ایران کے سفیر سید محمد علی حسینی نے کہا ہے کہ افغانستان میں قیام امن اور حکومت کی تشکیل کے
عمل پر پڑوسی ممالک کے ساتھ ہیں۔ پاکستان اور ایران خطے میں امن کے لئے رابطے میں ہیں۔
سید محمد علی حسینی کی اسلام آباد میں کی صحافیوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے کہا پاکستان
اور ایران کے تعلقات میں غلط فہمیاں پیدا کرنے کی سازشیں کی گئیں۔ پنجشیر میں بیرونی مداخلت پر
ایران کےبیان کو پاکستان سے جوڑا گیا۔
ایران پاکستان کی طرح افغانستان میں بیرونی مداخلت کے خلاف ہے۔ صحافی کے سوال کو پنچشیر میں
پاکستان سے جوڑ کر پروپیگنڈہ کیا گیا۔پاکستان ایران دو طرفہ روابط میں بہتری لائی جا رہی ہے۔
ستر سال سے پاکستان ایران کے درمیان ایک بارڈر کراسنگ پوائنٹ تھا۔ گذشتہ آٹھ ماہ میں دو نئے بارڈر
کراسنگ پوائنٹس کا افتتاح کیا گیا۔ رمدان گَبد اور پشین مند بارڈر کراسنگ پوائنٹ کے افتتاح سے
دو طرفہ روابط میں بہتری آئے گی۔

پاکستان اور ایران ملک کر جوائنٹ بارڈر تجارتی مراکز بنا رہے ہیں۔ ایران پاکستان گیس پائپ لائن
کی تعمیر کے لئے ایران اپنی ذمہ داری ٌپوری کر چکا ہے۔ پائپ لائن پاکستان کی بارڈر تک بجھائی
جا چکی ہے۔
اسلام آباد میں ایران کے سفیر کا کہنا تھا خطے میں بہتری اور پر امن مقاصد کے لئے کاوشیں جاری رہیں
گے۔ ایران پر جوہری توانائی کے سلسلے میں امریکی یکطرفہ پابندیاں ہیں۔ امریکا جے سی پی او
معاہدے سے بھاگ گیا۔
بارہ سال کے مذاکرات کےبعد 5+1 ممالک معاہدے پر پہنچے تھے۔ بائیڈن نے جے سی پی او معاہدے کی
طرف جانے کا وعدہ کیا تھا لیکن عمل نہ کیا۔
ایک سوال پر ایرانی سفیر نے کہا مسلم ممالک کے آپس میں تعلقات خراب کرنے کی سازشیں کی جاتی ہیں۔
