English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ترکی کے صدر کا کابل ایئرپورٹ کی سیکیورٹی سنبھالنے کے عزم ایک بار پھر اظہار، تنقید کا سامنا

ترکی افغانستان میں کابل کے ایئر پورٹ کی سیکیورٹی کے منصوبے کو اگرچہ ترک کر چکا ہے البتہ ترک صدر رجب طیب اردوان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ترکی کابل ایئر پورٹ کی سیکیورٹی کے لیے کسی بھی قسم کے کردار کے لیے نہ صرف تیار ہے بلکہ اس کے لیے طالبان سے بات کرنے کے لیے بھی راضی ہے۔

رجب طیب اردوان نے جمعے کو ایک انٹرویو میں کہا کہ ترکی مذاکرات کے لیے ہر دروازہ کھٹکانے کے لیے تیار ہے۔

ترکی کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ ترکی افغانستان میں تعمیر و ترقی کے منصوبوں پر کام کر چکا ہے اور وہ اس قسم کے منصوبوں میں کام کرنے میں ابھی بھی دلچسپی رکھتا ہے۔

رجب طیب اردوان نے ایک ٹیلی وژن انٹرویو میں کہا کہ ترکی ابھی بھی کابل ایئر پورٹ کی سیکیورٹی سنبھالنے کے لے تیار ہے۔

قبل ازیں خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ نے پیر کو رپورٹ کیا تھا کہ ترکی نے ایئر پورٹ کی سیکیورٹی کے منصوبے کو ترک کر دیا ہے۔



بھارتی اخبار کے مطابق دوحہ میں طالبان کی مذاکراتی ٹیم کے اہم رکن عباس استانکزئی نے بھارت کو غیر رسمی طور پر کابل میں سفارتی عملہ برقرار رکھنے کے پیغام دیا تھا۔ (فائل فوٹو)

نیٹو کے رکن کے طور پر ترکی کے افغانستان میں 600 کے قریب فوجی تعینات ہیں۔ ترک حکام ان اہلکاروں کو جنگی مشن کے طور پر نہیں دیکھتے۔

رواں برس جون میں ترکی نے نیٹو افواج کے انخلا کے بعد کابل کے حامد کرزئی ایئر پورٹ کی سیکیورٹی کی پیشکش کی تھی ۔ ترکی اور امریکہ کے مابین سفارت کاروں کے محفوظ انخلا کے لیے ایئر پورٹ کی سیکیورٹی کے معاملات پر مذاکرات بھی ہوئے تھے۔

'صدمے سے دیکھ رہے ہیں کہ افغانستان میں یہ کیا ہو رہا ہے؟'





please wait



No media source currently available

گزشتہ ماہ جولائی میں طالبان نے ترکی کو ایئر پورٹ پر فوجی اہلکاروں کی موجودگی کے حوالے سے خبردار کیا تھا۔ طالبان نے ترکی کی ایئرپورٹ کی سیکیورٹی کی پیشکش کو افغانستان کی ’خودمختاری اور قومی مفاد کے منافی قرار دیا تھا۔

اردوان کے اس اعلان پر ترکی کی حزبِ اختلاف کی جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی نے تنقید کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملک کے فوجی اہلکاروں کا افغانستان سے جلد از جلد انخلا کیا جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے