ویب ڈیسک —
طالبان کا کہنا ہے کہ غیر اعلانیہ جنگ بندی کی پاسداری کی جا رہی ہے، تاکہ حالات پر امن رہیں اور افغان عید الاضحیٰ کی خوشیوں میں شریک ہو سکیں۔ منگل کو عید کا پہلا دن تھا اور، اطلاعات کے مطابق، افغانستان میں لڑائی عارضی طور پر رکی رہی۔
عید الاضحیٰ کے سہ روزہ جشن کا کل پہلا دن تھا اور ملک بھر میں افغان حکومتی افواج اور طالبان کے مابین لڑائی کی اطلاعات موصول نہیں ہوئیں، ماسوائے صبح کے وقت دارالحکومت کابل میں نماز عید کے دوران راکٹ حملے کے ایک واقعہ کے۔
افغان وزارت داخلہ نے بتایا ہے کہ جب حکومت کے اعلیٰ اہل کاروں کے ہمراہ صدر اشرف غنی نماز عید ادا کر رہے تھے، اس وقت صدارتی محل پر کم از کم تین راکٹ گرے۔ تاہم، صدر غنی اور دیگر اہل کاروں نے کھلے میدان میں منعقدہ اس تقریب کے دوران نماز کی ادائیگی جاری رکھی، جس کی تصدیق ٹیلی ویژن کوریج سے بھی بخوبی ہوتی ہے۔
اس حملے کی ذمے داری دولت اسلامیہ سے منسلک علاقائی دھڑے، داعش صوبہ خراسان نے قبول کی ہے۔
سن 2018ء سے لے کر اب تک طالبان عید کے موقع پر افغان سیکیورٹی فورسز کے ساتھ باقاعدگی کے ساتھ معاہدہ طے کرتے رہے ہیں، لیکن اس عید کے موقع پر باغی گروپ نے ایسا کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا۔ اس سوال پر آیا اس بار جنگ بندی کا باضابطہ اعلان کیوں سامنے نہیں آیا، طالبان کے ترجمان سہیل شاہین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ہر سال ہماری طرف سے فی الواقع جنگ بندی ہوا کرتی ہے، تاکہ یہ بات یقینی بنائی جا سکے کہ عید کا جشن پرامن طور پر اور آسانی کے ساتھ منایا جائے۔
شاہین نے وضاحت کی کہ کبھی ہم باضابطہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کرتے ہیں اور کبھی اعلان نہیں کیا جاتا۔ لیکن جب ہم عید کے موقع پر جنگ بندی کا باضابطہ اعلان نہیں کرتے، تب بھی ہم اس کی پابندی ضرور کرتے ہیں۔
افغانستان کے نجی ٹیلی ویژن چینل، طلوع نیوز کی اطلاع کے مطابق، طالبان کے حملوں یا کشیدگی کے شکار اضلاع میں سرکاری افواج اور باغی عناصر کے مابین مزید جھڑپوں کی کوئی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔
نیٹ ورک نے بتایا ہے کہ لڑائی رکنے کے نتیجے میں یہ ممکن ہوا کہ لوگ پر امن ماحول میں عید کی خوشیاں منا سکیں۔
ایسے میں جب امریکی قیادت والی غیر ملکی افواج کا انخلا تیزی سے جاری ہے، افغانستان میں عدم تحفظ کی صورت حال میں اضافہ دیکھا گیا ہے، فوجوں کی واپسی آئندہ ماہ کے اواخر تک مکمل ہو جائے گی۔
بتایا جاتا ہے کہ فوجوں کے انخلا کا کام 95 فی صد مکمل ہو چکا ہے۔ لیکن اس کے نتیجے میں طالبان کا حوصلہ بڑھا ہے جنہوں نے حملے تیز کر دیے ہیں اور ان کی جانب سے مزید افغان اضلاع یا ہمسایہ ملکوں کی سرحدی گزرگاہوں پر قبضے کی کوششیں جاری ہیں۔
امریکہ کے زیر سایہ طالبان اور افغان حکومت کے درمیان ہونے والی امن بات چیت کا کوئی خاص نتیجہ سامنے نہیں آیا۔
دونوں فریقوں کے اعلیٰ ترین قائدین نے گزشتہ ہفتے قطر کے دارالحکومت، دوحہ میں مذاکرات کیے اور امن عمل میں تیزی لانے پر رضامند دکھائی دیے، لیکن ان میں کوئی خاطر خواہ اہم پیش رفت حاصل نہیں ہو سکی۔
سہیل شاہین نے منگل کے روز بتایا کہ طالبان اس بات کی خواہش نہیں رکھتے کہ طاقت کے زور سے’ افغانستان کا اقتدار سنبھالیں، اور یہ کہ وہ اس بات کے خواہاں ہیں کہ مذاکرات کے ذریعے متحارب افغانوں کے ساتھ امن سمجھوتے پر پہنچیں، تاکہ لڑائی بند ہو۔
تاہم، غنی اور غیر ملکی ناقدین ان کے وعدوں کو شک کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
عید کے پہلے دن نماز سے قبل ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے، صدر غنی نے کہا کہ ہم امن کے حصول کے لیے پرعزم ہیں اور ہم اس کی خاطر کسی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔ لیکن ان (طالبان) کا امن کا کوئی ارادہ نہیں لگتا۔
پیر کے دن کابل میں تعینات غیر ملکی سفارت کاروں نے مشترکہ بیان میں طالبان سے عسکری کارروائیاں بند کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے بتایا کہ سرکش سرگرمیاں جاری رکھتے ہوئے باغی گروپ کا یہ دعویٰ کہ وہ مذاکرات کے ذریعے جنگ کا خاتمہ چاہتے ہیں، درست معلوم نہیں ہوتا۔
واشنگٹن میں منگل کے روز امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹیڈ پرائس نے اخباری نامہ نگاروں کو بتایا کہ تشدد کی کارروائیوں کے خاتمے کے لیے ہم تیزی سے سیاسی تصفیے کی جانب پیش رفت پر زور دیتے ہیں۔
ترجمان نے کہا کہ ہم اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ انصاف پر مبنی اور دیرپا امن کا حصول افغان عوام کی دیرینہ خواہش رہی ہے۔ اور ہم اسی نوعیت کی سفارت کاری کی حمایت کرتے رہے ہیں اور بین الاقوامی برادری بھی اس کی حامی ہے۔
