
منامہ (انٹرنیشنل ڈیسک) بحرین میں موجود امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے نے اعلان کیا ہے کہ وہ ایک نئی فورس تعینات کرے گا، جس میں ڈرون طیارے شامل ہوں گے۔ یہ فورس فضائی ، سمندری اور زیر آب دستوں پر مشتمل ہو گی۔ امریکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بحریہ کے ذمے داران کا کہنا ہے کہ آنے والے مہینوں کے دوران میں ڈرون طیارے متعلقہ علاقے میں اپنی صلاحیتوں کے دائرے کو وسیع کریں گے۔ امریکی پانچویں بیڑے کے کمانڈر وائس ایڈمرل براڈ کوپر کے مطابق ان کا ملک بحری شعبے میں پانی کے اوپر اور پانی کے اندر مزید نظام وضع کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ ادھر مذکورہ بیڑے کے ترجمان ٹیم ہوکنز نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا ہے کہ یہ ایک ورکنگ فورس ہے جو ڈرون آلات اور مصنوعی ذہانت کو پانچویں بیڑے کے زون میں سمندری کارروائیوں کے ساتھ فوری ضم کرنے کے لیے مختص ہو گی۔ گزشتہ ماہ گروپ سیون کے وزرائے خارجہ نے الزام عائد کیا تھا کہ 29 جولائی کو اسرائیل کے ساتھ منسلک ایک سمندری آئل ٹینکر پر ڈرون حملے کے پیچھے ایران کا ہاتھ ہے۔ اس کارروائی میں ایک سابق برطانوی فوجی اور رومانیا کا ایک شہری ہلاک ہو گئے تھے۔ ایران نے اس حملے سے اپنے کسی بھی تعلق کی سختی سے تردید کی تھی۔ امریکی بحریہ کی مرکزی کمان نے جمعرات کے روز جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ نئی فورس علاقائی شراکت داریوں اور اتحادوں پر انحصار کرے گی۔ دوسری جانب عرب ممالک کے نمایندوں نے ایران کی جوہری تنصیبات کے مکمل معاینے کا مطالبہ کیا ہے۔ قاہرہ میں ہونے والے اجلاس میں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصر کے نمایندوں نے ایران کے تمام جوہری مقامات کے معاینے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس میں نئی ایرانی پالیسیوں پر خدشات کا بھی اظہار کیا گیا۔ سعودی وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان السعود کی زیرصدارت ہونے والے اجلاس میں خطے میں ایرانی مداخلت اور یمن میں حوثیوں کی مالی معاونت روکنے کے لیے مشترکہ رابطے کو مضبوط بنانے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ واضح رہے کہ خطے کے عرب ممالک ہمسایہ ملک ایران اور اس کی جوہری سرگرمیوں کو اپنے لیے خطرہ سمجھتے ہیں۔
