طالبان ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ چین افغانستان کی نشاطِ نو میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
چینی مرکزی ٹیلی ویژن سے بات کرنے والے شاہین نے افغانستان کی نشاطِ نو کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ چین ایک عظیم معیشت ہے اور بلند سطح کی استعداد کا حامل ہے ، یہ ہمارے ملک میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ہمسایہ ممالک اور علاقائی ممالک کے ہمراہ پوری دنیا کو افغانستان کی از سر نو نشاط کے لیے کردار ادا کرنے کی اپیل کرنے والےشاہین کا کہنا تھا کہ ہمیں تمام تر ممالک کا تعاون مطلوب ہے۔
افغان عوام کی خواہشات کا احترام کرنے کی ضرورت پر زور دینے والے شاہین نے عالمی برادری کو طالبان کو تسلیم کرنے کی اپیل بھی کی ہے۔
انہوں نے طالبان کی افغانستان کے اندر پیش قدمی کو ’ثبت کی جانے والی انتظامیہ کے خلاف عوامی بغاوت‘ کی نمائندگی کرنے کا اشارہ دیتے ہوئے تبصرہ کیا کہ ان کی ملک پر حاکمیت کرنے کی رفتار اور انتظامیہ کو اپنے ہاتھ میں لینے کو جائز بنا دیا ہے۔
طالبان انتظامیہ کے ماتحت افغان خواتین کی آزادی پر خدشات کو مسترد کرنے والے شاہین نے اس بات کا دفاع کیا ہے کہ ہم خواتین کی تعلیم اور نوکری کرنے کے حقوق کا تحفظ کریں گے۔
انہوں نے بین الاقوامی اقتصادی و مالی اداروں سے بھی اپیل کرتے ہوئے نئی انتطامیہ کو فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔
