ویب ڈیسک —
صدر بائیڈن کی ہدایت پر امریکہ ان افغان باشندوں اور ان کے اہل خانہ کی نقل مکانی کے لیے امدادی پروازیں شروع کر رہا ہے جنہوں نے افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے مشن کی مدد کی اور جن کی امیگریشن کے لیے درخواستیں جانچ پڑتال کے مراحل میں ہیں۔
جن افغان باشندوں کی امیگریشن سے متعلق درخواستیں پہلے ہی سے پراسس میں ہیں، انہیں افغانستان سے نکالنے کے لیے پروازیں جولائی کے آخری ہفتے میں شروع ہوں گی۔
اس سے قبل افغانستان میں امریکی اور نیٹو افواج کے لیے مترجم اور دیگر شعبوں میں خدمات سرانجام دینے والوں نے کابل میں مظاہرے کیے تھے اور کہا تھا کہ فورسز کے انخلا کے بعد وہ اور ان کے خاندان طالبان کے رحم و کرم پر ہوں گے اور انہیں پہلے ہی جان سے مار دینے کی دھمکیاں مل رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ تھا کہ انہیں امیگریشن دے کر امریکہ منتقل کیا جائے۔
تاہم، طالبان نے کہا تھا کہ وہ ان کے خلاف کوئی انتقامی کارروائی نہیں کریں گے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، غیر ملکی افواج کے لیے خدمات سرانجام دینے والے افغان باشندوں اور ان کے اہل خانہ کی تعداد کئی ہزار ہے۔

وائٹ ہاؤس سے وائس آف امریکہ کی نمائندہ پیٹسی وڈاکوسوارا نے بتایا ہے کہ سیکیورٹی کے نقطہ نظر سے اس بارے میں یہ معلومات فراہم نہیں کی گئیں کہ پروازیں کب سے شروع ہوں گی، لیکن وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اسی مہینے کے دوران پروازیں شروع کرنے کے صدر کے وعدے کو پورا کیا جائے گا۔
صدر بائیڈن 31 اگست تک فوجی انخلا مکمل کرنے کا اعلان کرتے ہوئے یہ واضح کر چکے ہیں کہ امریکہ کو اس بارے میں پورا یقین ہے کہ افغانستان کی مسلح افواج کے پاس اپنے ملک کا دفاع کرنے کے لئے وسائل اور صلاحیت موجود ہے اور یہ کہ اس تنازع کو بالآخر مذاکرات کی میز پر حل کرنا پڑے گا۔
تاجکستان، ترکمانستان اور کوسوو میں سفارتی مشن کی قیادت کرنے والی سفارت کار ٹریسی جیکب سن، جو اس وقت اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے کوآرڈینیشن یونٹ کی سربراہ ہیں، افغان جنگ میں امریکہ کے اتحادی پناہ گزینوں کے بارے میں صدر بائیڈن کے وعدے کو عملی جامہ پہنائیں گی۔ اس یونٹ میں دفاع اور ہوم لینڈ سیکیورٹی کے نمائندے بھی شامل ہیں۔
ہوم لینڈ سیکیورٹی کے نائب مشیر اور نیشنل انسداد دہشت گردی مرکز کے سابق سربراہ، رس ٹریورس افغان آپریشن کے اتحادی پناہ گزینوں سے متعلق اجتماعی پالیسی کے عمل کو مربوط کرنے کا کام کر رہے ہیں۔


No media source currently available
وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری جن ساکی نے اس سلسلے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ہم ان لوگوں کی منتقلی کے لیے خصوصی پروازیں شروع کر رہے ہیں، جو بقول ان کے، امریکہ کے آپریشنل اتحادی مہاجر ہیں۔ یہ پروازیں ان لوگوں کے لیے شروع کی جا رہی ہیں جو امیگریشن کے قواعد کے تحت منتقلی کی شرائط پوری کرتے ہیں اور افغانستان چھوڑنے کے خواہش مند ہیں۔
انہوں نے سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر مزید تفصیلات بتانے سے معذوری ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ جولائی کے آخری ہفتے سے شروع ہونے والی پروازیں جاری رہیں گی۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارا ہدف یہ ہے کہ اگست کے آخر میں فوجی انخلا مکمل ہونے سے قبل ہی منتقلی کے ضابطے پورے کرنے والوں کو افغانستان سے باہر نکال لیا جائے۔
اس سوال کے جواب میں کہ کیا انہیں کسی تیسرے ملک بھی منتقل کیا جا سکتا ہے جس میں امریکہ کا ایک علاقہ گوام بھی شامل ہے، جین ساکی کا کہنا تھا کہ میں نہ تو اس کی تصدیق کر سکتی ہوں اور نہ ہی اس سے انکار کر سکتی ہوں۔ لیکن، یہ بات واضح ہے کہ جن لوگوں کو افغانستان سے نکالا جا رہا ہے، ان کی سیکیورٹی ہمارے لیے سب سے اہم ہے اور ہم اس پر اپنی توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔
