کراچی میں عوام اور خواص کےلیے حکومت کی ترجیحات پہلے ہی الگ الگ رہی ہیں لیکن دور کورونا میں بھی پالیسیاں مختلف رکھی گئی ہیں۔
آج شہرقائدمیں سیف ڈےہے،یعنی گھرپررہیں محفوظ رہیں۔ شہرکے تمام تجارتی اورصنعتی علاقے بندہیں۔ سیف ڈے پرچھوٹی دکانوں اورپتھاروں کوبھی کاروبارکرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔
صرف مخصوص اورایمرجنسی شعبوں کوکام کی اجازت ہے۔ شہریوں کوچھ فٹ کا فاصلہ رکھنے اورماسک لگانے کی تلقین کی جارہی ہے۔سندھ حکومت نے شہریوں کےلیےویکسینیشن بھی لازمی قراردی ہے۔ ویکسینیشن نا کروانے والوں کی تنخواہ اورموبائل سم بندکرنے کی دھمکیاں دی گئی ہیں۔
ایک طرف کورونا وائرس کی وبا روکنے کےلیے اتنے جتن کیے جارہے ہیں اور دوسری طرف آج شہرقائدمیں بڑاسیاسی جلسہ کیاجارہاہے۔جلسے میں سندھ کی حکمراں جماعت سمیت دیگرسیاسی جماعتیں شرکت کررہی ہیں۔
جلسے میں ملک بھرسے رہنما اورکارکن شرکت کررہے ہیں۔ جلسہ گاہ میں ہزاروں شرکاء کےلیے انتظام کیاگیاہے۔ قلت شہرمیں اتنی بڑی سیاسی گیدرنگ کورونا ایس او پیز پرسوالیہ نشان ہے۔ عوام کےلیے پابندیاں اورخواص کےلیے ہرطرح کی چھوٹ دے رکھی ہے۔
