English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اگر طالبان افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں تو امریکی سفارتخانے پر حملہ نہ کریں، امریکا

امریکا نے طالبان سے کہا ہے کہ اگر وہ ملک کا کنٹرول سنبھال لیتے ہیں تو امریکی سفارتخانے پر حملہ نہ کریں۔

خبر رساں ادارے نیویارک ٹائمز کے مطابق امریکی مذاکرات کار طالبان سے یقین دہانی چاہتے ہیں کہ اگر وہ امداد حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ملک پر کنٹرول حاصل کرنے کی صورت میں وہ دارالحکومت کابل میں موجود امریکی سفارتخانے کو نشانہ نہ بنائیں۔

طالبان کی جانب سے تیزی سے پیش قدمی کو دیکھتے ہوئے امریکی نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد کی زیر سربراہی امریکا اور طالبان میں مذاکرات جاری ہیں۔

جمعرات کو امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اعلان کیا تھا کہ وہ افغانستان میں امریکی سفارتخانے پر تعینات 1400 فوجیوں کو وطن واپس بھیج رہے ہیں اور اب افغانستان میں محض سفارتی عملہ موجود رہے گا۔

برطانیہ کے بعد اب امریکا نے بھی اپنے شہریوں کو فوری طور پر افغانستان چھوڑنے کی درخواست کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکومت کے لیے کام نہ کرنے والے افراد فوری طور پر کمرشل فلائٹس کے ذریعے ملک چھوڑ دیں۔

طالبان کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی کے پیش نظر کابل میں تمام سفارتخانے ہائی الرٹ پر ہیں اور کئی ملکوں نے اپنے قونصل خانے بند کردیے ہیں۔

امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ترجمان نیڈ پرائس نے کہا کہ میں ایک بات واضح کردوں کہ افغانستان میں امریکی سفارتکانے کھلے رہیں گے اور ہم اپنا سفارتی کام جاری رکھیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ طالبان کی بڑھتی ہوئی پیش قدمی کے سبب افغانستان میں بڑھتے ہوئے پرتشدد واقعات اور عدم استحکام کے حوالے سے ہمیں شدید تحفظات ہیں۔

دوسری جانب زلمے خلیل زاد کو امید ہے کہ وہ طالبان رہنماؤں کو اس بات پر قائل کر لیں گے کہ افغانستان میں سفارتخانے کھلے اور محفوظ رہیں کیونکہ اگر طالبان کو امریکی امداد اور دیگر معاونت چاہیے تو انہیں لازمی اس بات کو تسلیم کرنا ہو گا۔

طالبان کا کہنا ہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ انہیں افغانستان کا جائز سرپرست تسلیم کیا جائے اور معاشی امداد کےلیے وہ چین اور روس سمیت عالمی طاقتوں سے تعلقات چاہتے ہیں۔

امریکا کے ساتھ ساتھ دنیا کی دیگر طاقتوں نے بھی طالبان کو خبردار کیا ہے کہ انہوں نے طاقت کے زور پر افغانستان پر قبضہ کرنے کی کوشش کی تو انہیں عالمی امداد نہیں ملے گی۔

جمعرات کو جرمنی کے وزیر خارجہ ہیکو ماس نے کہا تھا کہ اگر طالبان نے افغانستان میں اقتدار سنبھالنے کے بعد شرعی قوانین نافذ کیے تو وہ انہیں امداد نہیں دیں گے۔

یاد رہے کہ اپریل میں امریکا نے افغانستان سے اپنے غیرضروری عملے کو وطن واپس بھیجنا شروع کردیا تھا جبکہ دیگر عملے کو بھی کہا تھا کہ اگر وہ خطرہ محسوس کرتے ہیں تو وطن واپس لوٹ سکتے ہیں اور ان کے کیریئر کو اس سے نقصان نہیں پہنچے گا۔

امریکا کی جانب سے طالبان سے ایک ایسے موقع پر اپیل کی گئی ہے جب برطانیہ نے ملک سے امریکی افواج کے انخلا پر امریکا کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

برطانیہ نے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلا کو غلطی قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ طالبان کے دوبارہ سر اٹھانے سے ملک شدت پسندوں کی افزائش گاہ بن جائے گا جس سے دنیا کو خطرات لاحق ہو جائیں گے۔

سیکریٹری دفاع بین والیس نے کہا کہ میں محسوس کرتا ہوں کہ امریکا کا اس طرح سے انخلا کرنا غلطی ہے جس کے نتائج ہم سب بھگتیں گے۔

طالبان نے ‘شیر ہرات’ کو حراست میں لے لیا، مزید تین صوبائی دارالحکومتوں پر بھی قبضہ

طالبان نے افغانستان کے مغربی صوبے ہرات کے دارالحکومت پر قبضہ کرکے ‘شیر ہرات’ کے نام سے مشہور کمانڈر محمد اسمٰعیل خان کو حراست میں لے لیا جبکہ مزید تین صوبائی دارالحکومتوں کا کنٹرول بھی حاصل کرلیا۔

غیر ملکی خبر ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق ہرات کے صوبائی کونسل کے رکن نے کہا کہ طالبان نے صوبائی دارالحکومت ہرات میں قبضے کے ساتھ ساتھ ملیشیا کے کمانڈر محمد اسمٰعیل خان کو بھی حراست میں لے لیا ہے۔

