لندن: جیو کے آف ایئر ہونے والے شو کیپیٹل ٹاک کے میزبان حامد میر نے ایک انٹرویو کے دوران پاکستان میں آزادی صحافت کے لیے سکڑتی جگہ اور صحافیوں کے لیے بڑھتے ہوئے ‘خوف کے ماحول’ پر تنقید کی۔
انہوں نے یہ انٹرویو برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے شو ہارڈ ٹاک کے میزبان اسٹیفن سکر کو اسلام آباد سے دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘پاکستان میں جمہوریت ہے لیکن کوئی جمہوریت نہیں، پاکستان میں آئین ہے لیکن کوئی آئیں نہیں اور میں پاکستان میں سینسر شپ کی زندہ مثال ہوں’، انہوں نے یہ بات میزبان کے اس سوال کے جواب میں کہی کہ کیا پاکستانی ریاست آزاد صحافت کو خاموش کرارہی ہے۔
انٹرویو میں بی بی سی کے میزبان نے حامد میر کا تعارف ایک ایسے ہائی پروفائل صحافی کے طور پر کرایا جسے سلسلہ وار دھمکیوں کا سامنا ہے۔
Imran Khan ‘is not a very powerful prime minister’ says banned Pakistani journalist @HamidMirPAK who also says Prime Minister Khan is ‘helpless’ and ‘cannot help me’ pic.twitter.com/KwMou3lU8M
— BBC HARDtalk (@BBCHARDtalk) August 9, 2021
اسٹیفن سکر نے کہا کہ نوے کی دہائی میں حامد میر کو اغوا کر کے تفتیش کی گئی جس کے بعد انہوں نے 2 قاتلانہ حملوں کا سامنا کیا اور صحافیوں کے خلاف دھمکیوں اور حملوں کے بارے میں تقریر کرنے پر جون 2021 سے حامد میر کا کالم اور شو ان کے آجروں نے بند کر رکھا ہے۔
میزبان کا کہنا تھا کہ ‘انہوں (حامد میر) کا کہنا ہے کہ سایہ دار قوتیں جو عوامی نظریہ سے باہر کام کر رہی ہیں پاکستان میں بہت زیادہ طاقت رکھتی ہیں اور میڈیا کو کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اسٹیفن سکر نے حامد میر پر نام لینے کے لیے زور دیا اور پوچھا کہ یہ کون سی قوتیں ہیں جو صحافیوں کو خاموش کروارہی ہیں لیکن حامد میر نے نام لینے سے گریز کیا اس کے بجائے انہوں نے کہا کہ ماضی میں انہوں نے اپنے اوپر حملہ کرنے کے الزام میں ایک انٹیلیجنس ایجنسی کے سربراہ کا نام کیا تھا لیکن وہ شخص حملے کی تحقیقات کرنے والے اعلیٰ سطح کے کمیشن کے سامنے پیش نہیں ہوا۔
‘All those people who are trying to snatch media freedom from us are enemies of Pakistan’ says banned Pakistani journalist @HamidMirPAK pic.twitter.com/PKNluDrpJh
— BBC HARDtalk (@BBCHARDtalk) August 9, 2021
میزبان نے دریافت کیا کہ کیا صحافیوں بشمول اسد طور پر حملے کے پسِ پردہ انٹیلیجنس ایجنسیز ہیں؟ جس پر حامد میر نے کہا کہ یہ دستاویزی حقائق ہیں اور ریاستی اداروں اور انٹیلیجنس ایجنسیوں پر بارہا صحافیوں پر حملوں اور اغوا کے الزام لگائے جاتے رہے ہیں۔
اسٹیفن سکر نے حامد میر کی توجہ غداری کے 6 مقدمات کی جانب دلاتے ہوئے یاد دلایا کہ اگر انہیں مجرم قرار دیا گیا تو انہیں عمر قید ہوسکتی ہے۔
اس پر حامد میر نے کہا کہ ‘میں عمر قید کا سامنا کرنے کے لیے تیار ہوں کیوں کہ اگر وہ مجھے مجرم قرار دیں گے تو پوری دنیا کو معلوم ہوگا کہ پاکستان میں ہو کیا رہا ہے، میں پاکستان میں سینسرشپ کی زندہ مثال ہوں۔
‘I’m ready to face life imprisonment’ says Pakistani journalist @HamidMirPAK who faces accusations of sedition and has been suspended from his TV job and newspaper column after speaking out against attacks on press freedom in the country pic.twitter.com/kXuSvozXXi
— BBC HARDtalk (@BBCHARDtalk) August 9, 2021
