English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

افغان طالبان نے خاتون نیوز اینکر کو کام کرنے سے روک دیا

افغانستان کے ٹی وی چینل پر نیوز اینکر کے فرائض انجام دینے والی خاتون صحافی کو طالبان نے کام کرنے سے یہ کہہ کر روک دیا ہے کہ اب نظام بدل گیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان کا کنٹرول سنبھالتے ہی طالبان نے خلاف توقع پہلا اعلان خواتین سرکاری ملازمین کو واپس محکمے میں آنے اور اپنی خدمات انجام دینے کی ہدایت کی تھی جب کہ کابل پر قبضے کے بعد طلوع نیوز پر طالبان رہنما مولوی عبدالحق حمد نے خاتون اینکر بہشتا ارغند کو انٹرویو دیکر سب کو حیران میں مبتلا کردیا تھا۔

تاہم ریڈیو ٹیلی وژن افغانستان کی نیوز اینکر شبنم دوران نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ویڈیو پیغام میں کہا گیا ہے کہ حالات معمول پر آنے کے بعد میں اپنے چینل گئی تھی لیکن وہاں موجود طالبان نے میرے مرد کولیگز کو جانے دیا اور مجھے دفتر میں داخل ہونے سے روک دیا۔

شبنم دوران کا مزید کہنا تھا کہ میں نے اپنا آفس کارڈ بھی دکھایا اور میں حجاب میں بھی تھی لیکن اس کے باجود وہاں موجود طالبان نے کہا کہ اب نظام بدل گیا ہے اس لیے اب آپ واپس گھر جائیں۔ خاتون صحافی نے یہ بھی کہا کہ ہمیں دھمکیاں مل رہی ہیں جس پر عالمی طاقتوں کو توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی خواتین کے ایک گروہ نے امور مملکت میں خواتین کو شامل کرنے اور سرکاری و نجی دفاتر میں کام کرنے کی اجازت کے لیے دارالحکومت میں مظاہرہ کیا۔

خواتین کا کہنا تھا کہ گزشتہ 20 برسوں میں خواتین نے اہم شعبوں میں ترقی کی ہے اور ملک کے لیے خدمات انجام دی ہیں۔ اس ساری محنت کو یوں رائیگاں نہیں کیا جا سکتا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے