English Al Qamar Urdu جون 25, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پہلا فلسطینی راک بینڈ جلد ہی منظر عام پر آنے کے لیے تیار

غزہ میں چار نوجوانوں نے مل کر فلسطینی اتھارٹی کا پہلا راک بینڈ بنایا ہے۔ ایک اکاؤنٹنٹ، دو وکلا اور ایک دیہی معیشت کے ماہر پر مشتمل اس راک بینڈ کا کہنا ہے کہ وہ راک کے ذریعے اپنے علاقے کا درد بیان کریں گے۔

‘اوسپرے وی’ کے نام سے موسوم یہ گروپ دو برس پہلے قائم ہوا جب انہوں نے آن لائین ویڈیوز پوسٹ کرنا شروع کیں اور اپنے چہروں کو چھپا کر رکھا۔

خبر رساں ادارے رائیٹرز کے مطابق، اب بینڈ منظر عام پر آنے کو تیار ہے اور اپنے گانوں کے ذریعے اسرائیلی فلسطینی تنازع پر اپنے جذبات کا اظہار کرے گا۔

اپریل میں گیارہ روز تک جاری رہنے والی کشیدگی کے دوران انہوں نے ’لائیو فرام غزہ‘ نامی آن لائین کانسرٹ منعقد کیا، تاکہ فلسطینی اتھارٹی کے موسیقاروں کے لیے رقم اکٹھی کی جائے۔ اس کانسرٹ میں پنک فلائیڈ کی وجہ سے مشہور راجر واٹرز نے بھی حصہ لیا۔



فائل فوٹو

بینڈ کے گیتوں کے لکھاری مومن الجارو نے رائیٹرز کو بتایا کہ اوسپرے وی کا پیغام آفاقی کے علاوہ غزہ سے متعلق بھی ہے۔

پیشے کے اعتبار سے وکیل، الجارو نے بتایا کہ وہ ان مسائل پر بھی بات کرنا چاہتے ہیں جن کا تعلق دنیا میں سب سے ہے لیکن، چونکہ وہ ایسے علاقے سے آئے ہیں جو متعدد جنگوں اور تنازعات کا شکار رہا ہے، اس لیے وہ غزہ سے متعلق بھی پیغام کو اپنے گیتوں میں شامل کرنا چاہتے ہیں۔

بینڈ کے ایک گیت ’ہوم‘ یعنی ’گھر‘ کا ایک بول ہے کہ ’’ہم اپنا درد چیخ چیخ کر سنائیں گے، کیا تم ہماری آواز سن سکتے ہو؟‘‘

کپڑوں پر بلاک پرنٹنگ کیسے کی جاتی ہے؟





please wait



No media source currently available

بینڈ کے گلوکار راجی الجارو، جو مومن الجارو کے کزن ہیں اس بینڈ کے بنانے میں پیش پیش تھے۔ انکے مطابق یہ ان کا بچپن کا خواب تھا۔

ایک ریہرسل کے دوران انہوں نے رائیٹرز کو بتایا کہ وہ انگریزی میں اس لیے گاتے ہیں، تاکہ ساری دنیا ان کے پیغام کو سمجھ سکے اور اس سے متاثر ہو سکے۔ انہوں نے اس پیغام کو ناانصافی کے خلاف غم و غصے کے اظہار سے تعبیر کیا۔

مومن الجارو کے مطابق ان کے ’ہوم‘ کا موضوع ان فلسطینیوں سے متعلق ہے جو اسرائیل سے جنگ کے دوران دربدر ہو گئے۔

سوئٹزرلینڈ سے رائیٹرز سے بات کرتے ہوئے بینڈ کے ڈرمر تھامس کوچرہانز نے بتایا کہ انہوں نے غزہ میں رفاہی کام کرتے ہوئے اس بینڈ میں تین برس پہلے شمولیت اختیار کی۔

انہوں نے بتایا کہ جب انہوں نے پہلی بار اس بینڈ کے بارے میں سنا تو انہیں حیرانی ہوئی، کیونکہ انہیں اس قدر شاندار موسیقی کی غزہ سے امید نہیں تھی۔

غزہ میں اگرچہ مغربی موسیقی کے بارے میں اتنی دلچسپی نہیں پائی جاتی لیکن بینڈ کے اراکین اپنی کامیابی کی امید رکھتے ہیں۔

بقول راجی الجارو کے وہ فلسطینی پنک فلائیڈ یا میٹیلیکا بننا چاہتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے