وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات چوہدری فواد حسین نے نوبیل انعام یافتہ کارکن ملالہ یوسف زئی کو یقین دہانی کرائی ہے کہ پاکستان، افغانستان میں خواتین کی تعلیم و ترقی کے لیے اپنی حمایت جاری رکھے گا۔
ریڈیو پاکستان کے مطابق افغانستان میں طالبان کی جانب سے صدارتی محل کا کنٹرول سنبھالے جانے کے بعد نوبیل انعام یافتہ کارکن ملالہ یوسف زئی نے وفاقی وزیر اطلاعات سے فون پر گفتگو کی۔
نوبیل انعام یافتہ کارکن سے ٹیلی فون پر بات کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے انہیں یقین دہانی کرائی کہ پاکستان اپنا کردار ادا کرے گا۔
وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ پاکستان، افغان خواتین سمیت بچوں اور مہاجرین کی تعلیم کی حمایت کو جاری رکھے گا۔
وفاقی وزیر نے ملالہ یوسف زئی کو بتایا کہ پہلے ہی پاکستان میں 6 ہزار افغان بچے زیر تعلیم ہے اور اب بھی ہم اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے۔
گفتگو کے دوران سماجی رہنما نے وفاقی وزیر کو افغانستان میں خواتین اور بچوں کے حقوق سے متعلق عالمی تشویش سے آگاہ کیا۔
ساتھ ہی ملالہ یوسف زئی نے وفاقی وزیر کو بتایا کہ پاکستان کو افغانستان میں خواتین کی تعلیم اور فلاح و بہبود کے لیے فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
اس سے قبل انہوں نے اپنی ایک ٹوئٹ میں افغانستان میں طالبان کے کنٹرول پر بھی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جنگ بندی کا مطالبہ کیا تھا اور خواتین، بچوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے تحفظ پر تشویش کا اظہار کیا۔
ملالہ یوسف زئی نے اپنی مختصر ٹوئٹ میں لکھا تھا کہ ’ہم سب بے بسی کے ساتھ دیکھ رہے ہیں کہ طالبان نے افغانستان کا کنٹرول سنبھال لیا ہے‘ ۔
انہوں نے طالبان کے کنٹرول کے بعد خواتین، بچوں، اقلیتوں اور انسانی حقوق کے علمبرداروں کے تحفظ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے دنیا سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ افغانستان میں جنگ بندی کا مطالبہ کریں۔
ملالہ یوسف زئی نے لکھا کہ عالمی، علاقائی اور مقامی طاقتوں کو مل کر افغانستان میں جنگ بندی سمیت شہریوں کی حفاظت اور انسانوں کی دیکھ بھال کے لیے فوری امداد کا مطالبہ کرنا چاہیے۔
ملالہ یوسف زئی نے ایسے وقت میں ٹوئٹ کی اور وفاقی وزیر فواد چوہدری حسین سے ٹیلی فون پر بات کی، جب کہ طالبان نے افغانستان کے دارالحکومت کابل سمیت صدارتی محل کا بھی کنٹرول سنبھال لیا۔
عالمی خبر رساں اداروں کی رپورٹس کے مطابق افغانستان سے موصول ہونے والی خبروں میں بتایا گیا کہ اتوار کے روز کابل میں تیز ترین پیش رفت، خوف اور افراتفری کا ماحول رہا، جس کے بعد بالآخر رات گئے بھاری ہتھیاروں سے مسلح جنگجوؤں نے کابل کے خالی صدارتی محل کا کنٹرول سنبھالا۔
Mullah Baradar to Taliban: “we have reached a victory that wasn’t expected…we should show humility in front of Allah…now it’s time of test — now it’s about how we serve and secure our people, and ensure their future/good life to best of ability”
— Mujib Mashal (@MujMash) August 15, 2021
