نور مقدم قتل کیس کے ملزم ظاہر جعفر کی طبعیت گزشتہ روز ناساز ہوگئی اور طعیبت خراب ہونے پر ظاہر جعفر کا پمز ہسپتال میں چیک اپ کیا گیا۔
پولیس کے مطابق ملزم ظاہر جعفر مسلسل سر درد کی شکایت کررہا تھا جس کے بعد اسے پمز ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ڈاکٹروں کی جانب سے طبی معائنہ کرنے کے بعد ان کی صحت تسلی بخش قرار دی گئی جس کے بعد پولیس نے ملزم کو واپس جیل منتقل کردیا۔
لیکن سوال یہ اٹھتا ہے کہ آیا پولیس کی تحویل میں تمام ملزمان کو طبی معائنے کے لئے ہسپتال منتقل کیا جاتا ہے یا یہ سہولت صرف ملزم ظاہر جعفر کو دی گئی؟
نور مقدم کو بے دردی سے قتل کرنے والے ظاہر جعفر کو علاج کی غرض سے پمز ہسپتال لانے پر سوشل میڈیا پر بحث چھڑ گئی ہے۔ مرتضیٰ بھٹو کی صاحبزادی فاطمہ بھٹو نے ظاہر جعفر کو علاج کے لئے پمز ہسپتال لانے پر سوالات اٹھائے، تشویش کا اظہار کیا اور اسے طاقت کا ناجائز استعمال قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ظاہر جعفر امیر ہونے کی وجہ سے اثرورسوخ استعمال کر رہا ہے باوجود اس کے کہ وہ انتہائی خطرناک جرم کا مرتکب ہوا ہے۔
Unless every single prisoner in the Pakistani penal system goes to PIMS when they have a headache, this is a sick abuse of power. Zahir Jaffer getting all the privileges of his wealth and influence in jail after his heinous crime is outrageous. https://t.co/ZQsUcUB5Ik
— fatima bhutto (@fbhutto) August 4, 2021
نیا دور میڈیا نے اس حقیقت کو جاننے لے لئے کرائم رپورٹرنگ کرنے والے صحافیوں اور قانونی ماہرین سے بات کی ۔
واضح رہے کہ دو ماہ پہلے اسلام آباد پولیس کی تحویل میں جاں بحق ہونے والے دِیر کے ایک نوجوان کو تشدد کرنے کے بعد ہسپتال منتقل نہیں کیا گیا تھا اور جیل میں ان کو عارضی طبی ریلیف دیا گیا تھا لیکن ملزم ظاہر جعفر کو یہ سہولت کیوں دی گئی اس پر سوشل میڈیا پر آوازیں اٹھ رہے ہیں۔
اسلام آباد میں رہائش پذیر قانونی ماہر ایڈووکیٹ مفید خان یوسفزئی کہتے ہیں کہ علاج تک رسائی ہر شہری کا بنیادی حق ہے اور اگر ایک کیس ابھی ٹرائل کے مرحلے میں ہو اور ملزم کی طبعیت خراب ہوجائے تو پھر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس کو طبعی سہولت دی جائے اور ظاہر جعفر کے کیس میں بھی وہی ہوا اور ان کا طبعی معائنہ کیا گیا۔
گزشتہ دو دہائیوں سے کرائم رپورٹنگ کرنے والے صحافی راجہ کاشف نے نیا دور میڈیا کو بتایا کہ جب بھی کوئی ملزم پولیس کی حراست میں ہوتے ہیں اور ان کی طبیعت خراب ہوجاتی ہے تو پولیس قانونی طور پر تابع ہے کہ وہ ملزم کو کسی بھی سرکاری ہسپتال منتقل کرکے اس کا طبی معائنہ کروائے تاہم یہ فیصلہ ڈاکٹرز نے کرنا ہے کہ ملزم کو واپس جیل بھیجنا ہے یا پھرہسپتال میں داخل کرنا ہے اور یہ باضابطہ قانون ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اگر نور مقدم کیس کے مرکزی ملزم ظاہر جعفر کو دیکھا جائے تو مبینہ طور پر وہ منشیات کا عادی ہے اور اب پولیس کی تحویل میں منشیات نہ ملنے کی وجہ سے اسے تکلیف ہے اور اس دن بھی اس کے سر میں شدید تکلیف تھی اس لئے اسے ہسپتال منتقل کیا گیا۔ راجہ کاشف کے مطابق اگرپولیس ملزم کو ہسپتال منتقل نہ کرتی اور ملزم کی طبعیت زیادہ خراب ہوجاتی تو کل کو ذمہ داری پولیس پر عائد ہوتی ہے۔
نیا دور میڈیا نے اس حوالے سے اسلام آباد پولیس کا موقف جاننے کی کوشش کی مگر انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
![]()
عبداللہ مومند اسلام آباد میں رہائش پذیر ایک تحقیقاتی صحافی ہیں۔
