غزہ سے تعلق رکھنے والی 15 برس کی لڑکی کے والد نے وزیراعظم پاکستان عمران خان سے بیٹی کے علاج میں مدد کی اپیل کی تاہم انہیں وزیراعظم ہاؤس کی طرف سے تاحال کوئی جواب نہیں مل سکا ہے تاہم سندھ حکومت نے بچی کے علاج کی پیش کش کر دی ہے۔
والا اسد نامی فلسطینی لڑکی ہڈیوں اور پٹھوں کی ایک ایسی بیماری میں مبتلا ہیں جس کا شکار فرد نقل و حرکت کے ساتھ ساتھ کسی چیز کو تھامنے کے معاملے میں دوسروں کا محتاج رہتا ہے۔
انڈیپنڈنٹ نیوز کی رپورٹ کے مطابق ’گذشتہ ماہ غزہ سے تعلق رکھنے والی لڑکی کی آنٹی نے ٹوئٹر پر ان کی بیماری کی تفصیل شیئر کرتے ہوئے براہ راست وزیراعظم عمران خان سے مدد کی اپیل کی تھی۔‘
غزہ میں ایک شخص کی اپنی بیٹی کے علاج کے لیے پاکستانی وزیر اعظم عمران خان سے مدد کی اپیل۔ pic.twitter.com/sFt35buQsZ
— Independent Urdu (@indyurdu) July 10, 2021
گذشتہ ماہ غزہ سے تعلق رکھنے والی لڑکی کی آنٹی نے ٹوئٹر پر ان کی بیماری کی تفصیل شیئر کرتے ہوئے براہ راست وزیراعظم عمران خان سے مدد کی اپیل کی تھی۔‘
ٹویٹ میں وزیراعظم عمران خان کے ساتھ ساتھ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، گورنر سندھ عمران اسماعیل، پی پی پی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت پاکستان سے تعلق رکھنے والے کچھ صحافیوں کو بھی مینشن کیا گیا تھا۔
@ImranKhanPTI
Dear Prime Minister, #ImranKhan, A Palestinian girl needs your help for the treatment of curable bone disease in #Pakistan.@ImranKhanPTI @SMQureshiPTI @ImranIsmailPTI @BBhuttoZardari @izzahaamir @haseebasgher @Aarifarif1 @suhailyusuf @AmjadiSiraj pic.twitter.com/0NEgpM7xWH— MaRy (@Mary20273) June 28, 2021
والا کے والد ہوسف حسن اسد نے اپنے پیغام میں کہا کہ ’پاکستان ایک مسلم ملک ہے اور وہ پاکستان سے محبت کرتے ہیں۔ چونکہ پاکستان میں ان کی بیٹی کی بیماری کا علاج میسر ہےاس لیے میں وزیراعظم عمران خان سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے ہاں ان کے علاج کا انتظام کرائیں۔‘ انہوں نے بتایا کہ ’پاکستان کی وفاقی حکومت نے ابھی تک علاج کے لیے کی گئی اپیل کا جواب نہیں دیا ہے۔‘
وزیراعظم عمران خان کی جانب سے علاج اور پاکستان کے سفر کے اخراجات اٹھانے میں تعاون کے خواہاں یوسف حسن اسد کے مطابق ’پاکستان کے شہر کراچی کا جناح ہسپتال بیماری سے متعلق دستاویزات ملنے پر بیٹی کے آپریشن کے لیے تیار ہے۔ وہ علاج کرسکتے ہیں لیکن یہ مہنگا عمل ہے۔‘
اپنی بیٹی کی کیفیت بیان کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’وہ اپنے ہاتھ ہلانے اور کسی چیز کو تھامنے سے قاصر ہے۔‘
’ان کے اعصاب میں، ٹانگوں میں مسئلہ ہے جس کے باعث وہ حرکت نہیں کر سکتیں۔ وہ جب بھی کھڑی ہونا چاہیں تو کسی کو ان کے مدد کرنا پڑتی ہے۔‘
اسد کے مطابق ’بیٹی کا ایک آپریشن ہو چکا ہے لیکن غزہ میں مزید علاج ممکن نہیں ہے۔ ’اسرائیل یا کسی بھی دوسرے ملک سے کسی نے علاج کے لیے ہماری مدد نہیں کی ہے۔‘
سندھ حکومت کے ترجمان مرتضیٰ وہاب نے ٹوئٹر پر دیے گئے جواب میں غزہ سے تعلق رکھنے والے اسد کی بیٹی کے علاج میں معاونت کی پیش کش کی ہے۔
I have spoken to the Doctors at Jinnah Hospital. Treatment is possible however they will need more details about the girl. They will be happy to do a skype session with the u or anyone who is well acquainted with the case history. #SindhGovt will be happy to be of assistance https://t.co/hAXZn80883
— Murtaza Wahab Siddiqui (@murtazawahab1) July 3, 2021
بعد ازاں بچی کی آنٹی نے ٹویٹ کے ذریعے بتایا کہ ان کی سندھ حکومت کے مرتضی وہاب سے بات ہوگئی ہے، انہوں نے مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی ہے۔ والا کے غزہ میں ڈاکٹروں سے بات کر کے آگے کا لائحہ عمل بنا دیا جائے گا۔
Sindh government spokesman @murtazawahab1 contacted us and assured us, the Sindh government is lining up for further process after meeting with Walla’s Dr in #Gaza
— MaRy (@Mary20273) July 10, 2021
