پوری دنیا کوماحولیاتی تغیر کا سامنا ہے۔ اگر تدابیر نہ لی گئیں اور یہ درجہ حرارت بڑھتا رہا تو وہ دن دور نہیں جب کرہ ارض ماحولیاتی تغیر کی لپیٹ میں آ جائے گا۔ تو سوال یہ ہے کہ ہم اس کےلیے کیا کر سکتے ہیں؟
اقوام متحدہ کے زیر نگرانی حکومتوں کے درمیان ماحولیاتی تغیر کے پینل کی رپورٹ کے مطابق، دنیا میں ماحولیاتی تبدیلی تیزی سے بدل رہی ہے،بعض تبدیلیاں تو ایسی ہیں جنہیں سینکڑوں بلکہ ہزاروں سال بھی ختم نہیں کیا جا سکے گا۔
زہریلی گیسوں اور کاربن ڈائی آکسائیڈ میں اگر کمی نہ لائی گئی تو عالمی حرارت میں ڈیڑھ گنا اور موسمی درجہ حرارت میں دو ڈگری کا اضافہ نا گزیر ہو جائے گا۔ اس طرح سے حرارت کرہ ارض پر موجود زندگی کے لیے نقصان دہ بنے گی ۔
امریکی پروفیسر برائے ماحولیات اسٹیفن پائن نے کہا ہے کہ دنیا ایک نیا رخ اختیار کر چکی ہے۔اس دور میں جسے آتشی دور کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔ پائن کا کہنا ہے کہ اس دور میں آتشزدگی کے واقعات بڑھ جائیں گے جنہیں بجھانا مشکل ہوگا۔
موسم تبدیل اور قدرتی آفات میں اضافہ ہوگا جن سے امراض بڑھیں گے ،سمندروں کا ایکو نظام متاثر ہوگا،ماحولیاتی تبدیلی کی وجہ سے نقل مکانی بڑھے گی ۔غذائی پیداوار اور مویشی بانی متاثر ہوگی ،جینیاتی اقسام ختم ہو جائیں گی اور نئی وباوں کا ظہور ہوگا۔
اقوام متحدہ کے تحت، مداغاسکر وہ پہلا ملک ہو سکتا ہے جسے قحط کا سامنا کرنا پڑے گا۔
گزشتہ سال 94 مختلف ممالک سے 25 ملین افراد اس تبدیلی سے متاثر ہوئے جن میں اچانک موسمی تبدیلی قابل ذکر ہے۔اس تبدیلی کی وجہ سے نقل مکانی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی بینک کی پیشنگوئی ہے کہ سن 2050 تک 140 ملین انسان اپنے آبائی ممالک کو ترک کر سکتے ہیں جن میں زیریں افریقہ ،جنوبی ایشیا اور لاطینی امریکی ممالک شامل ہونگے۔
ان تمام اسباب کی اصل وجہ ہم انسان ہی ہیں جن میں روز بروز اضافہ ہمارے ارضیاتی نظام کو تباہ کرنے کے درپے نظر آر ہا ہے۔نئی تبدیلیوں کی وجہ سے ہمیں اپنے مستقبل کا بھی خطرہ ہے اور ہمیں تشویش ہے کہ ہم نئی نسلوں کےلیے کس قسم کی دنیا چھوڑ کر جائیں گے۔انسان اس مشکل سے بھی دوچار ہیں کہ وہ اب بدلتی دنیا کے ماحول کو کیسے صاف ستھرابنا سکتے ہیں۔
افسوس کہ عالمی حرارت اور تبدیلیوں سے ہماری زندگی متاثر ہوگی لیکن، امید کی نئی سمتوں کے تعین سے ہو سکتا ہے کہ ہم ان تبدیلیوں پر قابو پانے میں کامیاب ہو جائیں۔
