پتوکی کے نواحی گاؤں جاگوالہ کے رہائشی 25 سالہ نوجوان وقاص کے ساتھ ظلم کی نئی داستان رقم کردی گئی۔ ملزمان نے اغواء کر کے مونچھیں اور داڑھی مونڈھ کر میک اپ کروا کر لڑکیوں کے کپڑے پہنا کر ڈانس کرواتے رہے اور تشدد کرتے رہے۔
وقاص پر موبائل چوری کا الزام لگا کر گاؤں جاگوالہ کے رہائشی امین اور سرور نے اپنے ساتھیوں سمیت اغواء کیا اور نامعلوم مقام پر لے گئے جہاں ملزمان 3 دن تک مونچھوں اور داڑھی کے بال مونڈھ کر لڑکیوں کے کپڑے پہنا کر میک اپ کر کے تشدد کا نشانہ بناتے رہے۔
وقاص کو 14 اگست کو پتوکی تحصیل ہیڈ کوارٹر ہسپتال کے قریب ملتان روڑ سے اغواء کیا گیا۔

ملزمان ڈانس کرنے کی ویڈیو بھی بناتے رہے جنہیں سوشل میڈیا پر وائرل کر دیا۔ ویڈیوز میں دیکھا جا سکتا ہے کہ وقاص سے زبردستی ڈانس کروایا جا رہا ہے اور وہ ان سے ہاتھ جوڑ کر معافیاں مانگ رہا ہے متاثرہ نوجوان وقاص کی تحریری درخواست پر تھانہ سٹی پتوکی میں مقدمہ درج کر کے ایک نامزد ملزم امین کو گرفتار کر لیا باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے اسپیشل ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے۔
متاثرہ نوجوان وقاص نے وزیر اعظم پاکستان عمران خان اور آئی جی پنجاب سے انصاف کی اپیل کی ہے۔
