اداروں پر ہندوتوا کی چھاپ کے علاقائی سلامتی پر اثرات

القمر

اسلام آباد میں ایک عالمی معیار کی کانفرنس منعقد کی گئی اس کانفرنس کا موضوع ”بھارتی اداروں پر ہندوتوا
کی چھاپ کے علاقائی سلامتی پر اثرات“ تھا۔ 2 روزہ کانفرنس6سے7جولائی کو منعقد کی گئی۔
بین الاقوامی ماہرین میں امریکہ کے مائیکل کُگلمین، چین کے پروفیسر کیو یونگی، مقبوضہ کشمیر سے الطاف
حسین وانی، جرمنی سے بلال حیدر، نیپال کے ڈاکٹرنِشچل ناتھ پانڈے، سری لنکا کے ڈاکٹر شنتھی کمار اور
بنگلہ دیش کے پروفیسر ظہور الحق شریک ہوئے۔

چین سے تعلق رکھنے والے پروفیسر کیو یونگی نے کہا ہندو نیشنلزم نے بھارتی خارجہ پالیسی کو یرغمال بنالیا ہے۔
ہندو نیشنلیسٹ پالیسیوں کے باعث انڈیا کی چین کے ساتھ سفارتی تعلقات بُری طرح متاثر ہوئے ہیں۔
ہندو انتہا پسندوں کے رسوخ کے باعث بھارت کے مغرب بالخصوص امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی پیچیدگی کا شکار ہوئے ہیں۔
نہروُ نے کہا تھا کہ بھارت کے لیے سب سے بڑی مشکل ایک مذہبی معاشرے سے سیکو لر ریاست کی تشکیل ہے۔
ہندو نیشنلزم بھارت کی کلچرل سافٹ پاور کے فروغ کے راستے میں رکاوٹ ہے۔

جرمنی سے بلال حیدر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا آج کی دُنیا میں اسلامو فوبیا بہت بڑی صنعت ہے
اور ہندوتوا بھی اس کاروبار میں شریک ہو گیا ہے۔ عالمی برادری کی طرف سے ہندوتوا کے اثرات پر مطلوبہ
ردِ عمل دیکھنے میں نہیں آتا۔
مُودی کے حکومت میں آنے سے ہندوؤں کو اور بھی شہ ملی ہے۔ 33فیصد ہندو مسلمانوں کے ساتھ مل کر رہنا نہیں چاہتے۔
64فیصد ہندو سمجھتے ہیں کہ اگر کسی کو ہندوستان میں رہنا ہے تو اُسے ہندو ہونا چاہیے۔
مذہبی شدت پسندی اور فسادات کے اعتبار سے بھارت 5بڑے ملکوں میں شامل ہے۔
سردار پٹیل نے بھی اعتراف کیا تھا کہ3لاکھ مسلمانوں کو جان بوجھ کر قتل کر دیا گیا تھا۔
ذات پات کا استحصالی نظام ہندو دَھرم کا فلسفہ ہے۔
بھارت میں ہندوؤں کے علاوہ سب اقلیتوں کو دیوار سے لگایا جا رہا ہے۔

الطاف حسین وانی (مقبوضہ کشمیر)
بھارت میں آر ایس ایس،شیو سینا اور بی جے پی نے مل کر سنگ پریوار بنایا۔
بی جے پی، آر ایس ایس کا آلہء کار ہے۔
زیادہ تر ہندو نیشنلسٹ نیپال، بنگلہ دیش، پاکستان اور افغانستان کو اکھنڈ بھارت کا حصہ مانتے ہیں۔
ہندوتوا کا اثر بھارت کی سرحدوں سے پار تک ہے۔
ہندو کشمیر کو اپنی مقدس سر زمین مانتے ہیں۔ 5اگست2019ء کو مکھر جی کا خواب 66سا ل بعد پُورا ہوا۔
بی جے پی حکومت کا رویہّ ہندوؤں کے معاشرتی ثقافتی اور سیاسی ثقافت کا آئینہ ہے۔
ہندو اُردو کو مسلمانوں کی زبان تصور کر تے ہیں۔
اُردو کو کشمیر کی سر کاری زُبان نہیں رہنے دیا گیا۔
کشمیر کو بھارتی رنگ دینے کے لئے وہ مختلف جگہوں اور سڑکوں کے نام بھی بدل رہے ہیں۔
بی جے پی تاریخ کو دوبارہ لکھنے کے جتن کر رہی ہے۔
مقبوضہ کشمیر میں 84کروڑ کی لاگت سے50ہزار سے زائد مندر تعمیر کئے جا رہے ہیں۔
مقبوضہ کشمیر کے لوگوں کے لئے زمین تنگ کی جا چکی ہے۔

نیپال سے ڈاکٹرنِشچل ناتھ پانڈے نے کہا سوشل میڈیا نے بھی ہندوتوا کو فروغ دیا۔ ہندوتوا کے عروج سے کئی مسائل سر اُٹھا رہے ہیں

اسی طرح سری لنکا سے ڈاکٹر شنتھی کمار نے کہا اندرا گاندھی نے سکھوں کے گولڈن ٹیمپل کو تباہ کیا۔
مذہبی جذبات میں شدت بہت زیادہ خطرناک ثابت ہو تی ہے۔

بنگلہ دیش سے پروفیسر ظہور الحق نے کہا ہندوتوا کی بھارتی سیاست میں گہری جڑیں ہیں۔
انڈیا کا شہریت کا نیا قانون روہنگھیا کی طرح بھارتی مسلمانوں کو ریاست سے بے دَخل کر تا ہے۔
اگر یہ طرزِ عمل جاری رہا تو اور بھی لاکھوں مسلمان بے ریاست ہو جائیں گے۔
ایسے اقدام سے مذہبی فسادات جنم لیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے