ویب ڈیسک —
یورپی ملک جرمنی اور بیلجیم میں بارش اور سیلاب نے تباہی مچا دی۔ مختلف حادثات و واقعات میں 60 سے زیادہ افراد ہلاک اور درجنوں لاپتا ہو گئے ہیں۔
خبر رساں ادارے ‘ایسوسی ایٹڈ پریس’ کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے متاثرہ ملکوں میں ہلاک ہونے والوں میں نو افراد کا تعلق معذور افراد کے لیے بنائے گئے فلاحی مرکز سے تھا جب کہ امدادی کاموں میں مصروف دو فائر فائٹرز بھی سیلاب کی نذر ہوئے ہیں۔
مغربی یورپ میں بدھ اور جمعرات کو حالیہ طوفان کے باعث دریا اور پانی جمع کرنے کے ذخائر بپھر گئے جو سیلاب کی وجہ بنے جس نے راتوں رات جرمنی اور بیلجیم کے کئی دیہی علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
جرمن ریاست نارتھ رین ویسٹفالیا کے حکام نے کم از کم 30 جب کہ جنوبی ریاست رین لینڈ پیلاٹینیٹ کے حکام نے 28 افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے۔ اسی طرح بیلجیم سے آنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں مختلف واقعات میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
جرمنی کے مختلف علاقوں میں جمعرات کو سیلابی ریلے سے متعدد سڑکوں کو نقصان پہنچا اور درجنوں مکانات بہہ گئے۔ کئی علاقوں میں گھروں میں پانی داخل ہونے سے مکینوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
ریاست رین لینڈ پیلاٹینیٹ کا ایک گاؤں شولڈ سیلابی ریلے سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے جہاں متعدد گھر تباہ اور درجنوں افراد لاپتا ہو گئے ہیں۔ بعض دیہات میں لکڑی یا پرانی اینٹوں سے بنے گھروں کو زیادہ نقصان پہنچا ہے۔
سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی صورتِ حال یہ ہے کہ مختلف سڑکوں کی ٹوٹ پھوٹ سمیت فون اور انٹرنیٹ سروس کی معطلی کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا ہے۔

ریسکیو آپریشن کے لیے سینکڑوں فوجی خدمات پیش کر رہے ہیں۔ شولڈ سمیت دیگر دیہات سے ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کی مدد سے لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔
جرمن ریاست رین لینڈ پیلاٹینینٹ کی گورنر مالو ڈریئر نے ریجنل پارلیمنٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ہم نے پہلے کبھی اس طرح کی تباہی نہیں دیکھی، یہ واقعی ایک تباہ کن صورتِ حال ہے جس میں کئی افراد ہلاک اور لاپتا ہو گئے ہیں اور کئی کو اب بھی خطرے کا سامنا ہے۔”
جرمن چانسلر انگیلا مرکل ان دنوں سرکاری دورے پر امریکہ میں موجود ہیں۔ انہوں نے سیلاب کے نتیجے میں ہونے والے جانی و مالی نقصان پر دکھ کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی تمام ہمدردیاں ان متاثرہ خاندانوں کے ساتھ ہیں جن کے پیارے قدرتی آفت میں جانیں گنوا چکے ہیں۔
دوسری جانب بیلجیم کے شہر لیگ میں بھی صورتِ حال کچھ مختلف نہیں جہاں لا وسڈر دریا سیلابی پانی کے باعث بپھر گیا جس نے قریبی علاقوں کو شدید متاثر کیا۔

اسی طرح لیگ شہر کے دریائے میوس میں بھی پانی کی سطح بڑھنے پر جمعرات کو شہر کے میئر نے اعلان کیا کہ دریا کے کنارے بسنے والے فوری طور پر علاقہ خالی کر کے محفوظ مقامات پر منتقل ہو جائیں۔
واضح رہے کہ جرمنی اور بیلجیم میں سیلاب کی تباہ کاریوں کے دوران اب تک ہونے والی اموات اور املاک کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ نہیں لگایا گیا۔
سیلاب کے باعث سڑکیں تباہ ہونے سے کئی دیہات کا رابطہ منقطع ہے جب کہ لینڈ سلائڈنگ کی وجہ سے وہاں پہنچنا بھی دشوار ہے۔ دونوں ملکوں میں قدرتی آفت کے نتیجے میں مرنے والوں کی بیشتر لاشیں سیلابی ریلا تھمنے کے بعد ملی ہیں۔
