ویب ڈیسک —
افغانستان میں انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ہنگامی امداد سے متعلق رابطہ کار، مارٹن گرفتھس نے افغانستان میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔
پیر کے روز ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ اس ضمن میں وہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینٹونیو گوٹیرز اور سلامتی کونسل کے ارکان کے مطالبے کی مکمل حمایت کرتے ہیں۔
بقول ان کے، کامیاب امن مذاکرات کے ذریعے ہی افغانستان کے مستقبل کو پرامن، محفوظ اور پائیدار بنیاد پر استوار کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سال 2009ء سے جب اقوام متحدہ کی جانب سے ریکارڈ رکھا جانے لگا ہے، ملک کے مختلف مقامات پر ہونے والی لڑائیوں کے نتیجے میں شہری آبادی سے تعلق رکھنے والے 40000 سے زائد افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بقول ان کے اب لڑائی بند ہونی چاہیے، چونکہ جنگ و جدل کی وجہ سے لوگوں کا شدید نقصان ہو چکا ہے۔
أفغانستان کی بگڑتی صورت حال کے بارے میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، مارٹن گرفتھس نے کہا کہ گزشتہ ایک ماہ کے دوران ہلنمد، قندھار اور ہرات کے صوبوں میں شہری آبادی کے خلاف ہونے والے بلا امتیار حملوں کے نتیجے میں کم از کم 1000 افراد ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔
انہوں نے کہا ہے کہ اب یہ آئے دن کا ایک معمول بن چکا ہے کہ افغان بچوں، خواتین اور مردوں کا تشدد کی کارروائیوں، عدم تحفظ اور خوف کے ماحول سے سابقہ پڑے؛ جب کہ خواتین کی بقا اور ان کے بنیادی انسانی حقوق سے متعلق شدید تشویش پائی جاتی ہے۔
افغانستان میں ہنگامی امدادی کام سے متعلق نمائندے نے کہا کہ 40 سالہ لڑائی اور بے دخلی کے علاوہ موسمیاتی تبدیلی اور کووڈ 19 کی وبا کے نتیجے میں افغانستان کی تقریباً نصف آبادی کو ہنگامی امداد کی شدید ضرورت ہے۔
نمائندے نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیمیں اپنی ذمہ داریاں پوری کر رہی ہیں اور أفغانستان کی تمام شہری آبادی کو امداد اور اعانت فراہم کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ امدادی ادارے غیر جانبدارانہ اور آزادانہ طور پر کام کر رہے ہیں، لیکن ضرورت اس بات کی ہے کہ انہیں بغیر رکاوٹ کے ضرورت مندوں تک پہنچنے کی رسائی یقینی بنائی جائے تاکہ بغیر کسی مداخلت کے، وہ انہیں امدادی رسد فراہم کر سکیں۔
اس ضمن میں، اقوام متحدہ کے امدادی ادارے کے رابطہ کار نے تنازع کے فریقوں کو یاد دلایا ہے کہ انسانی ہمدردی اور بنیادی انسانی حقوق کے قانون کے تحت اپنے فرائض کی انجام دہی یقینی بنائی جائے،شہری آبادی کو تحفظ فراہم کرنے اور ضرورت مندوں تک پہنچنے میں انسانی ہمدری کی بنیاد پر کام کرنے والی تنظیموں کو رسائی دی جانی چاہیے۔
ادھر، پیر ہی کے دن کابل سے اقوام متحدہ کے ادارے برائے اطفال (یونیسیف) کے ترجمان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ادارے کو افغانستان میں بچوں کے خلاف ہونے والی سنگین خلاف ورزیوں پر پریشانی لاحق ہے۔
بیان میں ادارے کے نمائندے ہاروی لووک ڈیلس کے حوالے سے ترجمان نے بتایا ہے کہ گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران صوبہ قندھار میں 20 بچے ہلاک ہوئے اور 130 زخمی ہوئے؛ صوبہ خوست میں تین بچے ہلاک ہوئے جب کہ صوبہ پکتیا میں پانچ بچے ہلاک اور تین زخمی ہوئے۔
ترجمان نے بتایا کہ ادارے کو ان اطلاعات پر خصوصی تشویش ہے جن میں بتایا گیا ہے کہ تنازع میں ملوث مسلح گروپوں میں یہ رجحان بڑھ رہا ہے کہ وہ لڑائی میں کم سن بچوں کو بھرتی کر رہے ہیں، جب کہ لاتعداد بچے اور بچیاں ایسی ہیں جو اپنے خاندان کے عمر رسیدہ افراد کے خلاف ہونے والے اذیت ناک سلوک کو دیکھ کر شدید خوف زدہ ہیں۔
