کراچی میں بجلی کی بار بار بندش پر وزیراعظم کا نوٹس کام آیا نا نیپرا کی ہدایت کیونکہ کے الیکٹرک نے مون سون کے لیئے کوئی تیاری نہیں کی۔ برسوں سے آزمودہ نسخہ آج بھی آزمایا گیا بارش شروع ہوتے ہی شہر کے بیشتر حصہ کی بجلی بند ہوگئی۔
شہر قائد میں بارش، کے الیکٹرک کا سسٹم ریت کی دیوار ثابت ہوا۔ ایک بار پھر شہر کا بڑا حصہ بجلی سے محروم ہو گیا۔
شہر کے مختلف علاقوں میں بارش شروع ہوتے ہی بجلی بند ہو گئی۔ کچھ علاقوں میں بارش سے قبل ہی بجلی معطل ہو گئی تھی۔
کے الیکٹرک کے ایک ہزار سے زائد فیڈرز متاثر ہوئے ہیں۔
کچھ فیڈرز کو بارش سے قبل ہی احتیاطی تدابیر کے طور پر بند کیا گیا تھا اور کچھ حسب معمول یڈرز بارش سے ٹرپ ہو گئے۔
متاثرہ علاقوں میں لیاری۔ گلشن اقبال ۔لیاقت آباد ۔گلستان جوہر۔پی آئی بی کالونی ۔طارق روڈ ۔ناظم آباد۔ گلشن حدید۔کورنگی ۔لانڈھی۔ملیر۔ شاہ فیصل کالونی ۔محمود آباد ۔منظور کا لونی ۔نارتھ کراچی۔ اولڈ سٹی ایریا ۔گارڈن ۔صدر ۔ ماڈل کالونی۔سعود آباد۔ جعفر طیار سوسائٹی۔ عمار یاسر سوسائٹی۔دلبود گوٹھ۔ سی ایریا۔ معین آباد۔ الفلاح گرین ٹاؤن۔ عظیم پورہ۔ قائد آباد۔ شاہ لطیف۔ گلشن حدید۔معمار۔ احسن آباد شامل ہیں
شہر کے مختلف علاقوں میں رات سات بجے سے ہی بجلی غائب ہے۔ سارا سال مرمت کے کام کے نام پر یومیہ نو سے دس گھنٹے بجلی بند رکھی جاتی ہے۔ مرمت کے کام کے باوجود بارش شروع ہوتے ہی بجلی بند کر دی جاتی ہے۔
دوسری جانب کے الیکٹرک کا کہنا ہے بجلی حادثات کی روک تھام کے لیے بند کی جاتی ہے۔ کے الیکٹرک کا بوسیدہ نظام پہلے بھی درجنوں انسانی جانیں نگل چکا ہے۔
