English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

افغانستان میں امریکہ اور نیٹو کی مدد کرنے والوں کی منتقلی، جولائی کے آخر میں خصوصی پروازیں

صدر بائیڈن کی ہدایت پر امریکہ ان افغان باشندوں اور ان کے اہل خانہ کی نقل مکانی کے لیے امدادی پروازیں شروع کر رہا ہے جنہوں نے افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مشن کی مدد کی اور جن کی امیگریشن کے لیے درخواستیں جانچ پڑتال کے مراحل میں ہیں۔

جن افغان باشندوں کی امیگریشن سے متعلق درخواستیں پہلے ہی سے پراسس میں ہیں، انہیں افغانستان سے نکالنے کے لیے پروازیں جولائی کے آخری ہفتے میں شروع ہوں گی۔

اس سے قبل افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے لیے مترجم اور دیگر شعبوں میں خدمات سرانجام دینے والوں نے کابل میں مظاہرے کیے تھے اور کہا تھا کہ فورسز کے انخلا کے بعد وہ اور ان کے خاندان طالبان کے رحم و کرم پر ہوں گے اور انہیں پہلے ہی جان سے مار دینے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں امیگریشن دے کر امریکہ منتقل کیا جائے۔

تاہم، طالبان نے کہا تھا کہ وہ ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کریں گے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، غیر ملکی افواج کے لیے خدمات سرانجام دینے والے افغان باشندوں اور ان کے اہل خانہ کی تعداد کئی ہزار ہے۔

صدر بائیڈن افغانستان سے فوجی انخلا کی 31 اگست کی حتمی تاریخ کا اعلان کر رہے ہیں۔ 8 جولائی 2021

صدر بائیڈن افغانستان سے فوجی انخلا کی 31 اگست کی حتمی تاریخ کا اعلان کر رہے ہیں۔ 8 جولائی 2021

وائٹ ہاؤس سے وائس آف امریکہ کی نمائندہ پیٹسی وڈاکوسوارا نے بتایا ہے کہ سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے اس بارے میں یہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں کہ پروازیں کب سے شروع ہوں گی، لیکن وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اسی مہینے کے دوران پروازیں شروع کرنے کے صدر کے وعدے کو پورا کیا جائے گا۔

صدر بائیڈن 31 اگست تک فوجی انخلا مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے یہ واضح کر چکے ہیں کہ امریکہ کو اس بارے میں پورا یقین ہے کہ افغانستان کی مسلح افواج کے پاس اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لئے وسائل اور صلاحیت موجود ہے اور یہ کہ اس تنازع کو بالآخر مذاکرات کی میز پر حل کرنا پڑے گا۔

تاجکستان، ترکمانستان اور کوسوو میں سفارتی مشن کی قیادت کرنے والی سفارت کار ٹریسی جیکب سن، جو اس وقت اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے کوآرڈینیشن یونٹ کی سربراہ ہیں، افغان جنگ میں امریکہ کے اتحادی پناہ گزینوں کے بارے میں صدر بائیڈن کے وعدے کو عملی جامہ پہنائیں گی۔ اس یونٹ میں دفاع اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے نمائندے بھی شامل ہیں۔

ہوم لینڈ سیکیورٹی کے نائب مشیر اور نیشنل انسداد دہشت گردی مرکز کے سابق سربراہ، رس ٹریورس افغان آپریشن کے اتحادی پناہ گزینوں سے متعلق اجتماعی پالیسی کے عمل کو مربوط کرنے کا کام کر رہے ہیں۔

غیر ملکی افواج کا انخلا، افغانستان میں خانہ جنگی کا خدشہ





please wait



No media source currently available

وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جن ساکی نے اس سلسلے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم ان لوگوں کی منتقلی کے لیے خصوصی پروازیں شروع کر رہے ہیں، جو بقول ان کے، امریکہ کے آپریشنل اتحادی مہاجر ہیں۔ یہ پروازیں ان لوگوں کے لیے شروع کی جا رہی ہیں جو امیگریشن کے قواعد کے تحت منتقلی کی شرائط پوری کرتے ہیں اور افغانستان چھوڑنے کے خواہش مند ہیں۔

انہوں نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر مزید تفصیلات بتانے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جولائی کے آخری ہفتے سے شروع ہونے والی پروازیں جاری رہیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ہدف یہ ہے کہ اگست کے آخر میں فوجی انخلا مکمل ہونے سے قبل ہی منتقلی کے ضابطے پورے کرنے والوں کو افغانستان سے باہر نکال لیا جائے۔

اس سوال کے جواب میں کہ کیا انہیں کسی تیسرے ملک بھی منتقل کیا جا سکتا ہے جس میں امریکہ کا ایک علاقہ گوام بھی شامل ہے، جین ساکی کا کہنا تھا کہ میں نہ تو اس کی تصدیق کر سکتی ہوں اور نہ ہی اس سے انکار کر سکتی ہوں۔ لیکن، یہ بات واضح ہے کہ جن لوگوں کو افغانستان سے نکالا جا رہا ہے، ان کی سیکیورٹی ہمارے لیے سب سے اہم ہے اور ہم اس پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے