پاکستان کے خلاف زہریلے بیانات دینے والے افغانستان کی سلامتی کے وزیر حمد اللہ کی قیادت میں وفد نے
لندن میں تین بار کے سابق وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف سے ملاقات کی۔
تفصیلی ملاقات کے بعد کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ پاکستان
مسلم لیگ کے قائد سے یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب افغانستان میں طالبان کی صورت تبدیلی
ناگزیر ہو چکی ہے۔

دوسری جانب سیکیورٹی ایڈوائزر حمداللہ سے متعلق پاکستان میں کوئی اچھی شہرت نہیں کیونکہ یہ اکثر
انتہائی سخت مخالفانہ بیانات دیتے رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس ملاقات کو پاکستان میں سوشل میڈیا
پر کڑی تنقید کی جارہی ہے۔
باالخصوص علاج کے نام پر لندن میں جلاوطنی کاٹنے والے نواز شریف پر تنقید ہورہی ہے کیونکہ وہ بھی
اسٹیبلشمنٹ کے خؒلاف لندن میں بیٹھ کے انتہائی سخت تقریریں کرتے رہے ہیں۔
سوشل میڈیا پر صارفین سوال کر رہے ہیں کہ باہمی دلچسپی کے امور سے مراد کیا ہے؟ کیا دونوں کا پاکستان
دشمنی پر مشتمل ایجنڈا تھا؟
بلکہ تحریک انصاف انصاف اور بعض دیگر اداروں سے وابستہ افراد تو اس ملاقات کو غداری اور ملک
دشمن ایجنڈا کا شاخصانہ قرار دے رہے ہیں۔

حکومت کے حمایت یافتہ بلاگرز تو انتہائی غیراخلاقی زبان استعمال کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے حمداللہ وہ
شخص ہے جس سے پاکستان کی حکومت نے سرکاری سطح پر رابطہ منقطع کر رکھا ہے۔ ایسے میں نواز
شریف کی جانب سے ملاقات زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے۔
خیال رہے ڈپلومیسی میں کوئی چیز نہ ممکن نہیں ہوتی۔ بغیر لڑے اپنے مقصد حاصل کرنے کو ہی سیاست
اور سفارت کاری کہا جاتا ہے۔ دو ملکوں کے درمیان تعلقات بھی ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے لیکن بدقسمتی
بھارت کی طرح افغانستان کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات زبردستی کی شادی کی طرح ہی رہے ہیں۔
آنے والے وقت میں افغانستان کی صورت حال ہی خطے باالخصوص پاکستان کے امن کی راہ کا تعین کرے
گی۔ ایسے میں ہمیں اپنے سیاسی محرے بڑی احتیاط سے استعمال کرنے ہوں گے۔ وہ کہتے ہیں نہ کہ کبھی
کھوٹے سکھے بھی کام آجایا کرتے ہیں۔