رائٹرز کے مطابق صوبائی کونسل کے رکن غلام حبیب ہاشمی نے بتایا کہ اسمٰعیل خان حالیہ جھڑپوں میں طالبان مخالف جنگجوؤں کی قیادت کررہا تھا تاہم انہیں صوبائی گورنر اور سیکیورٹی عہدیداروں کے ساتھ معاہدے کے تحت طالبان کے حوالے کردیا گیا۔

غلام حبیب ہاشمی نے کہا کہ ‘طالبان نے یقین دہانی کروائی ہے کہ وہ ہتھیار ڈالنے والے سرکاری عہدیداروں کے لیے خطرہ نہیں ہوں گے اور نقصان نہیں پہنچائیں گے’۔

محمد اسمٰعیل خان کا شمار افغانستان کے مشہور ترین وار لارڈز میں ہوتا ہے اور انہیں شیرِ ہرات کے طور پر جانا جاتا ہے، انہوں نے 1980 کی دہائی میں سوویت یونین کے قبضے کے خلاف جنگ کی اور شمالی اتحاد کے ایک اہم رکن تھے، جو 2001 میں امریکا کے ہاتھوں طالبان کی حکومت کے خاتمے کے بعد برسر اقتدار آیا۔

ترجمان طالبان ذبیح اللہ مجاہد نے بھی اسمٰعیل خان کی گرفتاری کی تصدیق کردی۔

دوسری جانب صوبہ ہلمند کے دارالحکومت لشکر گاہ میں شدید لڑائی ہوئی اور دو دہائیوں بعد طالبان نے یہاں دوبارہ قبضہ کرلیا جہاں اس دوران سیکڑوں غیرملکی فوجی بھی مارے گئے۔

طالبان نے حالیہ چند روز میں درجن سے زائد صوبائی دارالحکومتوں پر قبضہ کرلیا اور امریکی فوج کے مکمل انخلا سے محض چند ہفتے قبل ہی افغانستان کے دو تہائی حصے پر قابض ہوگئے ہیں۔

ہلمند کے صوبائی کونسل کے سربراہ عطااللہ افغان کا کہنا تھا کہ طالبان نے شدید لڑائی کے بعد صوبائی دارالحکومت لشکر گاہ پر قبضہ کرلیا اور سرکاری اداروں پر اپنا سفید جھنڈا لہرا دیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ لشکر گاہ کے باہر قائم نیشنل آرمی کے 3 بیسز بدستور حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔

زابل کی صوبائی کونسل کے سربراہ عطا جان حق بیان نے کہا کہ صوبائی دارالحکومت قالات بھی طالبان کے قبضے میں چلا گیا ہے اور عہدیدار علاقے سے باہر جانے کے لیے آرمی بینک کے قریب موجود ہیں۔

افغانستان کے جنوبی صوبے اورزگان سے تعلق رکھنے والے اراکین پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ مقامی عہدیداروں نے صوبائی دارالحکومت ترینکوت میں ہتھیار ڈال دیے ہیں اور طالبان تیزی سے پیش قدمی جاری رکھے ہوئے ہیں۔

بسم اللہ جان محمد اور قدرت اللہ رحیمی نے بھی ہتھیار ڈالنے کی تصدیق کی ہے اور جان محمد نے کہا کہ گورنر کابل جانے کے لیے راستے میں ہیں۔

امریکا، برطانیہ کا شہریوں کو لے جانے کا منصوبہ
طالبان کی جانب سے افغان کے دوسرے اور تیسرے بڑے شہر پر قبضے کے بعد حالات میں مزید ڈرامائی تبدیلی آئی ہے اور عالمی طاقتیں اپنے سفارتی عملے کی حفاظت کے لیے پریشان دکھائی دے رہی ہیں۔

قندھار اور ہرات میں قبضہ طالبان کے لیے بڑی پیش رفت ہے جبکہ عالمی طاقتوں کی پریشانی میں اضافہ ہوگیا ہے جبکہ کابل تاحال طالبان کی پہنچ کافی دور ہے لیکن افغانستان کےدو تہائی علاقوں پر قابض ہوچکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق افغانستان میں تیزی سے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر امریکا نے کابل سے امریکی سفارت کے خانے کے چند عہدیداروں کی واپسی میں مدد کے لیے 3 ہزار فوجی بھیجنے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

ادھر برطانیہ کا کہنا تھا کہ برطانوی شہریوں کے انخلا کے لیے عارضی بنیادوں پر تقریباً 600 فوجی تعینات کردیے جائیں گے۔

کینیڈا اپنے سفارتی عملے کی بحفاظت واپسی کے لیے اسپیشل فورسز بھیج رہا ہے۔

دوسری جانب ہزاروں شہری بھی خوف کے مارے اپنا گھر بار چھوڑ کر دوسرے علاقوں میں منتقل ہوگئے ہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ طالبان کی حکومت قائم ہوئی تو ان کے حقوق چھینے جائیں گے اور ان کے ساتھ ظلم ہوگا۔

افغان مسئلے کا حل نکالنے کے لیے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں امریکا، یورپی ممالک، پاکستان اور متعدد ایشیائی ممالک کے نمائندوں کا اجلاس جاری ہے لیکن بین الافغان مذاکرات تاحال التوا کا شکار ہیں۔

امریکی نمائندہ خصوصی برائے افغانستان زلمے خلیل زاد کا کہنا تھا کہ ہم شہروں پر حملے فوری طور پر روکنے اور سیاسی حل نکالنے کا مطالبہ کر رہے ہیں اور خبردار کرتے ہیں کہ زبردستی قائم کی گئی حکومت اجنبی ریاست ہوگی۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے