میانوالی کو شیر جوانوں شہیدوں غازیوں اور بہادروں کی سرزمین کہا جاتا ہے یہاں کا کوئی ایسا گاؤں
نہیں جس کے باسیوں نے وطن عزیز کے لیے اپنا لہو قربان نہ کیا ہو۔ میجر جنرل جاوید سلطان ہوں یا
میجر جنرل ثنا اللہ نیازی، ٹولہ منگلی کے نصراللہ خان ہوں، آرمی پبلک اسکول سانحہ میں شہید ہونے والے
طالب علم حامد سیف خٹک یا پھر ابا خیل کے ملک فیصل۔
میانوالی کی دھرتی نے سپاہی سے لے کر جرنیل تک پاک وطن پہ قربان کیے ہیں۔ عیسیٰ خیل سے چکڑالہ اور
شادیہ سے بانگی خیل تک میانوالی کا کوئی ایسا علاقہ نہیں جو شہدا کے خون سے رنگین نہ ہو مگر میانوالی
کی تحصیل عیسیٰ خیل میں کوٹ چاندنہ سے چند کلو میٹر کے فاصلے پرغیور خٹک قبائل کا ایک ایسا
گاوں موجود ہے جسے یہ اعزاز حاصل ہے کہ اس گاؤں نے وطن عزیز کے لیے سب سے زیادہ قیمتی جانوں
کا نذرانہ پیش کیا۔
پاک وطن کے لیے جان قربان کرنے والے اس گاؤں کے شہداء کی تعداد 100 سے زائد ہے اور پانچ خوش نصیب
باپ ایسے بھی ہیں جن کے دو دو بیٹے جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ اس گاؤں کا نام ٹولہ منگلی ہے جہاں
کے قبرستان میں ہر جانب سبز ہلالی پرچم لہراتے دکھائی دیتے ہیں۔
1965کی جنگ ہو یا 1971کی، کارگل کا معرکہ ہو یا قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف آپریشن
اس علاقہ کے بہادر اور جری نوجوان ہر محاذ پر مردانہ وار لڑے ہیں۔
آفرین ہے میانوالی کے ان شہدا کے والدین پر جنہوں نے دفاع وطن میں اپنے جگر گوشے قربان کیے۔اپنی جوانی
کے سنہرے دن وطن کی خاطر قربان کر دیئے۔ اسی گاؤں کے شہید ہونے والے ایک فوجی جوان کے بیٹے
بتایا کہ مجھے اپنے والد کی شہادت پر فخر ہے اور میں فوج میں بھرتی ہو کر شہادت حاصل کروں گا۔
اس گاؤں کے ہر گھر کا ایک یا ایک سے زیادہ افراد سیکیورٹی فورسز میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔
ٹولہ منگلی کے قبرستان میں جا بجا شہدا کی قبروں پر سبز ہلالی پرچم لہراتے نظر آتے ہیں ۔یہاں کے
لوگ محنتی جفاکش اور بہادر ہیں۔ ان لوگوں نے یہاں سے 2کلومیٹر دور کیڈٹ کالج عیسیٰ خیل کے
لیے 22سو کنال قیمتی اراضی بھی وقف کی ہے اور حکومت نے یہاں ایک معیاری کیڈٹ کالج بھی بنایا
مگر یہاں کے باسیوں کو اس کالج کا کوئی فائدہ نہیں۔ سنگلاخ پہاڑوں کے دامن میں اباد گاؤں ٹولہ منگلی
محبت خیل ،الف خیل ،نواں شہر، جنجوانی ،اعواناں والا اور دیگر ملحقہ آبادیوں کے لوگ عرصہ دراز
سے پاک فوج ،نیوی، پاک فضائیہ اور ایف سی میں اپنی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
مادر وطن پر جانیں قربان کرنے والے شہدا کی سرزمین میانوالی بنیادی سہولتوں سے محروم
سانحہ آرمی پبلک اسکول کے شہدا طالب علموں میں سے ایک کا تعلق ٹولہ منگلی سے ہے جس کا نام
حامد سیف تھا۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول میں حامد سیف نے اپنی جان کی پرواہ نہ کرتے ہوئے
دہشت گردوں کا مقابلہ کیا اور اپنے ساتھی طالب علموں کی جان بچائی۔ یہاں کے بچوں اور نوجوانوں نے
میڈیا کو بتایا کہ ہم بھی پاک فوج میں بھرتی ہو کر دفاع وطن کے لیے اپنی جانیں قربان کریں گے۔
