
مقبوضہ بیت المقدس (انٹرنیشنل ڈیسک) فلسطین بھر میں جمعہ کے روز اسرائیل کے خلاف ’’یومِ غضب‘‘ منایا جا رہا ہے۔ اس دن کو منانے کی کال فلسطینی گروہوں کی جانب سے دی گئی تھی۔ یوم غضب کا مقصد اسرائیلی جیلوں میں قیدیوں کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں پر احتجاج ریکارڈ کرانا تھا۔ اس حوالے سے مغربی کنارے کے کئی شہروں میں شدید جھڑپیں ہوئیں، جن میں درجنوں فلسطینی زخمی ہوئے۔ اس دوران فلسطینی مظاہرین اسرائیلی فوجیوں کو چمچے دکھا کر منہ چڑاتے رہے، کیوں کہ اسرائیل کی سخت سیکورٹی والی جلبوع جیل سے 6 فلسطینی قیدی ایک چمچے کی مدد سے 30 فٹ طویل سرنگ کھود کر فرار ہوگئے تھے۔ اس کے بعد سے اسرائیل کی کئی جیلوں میں قیدیوں اور پہرے داروں کے بیچ شدید جھڑپیں دیکھنے میں آئی ہیں۔ جمعہ ہی کے روز مسجد اقصیٰ کے باہر قابض فوج نے ایک فلسطینی نوجوان کو گولی مار کر شدید زخمی کردیا۔ خبررساں اداروں کے مطابق اس نوجوان نے ایک اسرائیلی فوجی پر چاقو سے حملہ کیا تھا۔ اس کے بعد اسرائیلی فوج نے مسجد اقصیٰ کے دروازوں کو مسلمانوں کے لیے بند کردیا۔ باب الاسباط سے نمازیوں کو داخلے کی اجازت نہیں دی گئی، جس کی بنا پر مسلمانوں نے باہر ہی نماز ادا کی۔ دوسری جانب اسرائیلی انٹیلی جنس کا کہنا ہے کہ فرار ہونے والے کئی قیدی مغربی کنارے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اسرائیلی اخبار ہارٹز نے انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ ان قیدیوں کو گرفتار کرنے کے لیے مغربی کنارے کے شہروں میں ان قیدیوں کے تحفظ کی کوشش کرنے والے مسلح عناصر کے ساتھ معرکہ آرائی کا امکان ہے۔ اسرائیلی انٹیلی جنس نے دعویٰ کیا ہے کہ بالآخر ان 6 قیدیوں کو پکڑ لیا جائے گا۔ البتہ اسرائیلی سیکورٹی اداروں کو اندیشہ ہے کہ دوبارہ گرفتاری کی کوشش کے دوران میں اگر یہ قیدی ہلاک ہو گئے تو غزہ سے اسرائیل کی سمت راکٹ داغے جا سکتے ہیں۔ اسرائیلی پولیس اور فوج کے اسپیشل یونٹس انتہائی چوکنا ہیں۔ اسرائیلی فوج نے مغربی کنارے کے مختلف شہروں اور 1948ء کے مقبوضہ علاقوں میں مفرور فلسطینی قیدیوں کی تلاش کے لیے سرچ آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔ اسرائیلی حکام نے غرب اردن میں کرفیو کے نفاذ پرغور شروع کیا ہے۔ اسرائیلی اخبار ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق اسرائیلی پولیس کو شبہہ ہے کہ سیکورٹی گارڈز نے جلبوع جیل سے 6 قیدیوں کے فرار میں مدد کی تھی۔
