English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کرونا وائرس کے بارے میں غلط معلومات کو پھیلنے سے روکا جائے، امریکی سرجن جنرل

امریکہ کے سرجن جنرل ویوک مورتھی نے جمعرات کو صحت عامہ کے لئے ایک ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں عوام پر زور دیا گیا ہے کہ وہ کووڈ- 19 کی ویکسین کے بارے میں غلط معلومات پر کنٹرول میں مدد کریں، جو ان کے بقول، امریکی ویکسی نیشن پروگرام کی سست روی کا باعث بن رہی ہیں۔

امریکہ میں حکومت کی مہم کے باوجود کئی ریاستوں میں کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے کا عمل سست روی کا شکار ہے اور وہاں ویکسین لگوانے کی شرح 50 فی صد سے بھی کم ہے۔

کرونا کے تیزی سے پھیلنے والے مہلک ویرینٹ ڈیلٹا کے پھیلاؤ میں اضافے نے حکام کو متفکر کر دیا ہے۔ ڈیلٹا ویرینٹ کے کیسز ان ریاستوں میں زیادہ رپورٹ ہو رہے ہیں جہاں ویکسی نیشن کی سطح کم ہے۔

مورتھی نے اس سال کے شروع میں اپنا منصب سنبھالنے کے بعد سے پہلی ایڈوائزری جاری کی ہے جس میں انہوں نے صحت کے بارے میں غلط معلومات پھیلانے کو صحت عامہ کے لئے ایسا سنگین خطرہ قرار دیا ہے جس کے نتیجے میں ابہام اور بے اعتمادی پیدا ہو سکتی ہے، لوگوں کی صحت کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور لوگوں کی صحت کو قائم رکھنے کی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

کئی امریکی ریاستوں میں لوگ کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے سے اجتناب کر رہے ہیں۔

کئی امریکی ریاستوں میں لوگ کرونا سے بچاؤ کی ویکسین لگوانے سے اجتناب کر رہے ہیں۔

سرجن جنرل مورتھی نے کہا کہ غلط معلومات کی وجہ سے ایسے واقعات بھی پیش آئے جس میں صحت عامہ اور بیماریوں سے بچنے کے سلسلے میں معلومات فراہم کرنے یا ان پر عمل در آمد کرانے والے کارکنوں کو دھمکیاں دی گئیں اور انہیں تشدد کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

مورتھی نے عوام پر زور دیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر عالمی وبا کے متعلق ملنے والی معلومات کی قابل بھروسا اور مستند ذرائع سے جانچ پڑتال اور اس کی درستگی کی تصدیق کریں۔

انہوں نے کہا کہ اگر آپ کو ان معلومات کے بارے میں شک و شبہات ہیں یا ان پر یقین نہیں ہے تو انہیں دوسروں تک پہنچانے سے اجتناب کریں۔

امریکہ: پانچ سے 11 سال کے بچوں پر کرونا ویکسین کے تجربات، ردِ عمل کیا ہے؟





please wait



No media source currently available

امریکی سرجن جنرل نے ٹیک کمپنیوں پر بھی زور دیا کہ وہ غلط معلومات کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اپنے نظاموں کو بہتر اور مستعد بنائیں۔

سرجن جنرل نے ڈس انفارمیشن اور مس انفارمیشن کے درمیان فرق کو بھی واضح کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ مس انفارمیشن کسی چیز کے بارے میں علم نہ ہوتے ہوئے اسے پھیلانا ہے جب کہ ڈس انفارمیشن یہ ہے کہ یہ ادراک ہونے کے باوجود کہ وہ غلط ہے، اسے اپنے مفاد کے لیے پھیلانا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غلط اور گمراہ کرنے والی معلومات کو سوشل نیٹ ورکس پر جذباتی اور جارحانہ انداز میں پھیلایا جاتا ہے جس پر انہیں لائک اور کومنٹس بھی ملتے ہیں۔

سرجن جنرل کا کہنا تھا کہ غلط معلومات سے بچاؤ کے لیے آپ اپنے خاندان اور دوستوں کی بھی مدد کریں تاکہ وہ غلط معلومات کی وجہ سے نقصان میں نہ رہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے