English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

سانحہ شہدائے کربلا پر فضا سوگوار، 72 شہدا کی قربانیوں کو شہر شہر خراج

القمر

شہدائے کربلا کی لازوال قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے گاؤں گاؤں شہر شہر جلوس نکالے جارہے ہیں۔ ملک بھر کی مرکزی امام بارگاہوں سے شبیہہ علم و زوالجناح لیے محبان آل رسول کربلا کا ذکر عام کر رہے ہیں۔
10 محرم 61 ہجری کو دشت کربلا میں یزیدی فوج نے آل رسول کے خانوادوں کو تین دن کا بھوکا پیاسا شہید کیا تھا۔ دین اسلام کی سربلندی کے لیے امام حسین علیہ السلام نے اپنے چھ ماہ کے شہزادہ علی اصغر کی بھی قربانی پیش کی۔

مقاتل میں لکھا ہے کہ یزیدی فوج نے آل رسول کو مدینہ ہی میں پریشان کرنا شروع کر دیا تھا۔ 28 رجب کو مدینہ منورہ سے قافلہ حسینی نے ہجرت کی۔ مکہ مکرمہ میں بھی آل رسول کا آمان نہ ملا۔ بیت اللہ کی حرمت کو پائمال ہونے سے بچانے کے لیے امام حسین علیہ اسلام نے حج کو عمرہ میں تبدیل کیا اور پھر یہاں سے کوفہ کے لیے سفر شروع کیا۔
2 محرم کو قافلہ حسینی کربلا کے بیان میں پہنچا۔ خیمے نصب کیے گئے۔ یزیدی فوج نے سات محرم سے پانی بند کر دیا اور بیعت نہ کرنے پر دس محرم کو جنگ مسلط کر دی گئی۔ ایک ایک کر کے اصحاب، دوست، بھانجے، بھتیججے، بھائی اور حتی کے شیر خوار حضرت علی اصغر کو بھی فوج اشقیا نے تیر سے ذبح کر دیا۔
امام حسین علیہ السلام تنہا رہ گئے اور پھر ایسی جنگ کی فوج یزید میں کہرام مچ گیا۔ لیکن پھر عصر کے وقت ندا بلند ہوتی ہے نفس مطمعینہ کی۔ امام حسین جیسے ہی تلوار نیام میں رکھتے ہیں اور شکر کا سجدہ کرتے ہیں تو فوج یزید حملہ آور ہو جاتی ہے۔
اب جس کے ہاتھ میں جو بھی ہوتا ہے اس سے امام کا نشانہ بناتی ہے۔

امام زین العابدین علیہ السلام کے سوا مردوں میں کوئی نہ بچا۔ سورج ڈھلتے ہی یزیدی فوج خیموں کو لوٹ کر آگ لگا دیتی ہے۔ سیدانیوں کو اسیر بنالیتی ہے اور انہیں بے کجاوا اونٹوں پر باندھ کے اور شہدا کے سر نوک نیزا پر بلند کرکے کوفہ اور پھر شام لے جاتی ہے۔

اس سانحہ عظیم پر پہلی مجلس بھی امام حسین علیہ السلام کی بہن حضرت زینب نے شام کے قید خانہ میں بپا کی۔ اور اس وقت سے یہ سلسلہ جاری و ساری ہے۔ یکم محرم سے شروع ہونے والا سلسلہ 8 ربیع الاول تک اسی تسلسل سے جاری رہتا ہے۔
یہی وجہ ہے کہ جہاں جہاں اہل ایمان آباد ہیں وہاں ذکر امام حسین علیہ السلام بپا کیا جاتا ہے۔ بظاہر 61 ہجری میں جنگ اسلام کی شکل بیگاڑنے والے یزید نے جیتی لیکن آج نام صرف نواسہ رسول کا باقی ہے۔
ظالم کا نام مٹ گیا تاریخ سے مگر
وہ یاد رہ گیا جسے پانی نہ ملا
اور
دنیا کے سب یزید اسی غم میں مر گئے
سرمل گیا حسین کا بیعت نہیں ملی

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے