English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

جرمنی میں پارلیمانی انتخابات کے لیے ووٹنگ

جرمنی کے چھ کروڑ ووٹرز اپنا جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے اتوار کو پارلیمانی انتخابات میں نئے قانون ساز ممبران کو منتخب کر رہے ہیں۔

ان انتخابات میں کامیاب ہونے والے پارلیمنٹ کے ممبران کئی سالوں سے مقبول اور اب سبکدوش ہونے والی چانسلر اینگلا میرکل کی جگہ ملک کے لیے نئی قیادت کا فیصلہ کریں گے۔

سیاسی مبصرین توقع کر رہے ہیں کہ نو منتخب ممبران ایک مخلوط حکومت بنائیں گے جس کا مطلب یہ ہے کہ نئی قیادت کے اعلان میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔

میرکل جنہوں نے جرمنی کی سب سے بڑی یورپی معیشت کی حیثیت کو برقرار رکھنے میں کلیدی کردار ادا کیا، اپنے 16 سالہ دورِ اقتدار کے بعد عہدہ چھوڑ رہی ہیں۔

انتخابی عمل کے دوران میرکل نے چانسلر بننے کے کسی بھی اُمیدوار کی کھل کر حمایت نہیں کی۔ البتہ ہفتے کو اُنہوں نے کرسچن ڈیمو کریٹک پارٹی کی ایک ریلی میں شرکت کی تھی۔

انتخابی امیدوار

انتخابی امیدوار

دریں اثنا ماحولیات پر توجہ مرکوز کرنے والی گرینز پارٹی کی امیدوار برائے چانسلر اینالینا بیئرباک کے الیکشن سے پہلے کے جائزوں کے مقابلے میں انہیں کچھ زیادہ ووٹ ملنے کی توقع ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق بیئرباک نے برلن سے باہر شہر پوسٹ ڈیم میں ووٹ ڈالا۔

مبصرین کے مطابق اگرچہ گرینز پارٹی ان انتخابات کے نتیجے میں جرمنی کو متوقع طور پر نئی قیادت نہیں دے سکے گی لیکن ایک مخلوط حکومتی کے قیام میں اس کا کردار بہت اہم ہو گا۔

ادھر چانسلر اینگلا میرکل کی سینٹر رائٹ کرسچن ڈیمو کریٹ یونین (سی ڈی یو) کے امیدوار ارمیں لاشیٹ نے کہا کہ ایک ایک ووٹ اس الیکشن کے نتائج کے لیے اہم ثابت ہو گا۔

حالیہ جائزوں کے مطابق لاشیٹ اور سینٹر لیفٹ پارٹی سوشل ڈیمو کریٹک پارٹی کے امیدواروں میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے جب کہ گرینز پارٹی تیسرے نمبر پر ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے