English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

اقوام متحدہ کی بے گھر افغان عوام کے لیے 24 ملین ڈالر امداد کی اپیل

اقوام متحدہ کے مہاجرین کی دیکھ بھال سے وابستہ ادارے نے افغانستان میں بے گھر ہونے والے لاکھوں لوگوں کی مدد کے لیے دنیا کے ممالک سے 24 ملین ڈالرز کی امداد کی اپیل کی ہے۔

‘انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائگریشن’ نے جمعرات کو کہا کہ اس نے اپنے کام کو تیز تر کر دیا ہے، تاکہ انسان دوستی کے تحت انتہائی ضروری امداد کی فراہمی کے ذریعے دو ماہ میں بے گھر ہونے والے لوگوں کی زندگیاں بچائی جا سکیں۔

افغانستان میں آئی او ایم کے مشن کے سربراہ اسٹوئرٹ سمپسن نے کہا کہ ان کی ترجیحات میں ملک کے اندر بے گھر ہونے والے افغان لوگوں کو سرحدی علاقوں میں پناہ دینا، ان کی صحت اور حفاظت، زندگی گزارنے کے لیے معاش کا بندوبست کرنا اور معاشرے میں یکجہتی برقرار رکھنا شامل ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ افغانستان کے مختلف حصوں میں رسائی اور حفاظت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

افغان مہاجرین بنیادی سہولیات کے خواہش مند

افغان مہاجرین بنیادی سہولیات کے خواہش مند

سمپسن کے مطابق، ایک طرف تو لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو بے گھر ہونا پڑا ہے اور دوسری طرف قحط سالی اور کرونا کی عالمی وبا نے غربت میں اضافہ کیا ہے۔ لوگوں کو خوراک کے متعلق عدم دستیابی کا سامنا ہے۔ ان سب عوامل کے باعث ملک میں لوگوں کی ضروریات میں بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

اس وقت افغانستان میں 55 لاکھ لوگ گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے ہیں اور انہیں دوسری جگہوں پر منتقل ہونا پڑا ہے۔

ان میں ساڑھے پانچ لاکھ وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس سال بے گھر ہوئے ہیں۔ اس تعداد میں نصف لوگ وہ ہیں جو اس سال جولائی کے بعد جنگ کے باعث بے گھر ہوئے ہیں۔

امداد کی تازہ ترین اپیل ‘افغانستان ہیومینیٹیرین ریسپانس پلان’ کے علاوہ ہے جس کے تحت ملک میں فعال مختلف ادارے 1.3 ارب ڈالرز کے فنڈز سے امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، اس وقت افغانستان میں ایک کروڑ اسی لاکھ لوگوں کو امداد کی ضرورت ہے۔ یہ تعداد ملک کی آبادی کے نصف کے برابر ہے اور اس میں سے بچوں کی تعداد ایک کروڑ ہے۔

عالمی ادارے کے مطابق آنے والے دنوں میں افغانستان میں امدادی ضروریات میں مزید اضافہ متوقع ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے