متحدہ امریکہ نے اس بات کا عتراف کرلیا ہے کہ افغانستان میں کابل ہوائی اڈے کے جوار میں کیے گئے حملے میں تمام تر ہلاک شدگان عام شہری تھے۔
امریکی جنرل فرینک مکینزی نے کابل ائیرپورٹ سے انخلا کے دوران وہاں کیے گئے ڈرون حملے میں عام افغان شہریوں کی ہلاکت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ امریکی افواج کے ڈرون حملے میں مارے گئے افراد عام شہری تھے جن میں 7 بچے شامل تھے، ہم مکمل تحقیقات کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق داعش خراساں سے نہیں تھا جس پر مرنے والوں کے لواحقین سے معذرت خواہ ہیں۔
میک کینزی نے امریکہ کے 29 اگست کو کابل ہوائی اڈے کے جوار میں فضائی حملے سے متعلق تحقیقات کے مکمل ہونے کا اعلان کیا۔
امریکی جنرل نے کہا کہ ابتدائی طور پر ڈرون حملہ اس وجہ سے کیا گیا کیوں کہ کابل ائیرپورٹ پر امریکی افواج موجود تھیں اور ہمیں لگا کہ ان پر حملہ کیا جائے گا، یہ ہماری غلطی تھی جس پر میں معافی چاہتاہوں اور بحیثیت کمانڈر میں اس حملے کی مکمل ذمہ داری لیتا ہوں۔
واضح رہے کہ کابل ائیرپورٹ پر دھماکے میں 13 امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکا نے ڈرون حملہ کرکے کابل ایئرپورٹ بم دھماکوں کے ممکنہ منصوبہ ساز کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کیا تھا، اس ڈرون حملے میں 10 افراد مارے گئے تھے۔
