English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سرکاری اعزاز کے ساتھ اسلام آباد میں سپردِ خاک کردیا گیا

القمر

پاکستان کے جوہری پروگرام کے بانی اور محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو سرکاری اعزاز کے ساتھ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے ایچ 8 قبرستان میں سپردِ خاک کردیا گیا۔

نامور پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان طویل علالت کے بعد آج (10 اکتوبر کی) صبح 85 برس کی عمر میں انتقال کر گئے تھے۔

قبل ازیں ڈاکٹر عبدالقدیر کی نماز جنازہ اسلام آباد کی فیصل مسجد میں ادا کی گئی تھی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر کی نماز جنازہ کی امامت پروفیسر ڈاکٹر محمد الغزالی نے کی جس میں قائم مقام صدر اور چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے علاوہ سول و ملٹری حکام اور عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

جنازے کے وقت اسلام آباد میں تیز بارش کا سلسلہ جاری رہا جس کے باعث عوام کو جنازہ گاہ پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اس کے باوجود عوام کی بڑی تعداد اپنے قومی ہیرو کو الوداع کہنے کے لیے فیصل مسجد پہنچی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے جسدِ خاکی کو قومی پرچم میں لپیٹا گیا اور نماز جنازہ سے قبل انہیں پاک فوج کے دستے کی جانب سے سلامی بھی پیش کی گئی۔

اس موقع پر فیصل مسجد کے اطراف اور اسلام آباد میں سیکیورٹی کے سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

نماز جنازہ میں شرکت کے لیے وفاقی دارالحکومت کے قریبی شہروں سے بھی عوام کی بڑی تعداد پہنچی جبکہ کچھ شہروں میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی۔

علاوہ ازیں بہاولپور میں امیر جماعت اسلامی سراج الحق کی امامت میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔

ڈاکٹر عبدالقدیر کی نمازِ جنازہ ادا ہونے کے بعد وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی اسد عمر نے ایک ٹوئٹر پیغام میں کہا کہ بڑی تعداد میں لوگوں کی نماز جنازہ میں آمد سے معلوم ہورہا ہے کہ یہ قوم اپنے محسنوں کو فراموش نہیں کرتی۔

تاہم اسلام آباد میں گرج چمک کے ساتھ تیز بارش کی وجہ سے ڈاکٹر عبدالقدیر کی تدفین کچھ تاخیر کے بعد کی گئی۔

خیال رہے کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان طویل عرصے سے علیل تھے اور طبیعت بگڑنے پر انہیں آج صبح ہی اسلام آباد کے ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔

وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کے تمام اراکین کو محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی ہدایت کی تھی۔

اس حوالے سے وزیر داخلہ شیخ رشید نے بتایا تھا کہ آرمی چیف جنرل جاوید باجوہ سمیت بحریہ اور فضائیہ کے اعلیٰ افسران بھی نماز جنازہ میں شریک ہوں گے۔

قبل ازیں وزیراعظم عمران خان نے اعلان کیا تھا کہ معروف سائنسدان کو ان کی خواہش کے مطابق فیصل مسجد کے احاطے میں ہی سپرد خاک کیا جائے گا تاہم ان کے اہلِ خانہ کی خواہش پر اسلام آباد کے سیکٹر ایف-8 میں ڈاکٹر عبدالقدیر کی تدفین کی گئی۔

محسنِ پاکستان کے انتقال پر حکومت پاکستان کی جانب سے قومی پرچم بھی سرنگوں رکھا گیا ہے۔

ان کی وفات پر صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی، وزیراعظم عمران خان، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف، چیئرمین پی پی پی بلاول بھٹو زرداری سمیت سیاسی رہنماؤں اور اہم شخصیات نے گہرے دکھ اور رنج کا اظہار بھی کیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا مختصر تعارف

وہ 27 اپریل 1936 کو متحدہ ہندوستان کے شہر بھوپال میں پیدا ہوئے اور برصغیر کی تقسیم کے بعد 1947 میں اپنے خاندان کے ساتھ ہجرت کر کے پاکستان آگئے تھے۔

انہوں نے اپنی ان تھک محنت اور بے لوث جذبے سے قلیل مدت میں یورینیم افزودگی کا وہ کارنامہ سرانجام دیا جو بظاہر ناممکن نظر آتا تھا۔

نیوکلیئر فزکسٹ اور میٹلرجیکل انجینئر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ملکی دفاع کو نا قابل تسخیر بنانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔

انہوں نے یورپی ملک ہالینڈ سے ماسٹرز آف سائنس جب کہ بیلجیئم سے ڈاکٹریٹ آف انجینئرنگ کی ڈگریز حاصل کیں۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے کے بعد وطن واپسی پر 1976 میں انجینئرنگ ریسرچ لیبارٹریز میں شمولیت اختیار کی، جس کا 1981 میں جنرل ضیاءالحق نے نام تبدیل کرکے ’ڈاکٹر اے کیو خان ریسرچ لیبارٹریز‘ رکھا۔

انہوں نے متعدد مرتبہ اعتراف کیا کہ پاکستان میں ایٹمی پروگرام سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے شروع کیا، جنہیں مختلف حکمرانوں نے آگے بڑھایا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر کی سربراہی میں ہی پاکستان نے بھارتی ایٹم بم کے تجربے کے جواب میں مئی 1998 میں نواز شریف کی وزارت عظمیٰ کے دوران کامیاب ایٹمی تجربہ کرکے دنیا میں نیا اعزاز حاصل کیا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ان کی خدمات کے عوض حکومت پاکستان نے 14 اگست 1996 کو پاکستان کا سب سے بڑا سِول اعزاز نشانِ امتیاز جبکہ 1989 میں ہلال امتیاز کا تمغہ بھی عطا کیا تھا۔

انہوں نے اپنے کیریئر کے دوران ایک درجن سے زائد طلائی تمغے بھی حاصل کیے جب کہ انہیں متعدد ملکی و عالمی خصوصی ایوارڈز سے بھی نوازا جا چکا ہے۔

ان کی خدمات کے عوض 1993 میں انہیں کراچی یونیورسٹی نے ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی سند بھی دی تھی جب کہ ڈاؤ یونیورسٹی ہسپتال میں ان کے نام سے سینٹر کا قیام بھی عمل میں لایا گیا ہے۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کئی تنازعات کا شکار ہوئے، پہلے ان پر ہالینڈ سے ایٹمی معلومات چوری کرنے کا الزام عائد کیا گیا، جس سے وہ باعزت بری ہوئے تو 2004 میں سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے دور میں ایک دفعہ پھر حساس معلومات دوسرے ممالک کو فراہم کرنے کی چارج شیٹ لگادی گئی، جس پر انہیں اپنے گھر میں نظر بندی کا سامنا کرنا پڑا۔

اگرچہ عدالت اور عوامی رد عمل پر ان کی نظربندی کچھ عرصے بعد ختم کردی گئی تھی، مگر اس کے باوجود ملک کے یہ نامور سپوت گوشہ نشینی کی زندگی گزارتے رہے۔

وفاقی حکومت کے تحت عشرہ رحمت اللعالمین کی تقریبات کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا ہے جہاں وزیراعظم عمران خان نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لیے دعائے مغفرت کروائی۔

اسلام آباد میں عشرہ رحمت اللعالمین کی افتتاحی تقریب میں وزیراعظم عمران خان نے اپنے خطاب سے قبل محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے لیے دعا کروائی۔

انہوں نے کہا کہ میں آج نبی کریم ﷺ کا یوم ولادت منانے کے لیے پروگرام کا آغاز کر رہے ہیں اور اپنی قوم کے نوجوانوں سےبات کرنا چاہتا ہوں اور مجھے خوف ہے کیونکہ سوشل میڈیا اور جس طرف حالات جارہے ہیں اس لیے مختلف بات کروں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی زندگی سے شروع کروں گا کیونکہ جہاں میں آج ہوں ہمیشہ سے ایسا نہیں تھا، بڑا سوچا کہ اس پر بات کروں یا نہ کروں، پھر مجھے بشریٰ نے کہا کہ ضرور کروں۔

وزیراعظم نے کہا کہ میری والدہ نے ایک دعا سکھائی تھی کہ سونے سے پہلے دعا کرو کہ اللہ مجھے سیدھے راستے پر لگا تو ہم بہن بھائی بھی بچپن میں یہی دعا کرتے تھے لیکن میری تعلیم ایچیسن میں ہوئی جہاں ہمارے رول ماڈل کوئی اور تھے جو ہمیں کہا گیا تھا سیدھا راستہ ہے اور جو رول ماڈل تھے، اس میں زمین و آسمان کا فرق تھا۔

انہوں نے کہا کہ فلمی اداکار، پوپ اسٹار، کھلاڑی اور گلیمرس والے لوگ تھے اور ان کی زندگیاں بالکل مختلف تھی جن کے بارے میں ہمیں کہا گیا تھا کہ سیدھے راستے پر چلا۔

ان کا کہنا تھا کہ سمجھنے کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ آج ہمارے نوجوانوں کے ساتھ یہی مسئلہ پڑا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ جب پہلی دفعہ انگلینڈ گیا تو 18 سال کا تھا تو وہاں جو ماحول دیکھا وہ زمان پارک سے بالکل مختلف ماحول تھا اور اس وقت جو رول ماڈل تھے ہم نے ان کی پیروی کی۔

وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ میں اس وقت تک نہیں سوتا تھا جب تک پورے دن کے کاموں کا جائزہ نہ لیتا تھا جو میں سمجھتا ہوں ایک صفت ہے، دن میں کیا کھویا کیا پایا، ہمیشہ اپنا تجزیہ کرتا تھا تو جو رول ماڈل تھے اور ان کو قریب سے دیکھا تو مجھے آہستہ آہستہ سمجھ آنی شروع ہوئی جو ہم نماز میں کہتے ہیں کہ اللہ ان کے راستے پر چلا جن کو آپ نے نعمتیں بخشی ہیں۔

عمران خان نے کہا کہ دنیا کا سب سے بڑا انقلاب 625 اور 636 اور 637 کے درمیان آیا تھا، یہ کبھی نہیں ہوتا لیکن اگر یورپ میں یہ ہوتا کتنی کتابیں لکھی جاتیں اور فلمیں بنی ہوتی۔

وزیراعظم نے کہا کہ مجھے اپنی زندگی میں اتنی دیر بعد پتہ چلا تو یہا بیٹھے ہوئے اکثر لوگوں کو یہ نہیں پتہ کہ کیا ہوا تھا، وہ دنیا کی تاریخ کا بہت فینومینا تھا، جس کو آپ سمجھ نہیں سکتے۔

انہوں نے کہا کہ 625 میں جنگ بدر میں 313 لوگ ہوتے ہیں، 636 اور 637 میں دو سپر پاورز نے 11 اور 12 سال میں گھٹنے ٹیک دیے، یہ کیا ہوا تھا، اس پر کوئی تحقیق ہوئی، کوئی ہمیں بتایا گیا، ہمارے بچوں کو پتہ ہے کہ ہوا کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ جب آپ اس کے پیچھے جائیں گے تو ایک چیز پتہ چلے گی کہ نبی ﷺ وہ شخصیت تھے جو یہ انقلاب لے کر آئے تھے، ایک تو ان کی شخصیت تھی دوسرا مدینے کی ریاست تھی جو ان کی سنت تھی، تو تب مجھے پتہ چلا کہ اللہ کیوں کہتے ہیں کہ ان کی زندگی سے سیکھو۔

انہوں نے کہا کہ اللہ ہمیں اس لیے حکم کر رہا ہے کہ اگر اپنے ملک کو مدینہ کی ریاست کے اصولوں پر کھڑا کروگے تو آپ کا ملک اٹھ جائے گا، آپ اگر ان کے کردار کو اپنانے کی کوشش کروگے تو آپ اوپر جائیں گے۔

تقریب سے خطاب کے دوران انہوں نے کہا کہ ہم ربیع الاول مناتے ہیں، پٹاخے اور آتش بازی کرتے ہیں، خوشیاں مناتے ہیں لیکن کیا ان کی زندگی پر ہم عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا نہیں کرتے، یہ ایسے ہی ہے کہ ہم قرآن مجید کو گھر میں رکھا ہوا اور سارے اس کو بڑے ادب سے اٹھا رہے ہیں پڑھ نہیں رہے ہیں کہ اس کے اندر کیا لکھا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضورﷺ کے لیے جان دینے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں لیکن ان کے کردار سے تو سیکھیں، کیا ان کے کردار پر چل رہے ہیں یا نہیں، اللہ کا حکم ہے کہ ان کی سنت پر عمل کرو۔

ان کا کہنا تھا کہ حضورﷺ کی ساری محنت انسانوں کے لیے تھی، دنیا کی بڑی جمہوریتیں ہیں وہاں کوئی یہ تصور کرسکتا ہے کہ خلیفہ وقت حضرت علی ایک یہودی شہری سے عدالت میں کیس ہار جاتے ہیں، حضرت علی کا مقام دیکھیں کتنا بڑا تھا لیکن جج کہتا ہے میں آپ کی بیٹی کی گواہی قبول نہیں کرتا، یہ انسانیت کا نظام تھا اور سب انسان برابر تھے، ایک یہودی کو بھی ملک کے سربراہ سے وہی انصاف مل رہا تھا۔

سیرت نبویﷺ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ انسانوں کو اکٹھا کرنےکا تصور تھا، قیادت کا پیمانہ دیا کہ ایک قائد انسانوں کو اکٹھا کرتا ہے، تقسیم نہیں کرتا نفرتیں پھیلا کر، یہ نہیں کہتا ہے کہ ہندو سب سے عظیم قوم ہے باقی سب نیچے ہیں، انصاف سارے انسانوں کے لیے ہے۔

انہوں نے کہا کہ جو پیغام وہ لے کر آئے تھے وہ سب سے بڑا تھا کہ انسان اکٹھے ہیں اور وہ رحمت اللعالمین ہے، پھر ان کو دیکھتے دیکھتے لوگ لیڈر بن گئے، اگر آپ 623 کے بعد مطالعہ کریں تو اتنے مختصر وقت میں اتنے بڑے لیڈر پیدا نہیں ہوئے، جو ان کودیکھتا تھا وہ لیڈر بن گیا۔

عمران خان کا کہنا تھا کہ حضرت بلال ایک غلام تھے لیکن انہوں نے دو مرتبہ عسکری مہم قیادت کی تھی تو سب ان کو دیکھ کر عظیم لوگ بن گئے۔ ان کا کہنا تھا کہ انصاف انسان کو آزاد کردیتا ہے، کمزور کو انصاف چاہیے، طاقت ور این آر او چاہتا ہے، کمزور طاقت ور سے تحفظ چاہیے اور جب آپ انصاف دیتے ہیں تو ایک معاشرے کو آزاد کردیتے ہیں، اس لیے دنیا میں جتنے بھی خوش حال ملک ہیں، ان میں قانون کی بالادستی ہے اور وہ اوپر چلے جاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تعلیم کی وجہ سے مسلمان بڑھے، پھر جتنے بڑے سائنس دان تھے ان کو دیکھ لیں وہ سارے زندگی اور قرآن پر تجزیہ تھا اور پھر وہ سائنس دان بھی تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ حضورﷺ کی شخصیت کی تین خصوصیات پہلی صادق اور امین، پھر انسانوں کو خوف سے آزاد کرادیا، جو انسان کو غلام بنادیتا ہے، میں یہ چاہتا ہوں یہ سارے ہمارے اسکولوں میں بچوں کو پتہ چلیں، یہ تاریخ کا حصہ ہے۔

عمران خان نے کہا کہ ہمارے ملک کے لیے یہ ناگزیر ہے کہ اگر ہم نے اپنے ملک کو اٹھانا ہے جب تک ان کی سنت پر نہیں چلیں گے یہ ملک نہیں اٹھ سکتا، یہ میرا ایمان ہے کیونکہ ہمارے اندر ایسے چیزیں آگئی ہیں جو ملک کو آگے جانے سے روک رہی ہیں۔

‘پہلی حکومت ہے جس نے انتخابی نظام بدلنے کیلئے کام کیا’

انہوں نے کہا کہ 1970 کے بعد جو ہارتا ہے وہ کہتا ہے دھاندلی ہوگئی لیکن یہ پہلی دفعہ ہے کہ حکومت نے فیصلہ کیا کہ اس نظام کو تبدیل کرتے ہیں، کیونکہ پہلے سارے دھاندلی کا شور کرتے ہیں لیکن حکومت میں آنے کے بعد کچھ نہیں کرتے، حکومت میں ہوتے ہیں تو دھاندلی کرنا آسان ہوجاتا ہے کیونکہ آپ کے پاس پیسہ ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم نے جائزہ لیا تو جیسے ووٹنگ ختم ہوتی ہے اس کے بعد رزلٹ کے اعلان تک ساری دھاندلی ہوتی ہے، سپریم کورٹ نے 2015 میں جوڈیشل کمیشن بنایا تھا، اس میں یہی بات سامنے آئی تھی، اس کو ختم کرنے کے لیے ای وی ایم مشین اور ٹیکنالوجی لے کر آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہی لوگ جو دھاندلی کا شور کر رہے ہیں وہ کہتے ہیں ٹیکنالوجی نہیں لاؤ، میری پوری کوشش ہے الیکشن میں بھی نیوٹرل امپائر کی طرح کام کروں، یہاں ہم کیوں نہیں کرسکتے کیونکہ اگلے دھاندلی کرتے ہیں وہ چاہتے نہیں ہیں کہ نظام تبدیل ہو۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم اپنے نوجوانوں کی تربیت کریں گے تو یہ مقابلہ کریں گے کہ جو ملک کی اخلاقیات نیچے چلی گئی ہے، خاص طور پر وہ لوگ جو اقتدار میں آکر چوری کرتے ہیں تو سارے ملک کی اخلاقیات نیچے چلی جاتی ہے۔

‘فحاشی پر بات کریں تو شور مچادیا جاتا ہے’

عمران خان نے کہا کہ دوسری بات ہے فحاشی کی، جب انسان فحاشی کی بات کرتا ہے تو یہاں ایک طبقہ ہے، کہتا وہ اپنے آپ کو لبرل ہے، وہ شور مچادیتا ہے کہ کتنا بڑا ظلم ہوگیا، پتہ نہیں ہمیں پیچھے لے کر جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پردہ صرف عورت یا مرد کے کپڑوں کی بات نہیں ہے بلکہ ایک مجموعی تصور ہے کہ معاشرے میں خاندان کے نظام کو بچانے کے لیے کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جیسے یہاں مغربی اثرات پڑ رہے ہیں تو یہاں بیٹھے لوگ مغربیت کو اپنا لیتے ہیں لیکن ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ اس کے کیا اثرات ہوتے ہیں، ہمارے یہاں اسکالر شپ ہونی چاہیے تھی کہ اس کے اثرات کیا ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ جہاں 14 شادیوں میں ایک طلاق ہوتی تھی، دیکھتے دیکھتے آج 70 فیصد شادیوں کی طلاق ہوتی ہے، میں نے خود دیکھا کہ طلاق پر بربادی بچوں پر آتی ہے کیونکہ بچوں کو ماں باپ چاہیئں۔

3 ربیع الاول سے 13 ربیع الاول کے پروگراموں کی پہلی کڑی ہے، نورالحق قادری

وفاقی وزیر مذہبی امور نورالحق قادری نے کہا کہ 3 ربیع الاول سے 13 ربیع الاول نے پروگرام ہوں گے اور یہ پروگرام اسی سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضورﷺ کی دنیا میں تشریف آوری کو پاکستان کے عوام روایتی احترام سے مناتی ہے لیکن حکومت پاکستان کا صرف رسمی سا تعلق رہا لیکن اس مرتبہ وزیراعظم عمران خان خود اس مہم کی قیادت کر رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ ایک مہینے میں متعدد بات بذات خود اپنے ملیٹری سیکریٹری اور اسٹاف کے ذریعے انتظامات اور تقریبات کے حوالے سے معلومات رہتے رہے جو عالم اسلام اور اس ملک کے لیے بھی انتہائی نیک شگون ہے۔

سیرت طیبہ پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کوئی مسلمان ابدی سعادت اور نجات چاہتا ہے تو اس کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے کہ حضورﷺ کی زندگی کو پڑھے اور اس کی پیروی کرے، نجات اور ابدی سعادت کے لیے سیرت نبوی کا مطالعہ اور سنت پر عمل نجات کا ذریعہ ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان نے کابینہ کے تمام اراکین کو محسنِ پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی نمازِ جنازہ میں شرکت کی ہدایت کی ہے جبکہ ان کے انتقال پر قومی پرچم سرنگوں رہے گا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آرمی چیف جنرل جاوید باجوہ سمیت بحریہ اور فضائیہ کے اعلیٰ افسران بھی نماز جنازہ میں شریک ہوں گے۔

شیخ رشید نے بتایا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر کی صاحبزادی سے فون پر تفیصلی بات ہوئی ہے اور مرحوم اور ان کے لواحقین کی جانب سے 2 بجے فیصلے کے بعد تدفین کا تعین ہوگا جبکہ فیصل مسجد میں ساڑھے 3 بجے نماز جنازہ ادا کی جائے گی۔

انہوں نے سیکیورٹی انتظامات سے متعلق کہا کہ کمشنر اسلام آباد، پولیس، رینجرز اور ایف سی کو سیکیورٹی کے انتظامات کا جائزہ لینے اور بروقت انتظام پورے کرنے کی ہدایت کردی ہے۔

وفاقی وزیر نے ڈاکٹر عبدالقدیر کی تدفین کے انتظامات کے بارے میں بتایا کہ فیصل مسجد کے احاطے اور ایچ 8 میں سے کسی ایک جگہ تدفین ہوگی کیونکہ ڈاکٹر عبدالقدیر کی بیٹی نے اپنی والدہ سے بات کرکے بتایا کہ انہوں نے ایچ 8 میں اتنظامات کیے ہیں۔

شیخ رشید نے بتایا کہ جو ان کی فیملی فیصلہ کرے گی اس کا احترام کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ پوری قوم ڈاکٹر عبدالقدیر کے وفات پر غمزدہ ہے اور پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ان کی تدفین کی جائے گی۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نماز جنازہ میں عوام کو شرکت کی اجازت ہوگی۔

وفاقی وزیر داخلہ نے بتایا کہ وزیراعظم عمران خان کی ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے نماز جنازہ میں شرکت کی کوئی اطلاع نہیں ہے لیکن اگر ہوتی بھی تو سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر نہیں بتا سکتا تھا۔

خیال رہے کہ پاکستان کے نامور سائنسدان اور ایٹمی پروگرام کے بانی ڈاکٹر عبدالقدیر خان طویل علالت کے باعث 85 برس کی عمر میں 10 اکتوبر (آج) انتقال کر گئے ہیں۔

ریڈیو پاکستان کی رپورٹ کے مطابق آج صبح طبیعت بگڑنے پر انہیں مقامی ہسپتال منتقل کیا گیا تھا۔

خاندانی ذرائع نے بتایا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے انتقال کی وجہ ان کے پھیپھڑوں کا عارضہ بنا، کورونا وائرس سے متاثر ہونے کی وجہ سے ان کے پھیپھڑے کافی حد تک ختم ہوچکے تھے۔

منبع: ڈان نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے