English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کابل ایئرپورٹ کے باہر دو دھماکے، امریکی اور افغان شہری ہلاک اور زخمی

کابل کے ہوائی اڈے کے ایبی گیٹ کے پاس اور بیرون ہوٹل کے باہر، جمعرات کو کم از کم دو دھماکے ہوئے، جب افغانستان سے انخلا کا کام تیزی سے جاری تھا۔طالبان ترجمان کے مطابق،”کم از کم 35 افراد ہلاک جب کہ 70 زخمی ہوئے ہیں۔”

پینٹاگان کے ذرائع کے مطابق ہلاک اور زخمی ہونے والوں میں سویلینز اور امریکی فوج کے ارکان شامل ہیں، اس دہشت گرد کارروائی کو ”پیچیدہ حملہ” قرار دیا جا رہا ہے۔

امریکہ کے محکمۂ دفاع پینٹاگان کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ کابل کے حامد کرزئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے باہر ہونے والے دھماکے میں امریکیوں سمیت افغان باشندے ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

اس بارے میں تفصیلات کے مطابق طالبان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسلامی امارت کابل ایئرپورٹ پر ہونے والے بم حملے کی شدید مذمت کرتی ہے، جو اس علاقے میں واقع ہوا جہاں سیکیورٹی پر امریکی افواج مامور ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ”اسلامی امارت اپنے عوام کی سیکیورٹی اور تحفظ پر ازحد توجہ دے رہی ہے اور برے عزائم رکھنے والے حلقوں کو سختی سے دور رکھا جائے گا”۔

ادھر طالبان ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد نے پشتو زبان میں اپنے ٹوئیٹر پیغام میں کہا ہے کہ یہ حملہ اس علاقے میں ہوا جہاں امریکی اہلکار چھان بین کے فرائض انجام دے رہے تھےجب کہ وہ علاقہ جس کی حفاظت طالبان کررہے ہیں وہاں کوئی مسئلہ نہیں ہے۔

بقول ان کے، "عینی شاہدین اور مقامی صحافیوں کے حوالے سے ہم محفوظ انداز سے یہ کہہ سکتے ہیں؛ اور میں نےٹوئیٹ بھی کیا ہے کہ کم از کم 35 افراد ہلاک جب کہ 70 زخمی ہوئے ہیں۔ لیکن یہ اعداد و شمار بڑھ کر اب 40 ہلاک جب کہ 100سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ "

کابل میں دو دھماکے: صحافی نے ہسپتال کے باہر کیا دیکھا؟





please wait



No media source currently available

مغربی ممالک نے دن کے آغاز پر انتباہ کر دیا تھا کہ ہوائی اڈے پر حملے کا امکان ہے۔ قیاس تھا کہ یہ حملہ اسلامک اسٹیٹ گروپ (داعش) کی جانب سے لوگوں کے ہجوموں پر کیا جائے گا، جب کہ طالبان جنگجو لوگوں کو کنٹرول کرنے کے لیے ایئرپورٹ کے دروازوں پر تعینات ہیں۔

امریکی عہدے داروں نے نام پوشیدہ رکھنے کی شرط پر بتایا ہے کہ دھماکے میں امریکی اہل کار بھی زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم اس بارے میں کوئی تفصیل نہیں بتائی گئی۔

امریکہ کے صدر جوبائیڈن نے کہا ہے کہ 31 اگست تک افغانستان سے انخلا کا عمل مکمل ہو جائے گا جس کے ساتھ ہی امریکہ کی تاریخ کی طویل ترین جنگ ختم ہو جائے گی۔

کچھ مغربی ملک چاہتے ہیں کہ31 اگست کی ڈیڈ لائن کو کچھ آگے بڑھا دیا جائے تاکہ ان تمام لوگوں کو ملک سے باہر نکالا جا سکے جو افغانستان چھوڑنے کے خواہش مند ہیں۔ تاہم طالبان نے کہا ہے کہ وہ 31 اگست کی ڈیڈ لائن میں اضافے کی اجازت نہیں دیں گے۔

(مزید تفصیلات کا انتظار ہے)

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے