(انٹرویو: سید وزیر علی قادری) کشمیر پریمئر لیگ کی کوریج کے سلسلے میں مظفر آباد ، آزاد کشمیر جانا ہوا ۔ قیام کے دوران ایسے نوجوان کرکٹر سے ملاقات ہوئی جو بہت ہی معصوم اور بھلا لگا۔ گفتگو میں اتنی مٹھاس کے دل چاہا کہ کچھ بات کرلی جائے۔ میرے بہت ہی اچھے کرم فرما راشد کشمیری جو امارات میں رہائش پزیر ہیں اور جب بھی یو اے ای جانا ہوتا ہے بہت خیال رکھتے ہیں نے فون کرکے بتایا کہ میرا بھتیجا راول کوٹ ہاکس کی ٹیم میں ایمرجنگ پلئیر کی حیثیت سے شامل ہے۔ ایس او پیز کا خیال رکھتے ہویے کال کی تو رات کا ایک بج رہا تھا۔ کرکٹ اسٹیڈیم سے قریب میں نے رہائش رکھی ہوئی تھی ۔ پرل کانٹی نینٹل ہوٹل میں ٹیمیں ٹہری ہوئی تھیں۔ جس نوجوان کا انٹرویو کرنے گیا ۔ مسافت نہ صرف اونچائی کی وجہ سے اچھی خاصی دور بھی لگی اور رات کو شاٹ کٹ کے چکر میں دشوار بھی رہی۔ کوئٹہ سے آئے ہویے ساتھی فوٹوگرافر عبداللہ اور لاہور سے رپورٹر نوید ملک کے ساتھ سیکورٹی پوسٹ پہنچے اور تعارف کراکر استقبالیہ سے ہوتے ہویے انتظار گاہ میں بیٹھ گئے تقریبا رات گئے 3بجے تھے۔ فیصل الطاف ہمارا انتظار کررہے تھے کیونکہ وہ سمجھے کہ آدھ گھنٹے تک ہم پہنچ جائیں گے ۔ فیصل الطاف شاہد خان آفریدی کی کے پی ایل فرنچائز اور فاتح کے پی ایل راولاکوٹ ہاکس کے اسکواڈ/ٹیم میں شامل تھے۔ انہیں 3جولائی پلئیر ڈرافٹنگ میں ایمرجنگ کیٹگری میں لیا گیا تھا۔ پوچھے گئے سوالات کی روشنی میں جو جوابات حاصل ہویے وہ جسارت کے قارئین کی نذر ہیں۔ فیصل الطاف کشمیری 15مارچ 2001شارجہ ، متحدہ عرب امارات میں پیدا ہویے، تعلیم پاکستانی اسکول عجمان سے حاصل کی۔ انٹر سائنس کرنے کے بعد مستقبل میں مزید اعلی تعلیم حاصل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ بچپن سے کھیلوں میں دلچسپی تھی۔ کرکٹ میں زیادہ زیادہ لگائو تھا ۔ لڑکپن سے کرکٹ میچوں کو اسٹیڈیم جاکر دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ بس اسی طرح خود بخود کرکٹ کھیلنا شروع کردی۔ الحمداللہ اللہ نے اس میں کامیابی عطا کی۔ کارلٹن کرکٹ کلب، بخاطر XI اور شارجہ کلب سے کھیلتے رہے ہیں۔ ان کے آئیڈیل کھلاڑی علی حسن ہیں۔ وہ اپنے متعلق کہتے ہیں کہ میں علی حسن کی طرح کا کرکٹر بننا چاہتا ہوں کہ اپنے ملک کا نام روشن کروں۔ اور کرکٹ کی فیلڈ میں ایسی کارکردگی دکھائوں کہ شائقین و مداح تادیر اس کو یاد رکھیں۔ کے پی ایل کے بارے میں ان کے تاثرات تھے کہ کشمیر پریمئر لیگ کا تجربہ بہت اچھا رہا۔ لیجینڈز کے ساتھ بہت کچھ سیکھنے کو ملا۔ شاہد آفریدی، احمد شہزاد اور بہت تجربہ کار کوچز جن میں پاکستان کے ارشد، نیاز، باسط جیسے مایہ ناز کرکٹرز نے جس انداز میں ٹریننگ کرائی اور دوستانہ ماحول رکھا وہ خوشگوار لمحات کا حصہ بن گئے ہیں۔ یہ ہی کوشش ہوگی کہ ان سے جو کچھ سیکھا ہے وہ میدان میں اتر کر اوران باتوں پر عمل کرکے ایسا کھیل پیش کروں کہ انہیں مجھ پر رشک ہو کہ ایسا شاگرد جس نے بہترین صلاحیتوں کے ساتھ اپنا لوہا منوایا۔ جہاں تک کے پی ایل میں نمائندگی کا سوال ہے تو میں محض صرف ایک میچ کھیلا تھا، اوورسیز ٹیم کے خلاف بلے بازی کا موقع زیادہ نہیں ملا کیونکہ بہت نیچے کے نمبر پر گیا تھا البتہ 3اوورز میں 28رنز دے کر ایک کھلاڑی کو آئوٹ کیا تھا۔ انہوں نے پیغام دیتے ہویے نوجوانوں کو مخاطب کرتے ہویے کہا کہ جس شعبہ یا پیشہ کا بھی انتخاب کریں اس کو دیانتداری کے ساتھ محنت کرکے قوم کے لیے نام روشن کریں جس سے والدین، خاندان اور خود ان کو ستائش مل ہی جائے گی۔ دوسری اہم بات یہ کہ نتیجہ رب العزت پر چھوڑ دیں وہ آپ کی توقعات سے بڑھ کر آپ کو بہتر نتیجہ دے گا ان شاء اللہ۔ روزنامہ جسارت اخبار کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہاس کی ویب سائٹ اچھی لگی اور اسپورٹس کا صفحہ دلچسپی سے پڑھتا ہوں۔ اسی لیے آپ کے زریعے قارئین کو کہنا چاہتا ہوں کہ پاکیزہ ماحول دیتے ہویے تمام خوبیوں کے ساتھ روزنامہ جسارت کا اجرا اور ویب صفحہ پر روزانہ اس کو پڑھ کر پتا چلتا ہے کہ صحافت واقعی میں بہت پاکیزہ پیشہ ہے اور ریاست کا چوتھا ستون ہے۔

