ایوان بالا (سینیٹ) میں اپوزیشن رکن کی جانب سے پیش کیا گیا دوران حراست تشدد اور موت کے انسداد اور سزا کا بل 2021 منظور کر لیا گیا۔
سینیٹ میں مذکورہ بل پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کی سینیٹر شیری رحمٰن نے پیش کیا اور وزیر انسانی حقوق شیریں مزاری نے اس کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ تشدد میں ملوث کسی بھی سرکاری ملازم کو 10 سال تک قید اور 20 لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا کا سامنا کرنا پڑے گا۔
اگر کوئی سرکاری ملازم، جس کا فرض تشدد کو روکنا ہے، وہ جان بوجھ کر یا غفلت برتتے ہوئے اس کی روک تھام میں ناکام رہتا ہے تو اسے 5سال قید اور ایک لاکھ روپے تک جرمانے کا سامنا کرنا پڑے گا۔
بل کے حوالے سے مزید کہا گیا کہ جو بھی شخص دوران حراست موت یا جنسی تشدد کے جرم کا ارتکاب یا اس کی سازش کرے گا تو اسے عمر قید اور 30لاکھ روپے تک جرمانے کی سزا ہوسکتی ہے۔
"The Torture and Custodial Death (Prevention and Punishment) Bill, 2021 protects the poor and vulnerable the most. Criminalising torture is the urgent need of the hour” – Sen @sherryrehman on her Anti-torture bill in the Senate pic.twitter.com/pw3lu52HUP
— SherryRehman’sTeam (@SRehmanOffice) July 12, 2021
